سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ: رَدِّ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمیوں کے سلام کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3697
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ , فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم (جواب میں صرف) «وعليكم» کہو (یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3697]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تمہیں سلام کہے تو (جواب میں) کہو: «وَعَلَيْكُمْ» ”تم پر بھی ہو۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1227)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإستئذان 22 (6258)، استتابة المرتدین 4 (6926)، صحیح مسلم/السلام 4 (2163)، سنن ابی داود/الأدب 149 (5207)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 58 (3301)، مسند احمد (3/140، 144، 192، 214، 243، 262، 289) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ , فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ , فَقَالَ:" وَعَلَيْكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے، اور کہا: «السام عليك يا أبا القاسم» ”اے ابوالقاسم تم پر موت ہو“، تو آپ نے (جواب میں صرف) فرمایا: «وعليكم» اور تم پر بھی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3698]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: «اَلسَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ» ”ابوالقاسم! آپ پر سام ہو، یعنی موت ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكُمْ» ”تم پر بھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 4 (2165)، (تحفة الأشراف: 17641)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 98 (2935)، والأدب 35 (6024)، الاستئذان 22 (6256)، الدعوات 57 (6391)، الاستتابة المرتدین 4 (6927)، سنن الترمذی/الاستئذان 12 (271)، مسند احمد (6/229) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابو القاسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے۔
۲؎: یہ ان یہودیوں کی شرارت تھی کہ «سلام» کے بدلے «سام» کا لفظ استعمال کیا، «سام» کہتے ہیں موت کو تو «السام علیک» کے معنی یہ ہوئے کہ تم مرو، اور ہلاک ہو، جو بدعا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعلیک» فرمایا، یعنی تم ہی مرو، جب کوئی کافر سلام کرے، تو جواب میں صرف «وعلیک» کہے۔
۲؎: یہ ان یہودیوں کی شرارت تھی کہ «سلام» کے بدلے «سام» کا لفظ استعمال کیا، «سام» کہتے ہیں موت کو تو «السام علیک» کے معنی یہ ہوئے کہ تم مرو، اور ہلاک ہو، جو بدعا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعلیک» فرمایا، یعنی تم ہی مرو، جب کوئی کافر سلام کرے، تو جواب میں صرف «وعلیک» کہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3699
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى الْيَهُودِ , فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ , فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ , فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ".
ابوعبدالرحمٰن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کل سوار ہو کر یہودیوں کے پاس جاؤں گا، تو تم خود انہیں پہلے سلام نہ کرنا، اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم جواب میں «وعليكم» کہو (یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3699]
حضرت ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کل یہودیوں کے پاس جاؤں گا۔ انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرنا۔ جب وہ تمہیں سلام کہیں تو (جواب میں) کہنا: «وَعَلَيْكُمْ» ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12068، ومصباح الزجاجة: 1291)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/233) (صحیح)» (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اگر انہوں نے «سلام» کا لفظ ادا کیا تو «وعلیکم» کا مطلب یہ ہو گا کہ تم پر بھی «سلام» اور اگر شرارت سے «سام» کا لفظ کہا تو «سام» یعنی موت ہی ان پر لوٹے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
14. بَابُ: السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ
باب: بچوں اور عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، (اس وقت) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3700]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں سلام کہا جبکہ ہم اس وقت بچے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 686)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 15 (6247)، صحیح مسلم/السلام 7 (2168)، سنن ابی داود/الأدب 147 (5202)، سنن الترمذی/الاستئذان 8 (2696)، مسند احمد (3/169)، سنن الدارمی/الاستئذان 8 (2678) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3701
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , قَالَ: سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , يَقُولُ: أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ , قَالَتْ:" مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3701]
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم چند عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 148 (5204)، سنن الترمذی/الاستئذان 9 (2697)، (تحفة الأشراف: 15766)، وقد أخرجہ: (حم 6/452، 457، سنن الدارمی/الإستئذان 9 (2679) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اجنبی عورت کو سلام کرنا جائز ہے، شرط یہ ہے کہ وہ کئی عورتیں ہوں، ہاں اگر عورت اکیلی ہو اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو تو فتنے کے خدشے کی وجہ سے سلام نہ کرنا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
15. بَابُ: الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ (یعنی ہاتھ ملانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3702
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّدُوسِيِّ ,، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنْحَنِي بَعْضُنَا لِبَعْضٍ؟ قَالَ:" لَا" , قُلْنَا: أَيُعَانِقُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ:" لَا وَلَكِنْ تَصَافَحُوا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا (ملاقات کے وقت) ہم ایک دوسرے سے جھک کر ملیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر ہم نے عرض کیا: کیا ہم ایک دوسرے سے معانقہ کریں (گلے ملیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مصافحہ کیا کرو“ (ہاتھ سے ہاتھ ملاؤ)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3702]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ایک دوسرے کے لیے (احترام کے اظہار کے لیے) جھکا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ہم نے کہا: ”کیا ہم ایک دوسرے سے معانقہ کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ لیکن مصافحہ کر لیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإستئذان 31 (2728)، (تحفة الأشراف: 822)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/198) (حسن)» (سند میں حنظلہ ضعیف ہے، لیکن معانقہ کے جملہ کے بغیر یہ دوسری سند سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 160)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2728)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
ترمذي (2728)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
حدیث نمبر: 3703
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَجْلَحِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور مصافحہ کرتے (ہاتھ ملاتے) ہیں، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3703]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ایک دوسرے سے رخصت ہونے سے پہلے ان کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 153 (5212)، سنن الترمذی/الإستئذان31 (2727)، (تحفة الأشراف: 1799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/289، 303) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الصحیحة: 525 - 526)»
وضاحت: ۱؎: ملاقات کے وقت صحیح اسلامی طریقہ سلام کرنا اور آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا اور ہاتھ ملانا ہے، آج کل غیر اسلامی تہذیب اور رسم ورواج سے متاثر ہو کر مسلمان ملاقات کے وقت صحیح طریقے کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے سامنے جھکتے ہیں، جو سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے، اسلام میں قدم بوسی، فرشی سلام اور پاؤں چھونا اورکسی کے سامنے رکوع سجود ہونا ممنوع ہے، اور یہ سب کام تقلید و تشبہ کے جذبہ سے کیے جائیں تو ان کی برائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5212) ترمذي (2727)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5212) ترمذي (2727)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
16. بَابُ: الرَّجُلِ يُقَبِّلُ يَدَ الرَّجُلِ
باب: ملاقات کے وقت ہاتھ چومنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3704
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" قَبَّلْنَا يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ چوما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3704]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 106 (2647)، الأدب 159 (5223)، سنن الترمذی/الجہاد 36 (1716)، (تحفة الأشراف: 7298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/23، 58، 70، 86، 99، 100، 110) (ضعیف)» (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: مقدمہ تحقیق ریاض الصالحین للالبانی و نقد نصوص حدیثیہ: ص14 - 15)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2647،5223)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2647،5223)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510
حدیث نمبر: 3705
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , وَغُنْدَرٌ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ," أَنَّ قَوْمًا مِنْ الْيَهُودِ قَبَّلُوا يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيْهِ".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3705]
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”یہودیوں کے چند افراد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو اور دونوں قدموں کو بوسہ دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 33 (2733)، (تحفة الأشراف: 4951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/239) (ضعیف)» (سند میں عبداللہ بن سلمہ ہیں، جن کی حدیث کی متابعت نہیں کی جائے گی)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
17. بَابُ: الاِسْتِئْذَانِ
باب: (گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے) اجازت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3706
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ," أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا , فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَانْصَرَفَ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ مَا رَدَّكَ , قَالَ:" اسْتَأْذَنْتُ الِاسْتِئْذَانَ الَّذِي أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا , فَإِنْ أُذِنَ لَنَا دَخَلْنَا , وَإِنْ لَمْ يُؤْذَنْ لَنَا رَجَعْنَا" , قَالَ: فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ , فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ فَنَاشَدَهُمْ , فَشَهِدُوا لَهُ فَخَلَّى سَبِيلَهُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور بلا کر پوچھا کہ آپ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ویسے ہی تین مرتبہ اجازت طلب کی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگر ہمیں تین دفعہ میں اجازت دے دی جائے تو اندر چلے جائیں ورنہ لوٹ جائیں، تب انہوں نے کہا: آپ اس حدیث پر گواہ لائیں ورنہ میں آپ کے ساتھ ایسا ایسا کروں گا یعنی سزا دوں گا، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی مجلس میں آئے، اور ان کو قسم دی (کہ اگر کسی نے یہ تین مرتبہ اجازت طلب کرنے والی حدیث سنی ہو تو میرے ساتھ اس کی گواہی دے) ان لوگوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا کر گواہی دی تب عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو چھوڑا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3706]
حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اندر آنے کی تین بار اجازت طلب کی۔ انہیں اجازت نہ ملی، چنانچہ وہ واپس ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہلوا بھیجا: ”آپ واپس کیوں چلے گئے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے آپ سے اس انداز سے تین بار اجازت طلب کی تھی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے: (اس طرح اجازت طلب کرنے کے بعد) اگر ہمیں اجازت ملے تو داخل ہوں اور اگر ہمیں اجازت نہ دی جائے تو پلٹ جائیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم (اپنے) اس (بیان) پر گواہ پیش کرو گے ورنہ میں تمہیں ضرور سزا دوں گا۔“ وہ اپنی قوم کی مجلس میں آئے اور ان سے (گواہی دینے کی) درخواست کی، انہوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے حق میں گواہی دی تو (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) انہیں چھوڑ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4323)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 9 (2062)، الاستئذان 13 (6245)، صحیح مسلم/الأدب 7 (2153)، سنن ابی داود/الأدب 138 (5180)، سنن الترمذی/الاستئذان 3 (2690)، موطا امام مالک/الاستئذان 1 (3)، سنن الدارمی/الاستئذان 1 (2671) (صحیح)»
وضاحت: ۱ ؎: «استئندان» کیا ہے؟ ایک یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر تین بار بلند آواز سے «السلام علیکم» کہے، اور پوچھے کہ فلاں شخص یعنی اپنا نام لے کر بتائے کہ اندر داخل ہو یا نہیں؟ اگر تینوں بار میں گھر والا جواب نہ دے تو لوٹ آئے، لیکن بغیر اجازت کے اندر گھسنا جائز نہیں ہے، اور یہ ضروری اس لئے ہے کہ آدمی اپنے مکان میں کبھی ننگا کھلا ہوتا ہے،کبھی اپنے بال بچوں کے ساتھ ہوتا ہے، اگر بلا اجازت اندر داخل ہونا جائز ہو تو بڑی خرابی ہو گی، اب یہ مسئلہ عام تہذیب اور اخلاق میں داخل ہو گیا ہے کہ کسی شخص کے حجرہ یا مکان میں بغیر اجازت لئے اور بغیر اطلاع دئیے لوگ نہیں گھستے، اور جو کوئی اس کے خلاف کرے اس کو بے ادب اور بے وقوف جانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح