🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ: شِدَّةِ الزَّمَانِ
باب: زمانہ کی سختی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4035
حَدَّثَنَا غِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ , أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ , يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبِّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4035]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: دنیا میں صرف آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11457، ومصباح الزجاجة: 1422)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/94) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4036
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ , يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ , وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ , وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ , وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ , وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ , قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4036]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگوں پر دھوکے سے بھر پور سال آئیں گے۔ ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا۔ بد دیانت کو امانت دار سمجھا جائے گا اور دیانت دار کو بد دیانت کہا جائے گا اور «الرُّوَيْبِضَةُ» رُوَیْبِضَہ باتیں کریں گے۔ کہا گیا: «الرُّوَيْبِضَةُ» رُوَیْبِضَہ (کا مطلب) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر آدمی جو عوام کے معاملات میں رائے دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12950، ومصباح الزجاجة: 1423)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/291) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن قدامہ ضعیف، اور اسحاق بن أبی الفرات مجہول ہیں، لیکن مسند احمد 2 / 338 کے طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور انس رضی اللہ عنہ کی حدیث مسند احمد 3/220، سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الملك بن قدامة الجمحي ضعيف (تقريب: 4204) و روي أحمد (2/ 338 ح 8459) بسند حسن عن سعيد بن عبيد بن السباق (ثقة تابعي) عن أبي ھريرة قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((قبل الساعة سنون خدّاعة،يكذّب فيھا الصادق و يصدّق فيھا الكاذب ويخوّن فيھا الأمين و يؤتمن فيھا الخائن و ينطق فيھا الرويبضة (وفي رواية سريج): و ينظر فيھا للرويبضة)) وھو يغني عنه۔وقال ابن الأثير في الرويبضة: ’’ تصغير الرابضة وھو العاجز الذي ربض عن معالي الأمور و قعد عن طلبھا ‘‘ (النهاية في غريب الحديث والأثر 2/ 185)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4037
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيل الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ , فَيَتَمَرَّغَ عَلَيْهِ , وَيَقُولَ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ , وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبَلَاءُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک آدمی قبر پر جا کر نہ لوٹے، اور یہ تمنا نہ کرے کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا، اس کا سبب دین و ایمان نہیں ہو گا، بلکہ وہ دنیا کی بلا اور فتنے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4037]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ (یہ نوبت آجائے گی کہ) آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے گا تو اس پر گر پڑے گا اور کہے گا: «يَا لَيْتَنِي مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ» کاش! میں اس قبر والے کی جگہ (مر کر دفن ہو چکا) ہوتا۔ وہ دین (کے بارے میں پیش آنے والی مشکلات) کی وجہ سے ایسے نہیں کرے گا بلکہ (دنیوی) مشکلات کی وجہ سے کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 18 (157)، (تحفة الأشراف: 13393)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن 22 (7115)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (53) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ يُونُسَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ يَعْنِي: مَوْلَى مُسَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتُنْتَقَوُنَّ كَمَا يُنْتَقَى التَّمْرُ مِنْ أَغْفَالِهِ , فَلْيَذْهَبَنَّ خِيَارُكُمْ وَلَيَبْقَيَنَّ شِرَارُكُمْ , فَمُوتُوا إِنِ اسْتَطَعْتُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے چن لیے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مر جانا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4038]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح چن لیے جاؤ گے جس طرح نکمی اور ردی کھجوروں میں سے (عمدہ) کھجوریں چن (کر اٹھا) لی جاتی ہیں۔ اچھے لوگ (دنیا سے) چلے جائیں گے اور برے لوگ رہ جائیں گے، پس اگر تم سے ہو سکے تو مر جانا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14878، ومصباح الزجاجة: 1424) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو حمید مجہول راوی ہیں، لیکن اصل حدیث رویفع بن ثابت کے شاہد سے تقویت پاکر صحیح ہے، جس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، آخری جملہ «فموتوا إن استطعتم» ضعیف ہے، اس لئے کہ اس کا شاہد نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف بهذا التمام وهو ثابت دون قوله فموتوا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن شھاب الزهري عنعن
و روي البخاري (6434) عن مرداس الأسلمي رضي اللّٰه عنه قال قال النبي ﷺ: ((يذھب الصالحون الأول فالأول و يبقي حفالة الشعير أوالتمر،لا يباليھم اللّٰه بالة)) وھو يغني عنه وانظر صحيح ابن حبان (الموارد: 1832)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4039
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ , عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً , وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا , وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا , وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ , وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4039]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاملہ ہمیشہ سخت سے سخت ہوتا چلا جائے گا، دنیا پیچھے ہٹتی چلی جائے گی، لوگوں میں بخل ہی زیادہ ہوتا جائے گا، قیامت محض بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی اور عیسیٰ ابن مریم کے سوا کوئی مہدی نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 541، ومصباح الزجاجة: 1425) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن خالد الجندی ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن «ولا تقوم الساعة إلا على شرار الناس» کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا إلا جملة الساعة فصحيحة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه علل: الحسن عنعن
الجندي لم يثبت توثيقه عن ابن معين،الإختلاف في السند،أبان لم يسمع من الحسن ولبعض الحديث شواهد ضعيفة،والمهدي (خليفة المسلمين) غير عيسي بن مريم كما جاء في الأحاديث المتواترة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: أَشْرَاطِ السَّاعَةِ
باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4040
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ" وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4040]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 39 (6505)، (تحفة الأشراف: 12847) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی امت محمدیہ کے بعد قیامت تک اور کوئی امت حقہ نہ ہو گی اور اسلام ہی کے خاتمہ پر دنیا کا بھی خاتمہ ہے، اس حدیث سے یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں فاصلہ نہیں ہے جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور اپنے خیال کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کئے ہوئے چودہ سو برس سے زیادہ گزرے لیکن ابھی تک قیامت نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی بڑی نشانی ظاہر ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4041
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ , عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ , قَالَ: اطَّلَعَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ , فَقَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ: الدَّجَّالُ , وَالدُّخَانُ , وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا".
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں گی قیامت قائم نہ ہو گی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4041]
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالائی کمرے سے جھانک کر ہمیں دیکھا جب کہ ہم قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت نہیں آئے گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: دجال، دھواں اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 13 (2901)، سنن ابی داود/الملاحم 12 (4311)، سنن الترمذی/الفتن 21 (2183)، (تحفة الأشراف: 3297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/6، 7) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث مکرر ہے، اور بہ تمام وکمال: 4055 نمبر پر آرہی ہے)
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں صرف تین ہی نشانیاں بیان ہوئی ہیں، یہ حدیث مختصر ہے، پوری روایت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ہے جسے مولف دو باب کے بعد بیان کریں گے، اس میں دس نشانیاں مذکور ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4042
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ , حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ , فَجَلَسْتُ بِفِنَاءِ الْخِبَاءِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْخُلْ يَا عَوْفُ" , فَقُلْتُ: بِكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُلِّكَ" , ثُمَّ قَالَ:" يَا عَوْفُ , احْفَظْ خِلَالًا سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ , إِحْدَاهُنَّ مَوْتِي" , قَالَ: فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً , فَقَالَ:" قُلْ: إِحْدَى , ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , ثُمَّ دَاءٌ يَظْهَرُ فِيكُمْ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ ذَرَارِيَّكُمْ وَأَنْفُسَكُمْ وَيُزَكِّي بِهِ أَموَالَكُمْ , ثُمَّ تَكُونُ الْأَمْوَالُ فِيكُمْ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ سَاخِطًا , وَفِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ لَا يَبْقَى بَيْتُ مُسْلِمٍ إِلَّا دَخَلَتْهُ , ثُمَّ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ هُدْنَةٌ , فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ , فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عوف! اندر آ جاؤ، میں نے عرض کیا: پورے طور سے، اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پورے طور سے، پھر آپ نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے ایک میری موت ہے، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو ایک، دوسری بیت المقدس کی فتح ہے، تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہو گی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا، چوتھی تم میں مال کی کثرت ہو گی حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہو گا، پانچویں تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہو گا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو، چھٹی تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہو گی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4042]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوۂ تبوک کے دوران میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ میں خیمے کے سامنے بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عوف! اندر آ جاؤ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سارا ہی آجاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے ہی (آجاؤ)۔ پھر فرمایا: عوف! یاد رکھو، قیامت سے پہلے چھ واقعات (پیش آنے والے) ہیں: ان میں سے ایک میری وفات ہے۔ (یہ سن کر غم اور پریشانی کی وجہ سے) میں بولنے کے قابل نہ رہا (ہکا بکا رہ گیا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو (یہ) ایک (علامت ہے)۔ پھر فرمایا: پھر بیت المقدس کی فتح، پھر تمہارے اندر ایسی بیماری پھیلے گی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہادت کا درجہ دے گا اور تمہارے اعمال کو پاک کر دے گا، پھر تمہارے اندر مال و دولت آ جائے گی۔ (فراوانی کے باوجود حرص بہت ہوگی) حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے، تب بھی وہ ناراض رہے گا۔ اور تمہارے اندر ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا کہ وہ کسی مسلمان کے گھر میں داخل ہوئے بغیر نہیں رہے گا، پھر تمہارے درمیان اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح (جنگ بندی) ہوگی۔ وہ تمہیں دھوکا دیں گے اور اسّی جھنڈوں کے ساتھ تمہاری طرف (حملہ کرنے کے لیے) آئیں گے۔ ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار (فوجی) ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجزیة 15 (3176)، سنن ابی داود/الأدب 92 (5000، 5001)، (تحفة الأشراف: 10918)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/22) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4043
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرٌو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ , حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ , وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ , وَيَرِثُ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ".
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے، اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4043]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم اپنے امام کو شہید کرو گے اور اپنی تلواروں کے ساتھ (ایک دوسرے سے) جنگ کرو گے اور تمہاری دنیا کے وارث تمہارے برے لوگ ہو جائیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 9 (2170)، (تحفة الأشراف: 3365)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/389) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری اور عبدالعزیز دراوردی میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4044
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ أَبِي حَيَّانَ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ , فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ , وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا , وَإِذَا كَانَتِ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ , فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا , وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ , فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا , فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ" , فَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ سورة لقمان آية 34.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام» اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہو گی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے (سورة لقما ن: 34) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4044]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لیے (گھر سے) باہر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی حاضرِ خدمت ہوا۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ اس (قیامت) کی بابت پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا لیکن میں تجھے اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے تو یہ اس کی ایک علامت ہے۔ جب ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے (فقیر) لوگوں کے رئیس بن جائیں گے تو یہ بھی اس کی ایک نشانی ہے۔ جب بکریوں کے چرواہے ایک دوسرے سے لمبی (اور اونچی) عمارتیں بنانے لگیں تو یہ بھی اس کی ایک علامت ہے۔ (قیامت کا علم) ان پانچ چیزوں میں شامل ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ۚ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ﴾ [سورة لقمان: 34] بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، اور جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اسے جانتا ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا، صحیح خبروں والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 38 (50)، صحیح مسلم/الإیمان 1 (9)، سنن النسائی/الإیمان 6 (4994)، (تحفة الأشراف: 14929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/426) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث نمبر (65) کا ایک ٹکڑا ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا وقت معلوم ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کسی آدمی کو معلوم نہیں کل وہ کیا کرے گا اور کہاں مرے گا، بس یہ باتیں غیب مطلق ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، اور جو کوئی دعوے کرے کہ کسی نبی یا ولی کو علم غیب ہے وہ تو کافر ہے، قرآن کی بہت ساری آیتوں میں صاف صاف یہ مضمون ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہئے: میں غیب نہیں جانتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں