سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ فَرَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
باب: مجلس سے اٹھ کر جانے والا پھر واپس آ جائے تو وہ اپنی جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 3717
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ , فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر چلا جائے، پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ (پر بیٹھنے) کا زیادہ حقدار ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3717]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے، پھر واپس آ جائے تو وہ اس (جگہ) کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12621، ومصباح الزجاجة: 1298)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 12 (2179)، سنن ابی داود/الأدب 30 (4853)، مسند احمد (2/342، 527)، سنن الدارمی/الإستئذان 25 (2696) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
23. بَابُ: الْمَعَاذِيرِ
باب: عذر و معذرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3718
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ مِينَاءَ , عَنْ جُودَانَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ بِمَعْذِرَةٍ فَلَمْ يَقْبَلْهَا , كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ" ,
جوذان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی سے معذرت کرے، اور پھر وہ اسے قبول نہ کرے تو اسے اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا محصول (ٹیکس) وصول کرنے والے کو اس کی خطا پر ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3718]
حضرت جودان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی سے (کسی غلطی پر) معذرت کی، اور اس نے قبول نہ کی، اس پر (ناجائز) ٹیکس وصول کرنے والے جتنا گناہ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3271، ومصباح الزجاجة: 1299) (ضعیف)» (سند میں جوذان کو شرف صحبت حاصل نہیں، بلکہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل وابن جريج عنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510
إسناده ضعيف
السند مرسل وابن جريج عنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510
حدیث نمبر: 3718M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مِينَاءَ , عَنْ جُودَانَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3718M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3271)، ومصباح الزجاجة: 1300) (ضعیف)» (جوذان صحابی نہیں، بلکہ مجہول روای ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
24. بَابُ: الْمِزَاحِ
باب: مزاح (ہنسی مذاق) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3719
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . ح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ:" خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ , وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ , وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ , وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا , وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ , وَكَانَ سُوَيْبِطُ رَجُلًا مَزَّاحًا , فَقَالَ لِنُعَيْمَانَ: أَطْعِمْنِي , قَالَ: حَتَّى يَجِيءَ أَبُو بَكْرٍ , قَالَ: فَلَأُغِيظَنَّكَ , قَالَ: فَمَرُّوا بِقَوْمٍ , فَقَالَ لَهُمْ سُوَيْبِطٌ: تَشْتَرُونَ مِنِّي عَبْدًا لِي , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: إِنَّهُ عَبْدٌ لَهُ كَلَامٌ وَهُوَ قَائِلٌ لَكُمْ إِنِّي حُرٌّ , فَإِنْ كُنْتُمْ إِذَا قَالَ لَكُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ , تَرَكْتُمُوهُ فَلَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ عَبْدِي , قَالُوا: لَا , بَلْ نَشْتَرِيهِ مِنْكَ , فَاشْتَرَوْهُ مِنْهُ بِعَشْرِ قَلَائِصَ , ثُمَّ أَتَوْهُ فَوَضَعُوا فِي عُنُقِهِ عِمَامَةً أَوْ حَبْلًا , فَقَالَ نُعَيْمَانُ: إِنَّ هَذَا يَسْتَهْزِئُ بِكُمْ وَإِنِّي حُرٌّ لَسْتُ بِعَبْدٍ , فَقَالُوا: قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ , فَانْطَلَقُوا بِهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ , قَالَ: فَاتَّبَعَ الْقَوْمَ وَرَدَّ عَلَيْهِمُ الْقَلَائِصَ , وَأَخَذَ نُعَيْمَانَ , قَالَ: فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرُوهُ , قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مِنْهُ حَوْلًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے بصریٰ تجارت کے لیے گئے، ان کے ساتھ نعیمان اور سویبط بن حرملہ (رضی اللہ عنہما) بھی تھے، یہ دونوں بدری صحابی ہیں، نعیمان رضی اللہ عنہ کھانے پینے کی چیزوں پر متعین تھے، سویبط رضی اللہ عنہ ایک پر مذاق آدمی تھے، انہوں نے نعیمان رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آنے دیجئیے، سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں غصہ دلا کر پریشان کروں گا، پھر وہ لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو سویبط رضی اللہ عنہ نے اس قوم کے لوگوں سے کہا: تم مجھ سے میرے ایک غلام کو خریدو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سویبط رضی اللہ عنہ کہنے لگے: وہ ایک باتونی غلام ہے وہ یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں، تم اس کی باتوں میں آ کر اسے چھوڑ نہ دینا، ورنہ میرا غلام خراب ہو جائے گا، انہوں نے جواب دیا: وہ غلام ہم تم سے خرید لیں گے، الغرض ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض وہ غلام خرید لیا، پھر وہ لوگ نعیمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان کی گردن میں عمامہ باندھا یا رسی ڈالی تو نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے (یعنی سویبط نے) تم سے مذاق کیا ہے، میں تو آزاد ہوں، غلام نہیں ہوں، لوگوں نے کہا: یہ تمہاری عادت ہے، وہ پہلے ہی بتا چکا ہے (کہ تم باتونی ہو)، الغرض وہ انہیں پکڑ کر لے گئے، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو لوگوں نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی، وہ اس قوم کے پاس گئے اور ان کے اونٹ دے کر نعیمان کو چھڑا لائے، پھر جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مدینہ) آئے تو آپ اور آپ کے صحابہ سال بھر اس واقعے پر ہنستے رہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3719]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے (کا واقعہ ہے کہ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تجارت کے لیے بصریٰ روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ حضرت نعیمان اور حضرت سویبط بن حرملہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ یہ دونوں حضرات غزوہ بدر میں شریک تھے۔ حضرت سویبط رضی اللہ عنہ زادِ راہ (کھانے پینے کے سامان) کے ذمہ دار تھے۔ نعیمان رضی اللہ عنہ بہت مزاحیہ طبیعت کے تھے۔ انہوں نے سویبط رضی اللہ عنہ سے کہا: ”مجھے کھانا دیجیے۔“ انہوں نے کہا: ”حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں (ان کی اجازت سے دوں گا۔)“ نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”(تم نے مجھے کھانا نہیں دیا، اس لیے) میں آپ کو پریشان کروں گا۔“ (اس کے بعد سفر کے دوران میں) ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا۔ نعیمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا: ”کیا تم لوگ مجھ سے میرا ایک غلام خریدو گے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”وہ غلام ذرا باتونی ہے، وہ تم سے کہے گا: میں آزاد ہوں۔ اگر اس کی یہ بات سن کر تم نے اسے چھوڑ دینا ہے تو (ابھی سے خریدنے سے انکار کر دو اور) میرے غلام کا معاملہ خراب نہ کرو۔“ انہوں نے کہا: ”نہیں، ہم آپ سے وہ غلام خریدیں گے (اور سودا منسوخ نہیں کریں گے۔)“ چنانچہ ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض ان (نعیمان رضی اللہ عنہ) سے انہیں (سویبط رضی اللہ عنہ کو غلام سمجھ کر) خرید لیا۔ پھر آ کر ان کے گلے میں پگڑی یا رسی ڈال دی (اور انہیں قابو کر لیا۔) سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ شخص (نعیمان رضی اللہ عنہ) آپ لوگوں سے مذاق کر رہا ہے، میں تو آزاد ہوں، غلام نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اس نے ہمیں (پہلے ہی) یہ بات بتا دی تھی (کہ تم آزاد ہونے کا دعویٰ کرو گے۔)“ چنانچہ وہ لوگ انہیں پکڑ کر لے گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور لوگوں نے انہیں یہ واقعہ بتایا۔ انہوں نے قافلے والوں کے پیچھے جا کر ان کی اونٹنیاں واپس کیں اور سویبط رضی اللہ عنہ کو (ان سے) واپس لیا۔ جب یہ حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ کو بھی یہ پورا قصہ سنایا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک سال تک اس واقعہ کو یاد کر کے ہنستے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18189، ومصباح الزجاجة: 1301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/316) (ضعیف)» (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، اور اس کے دوسرے طریق میں نعیمان، سویبط کی جگہ ہے، اور سوبیط، نعیمان کی جگہ پر اور یہ بھی ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زمعة: ضعيف
ومن أجله ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510
إسناده ضعيف
زمعة: ضعيف
ومن أجله ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510
حدیث نمبر: 3720
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا , حَتَّى يَقُول لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ , مَا فَعَلَ النُّغَيْ؟" , قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي طَيْرًا كَانَ يَلْعَبُ بِهِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے (یعنی بچوں سے) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ” «يا أبا عمير ما فعل النغير» اے ابوعمیر! تمہارا وہ «نغیر» (پرندہ) کیا ہوا؟“ وکیع نے کہا «نغیر» سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابوعمیر کھیلا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3720]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بے تکلفی کا اظہار فرماتے تھے حتیٰ کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ”اے ابو عمیر! «نُغَيْرُ» کا کیا بنا؟““ امام وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” «نُغَيْرُ» ایک پرندہ تھا جس سے وہ بچہ کھیلتا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 81 (6129)، صحیح مسلم/الآداب 5 (2150)، سنن ابی داود/الصلاة 92 (658)، سنن الترمذی/الصلاة 131 (333)، (تحفة الأشراف: 1692)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 171، 190، 212، 270) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
25. بَابُ: نَتْفِ الشَّيْبِ
باب: سفید بال اکھیڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3721
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ , وَقَالَ:" هُوَ نُورُ الْمُؤْمِنِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ ”وہ مومن کا نور ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3721]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے کے (سفید) بال اکھاڑنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”وہ مومن کا نور ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 59 (2821)، (تحفة الأشراف: 8783)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الترجل 17 (4202)، سنن النسائی/الزینة 13 (5071)، مسند احمد (2/206، 207، 212) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
26. بَابُ: الْجُلُوسِ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ
باب: دھوپ اور سایہ کے بیچ میں بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ أَبِي الْمُنِيبِ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُقْعَدَ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3722]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کچھ سائے اور کچھ دھوپ میں بیٹھنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1988، ومصباح الزجاجة: 1302) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس طرح بیٹھنے سے کہ بدن کا ایک حصہ دھوپ میں رہے، اور ایک حصے پر سایہ، اس لئے کہ یہ امر طبی طور پر مضر ہے اور بیماری پیدا کرتا ہے، اور یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے، نہ کہ تحریمی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
27. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الاِضْطِجَاعِ عَلَى الْوَجْهِ
باب: اوندھے منہ لیٹنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَصَابَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ:" مَا لَكَ وَلِهَذَا النَّوْمِ , هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ".
طخفہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل (اوندھے منہ) سویا ہوا پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلا کر فرمایا: ”تم اس طرح کیوں سو رہے ہو؟ یہ سونا اللہ کو ناپسند ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3723]
حضرت طخفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل سوئے ہوئے پایا تو مجھے قدم مبارک سے ٹہوکا دیا اور فرمایا: ”اس انداز سے کیوں سوتے ہو؟ سونے کا یہ انداز اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 103 (5040)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (صحیح) (ملاحظہ ہو: المشکاة: 4718 - 4719 - 4731)»
وضاحت: پیٹ کے بل لیٹنا ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3724
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ , وَقَالَ:" يَا جُنَيْدِبُ , إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا: ” «جنيدب» ! (یہ ابوذر کا نام ہے) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3724]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، میرے پاس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو مجھے قدم مبارک سے ٹھوکا دے کر فرمایا: ”پیارے جندب! یہ اہل جہنم کے لیٹنے کا انداز ہے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11926، ومصباح الزجاجة: 1303) (صحیح)» (سند میں محمد بن نعیم میں کلام ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر» (سورة القمر: 48) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3725
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ , عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ نَائِمٍ فِي الْمَسْجِدِ مُنْبَطِحٍ عَلَى وَجْهِهِ , فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ , وَقَالَ:" قُمْ وَاقْعُدْ , فَإِنَّهَا نَوْمَةٌ جَهَنَّمِيَّةٌ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جو اوندھے منہ مسجد میں سو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیر سے ہلا کر فرمایا: ”اٹھ کر بیٹھو، اس طرح سونا جہنمیوں کا سونا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3725]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو مسجد میں چہرے کے بل لیٹ کر سو رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قدم مبارک سے ٹھوکا دیا اور فرمایا: ”اٹھ کر بیٹھ! یہ جہنمیوں کے انداز کی نیند ہے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4913، ومصباح الزجاجة: 1304) (ضعیف)» (سند میں یعقوب، سلمہ اور ولید سب ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن