🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ: الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ
باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا وَقَعَ فِيهِمُ النَّقْصُ , كَانَ الرَّجُلُ يَرَى أَخَاهُ عَلَى الذَّنْبِ فَيَنْهَاهُ عَنْهُ , فَإِذَا كَانَ الْغَدُ لَمْ يَمْنَعْهُ مَا رَأَى مِنْهُ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَخَلِيطَهُ , فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ , فَقَالَ: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَتَّى بَلَغَ وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ سورة المائدة آية 78 ـ 81" , قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ , وَقَالَ:" لَا , حَتَّى تَأْخُذُوا عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ , فَتَأْطِرُوهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا".
ابوعبیدہ (عامر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں جب خرابیاں پیدا ہوئیں، تو ان کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، لیکن دوسرے دن پھر اس کے ساتھ کھاتا پیتا اور مل جل کر رہتا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مردہ کر دیا، اور آپس کی محبت ختم کر دی، اور ان ہی لوگوں کے بارے میں قرآن اترا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون» (سورۃ المائدہ: ۷۸ -۸۱) تک پہنچے۔ (جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) کی زبانی لعنت کی گئی، کیونکہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے، وہ جس برائی کے خود مرتکب ہوتے اس سے لوگوں کو بھی نہیں روکتے تھے، بہت ہی برا کرتے تھے، تو ان میں سے اکثر کو دیکھ رہا ہے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں یہ وطیرہ انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا اختیار کیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان پر سخت ناراض ہے، اور آخرت میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں رہیں گے، اور اگر یہ اللہ پر اور نبی پر اور جو اس کی طرف اترا ہے اس پر ایمان لاتے تو ان کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن بہت سے ان میں فاسق (بدکار اور بے راہ) ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: تم اس وقت تک عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک کہ تم ظالم کو ظلم کرتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انصاف کرنے پر مجبور نہ کر دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4006]
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں نقائص اس طرح پیدا ہوئے کہ آدمی اپنے بھائی کو (ایک بار) کوئی گناہ کرتے دیکھتا تو اسے منع کرتا، پھر اگلے دن اسے گناہ کرتے دیکھتا تو اس کی وجہ سے وہ اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم راز بننے سے نہ رکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیے۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ * كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ * تَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنْفُسُهُمْ أَنْ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ * وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [سورة المائدة: 78 - 81] بنی اسرائیل کے کافروں پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کی زبانی لعنت کی گئی، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے اور وہ جو برے کام کرتے تھے، ان سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ وہ جو کچھ کرتے تھے یقیناً بہت برا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔ بہت برا ہے جو کچھ انہوں نے اپنے لیے آگے بھیجا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ اور اگر وہ اللہ پر، نبی پر اور نبی پر نازل ہونے والی شریعت پر ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان (کافروں) سے دوستی نہ کرتے لیکن ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں (تم عذاب سے نہیں بچ سکتے) حتیٰ کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ کر (اسے ظلم سے روک دو اور) اسے حق قبول کرنے پر مجبور کر دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الملاحم 17 (4336، 4337)، سنن الترمذی/التفسیر 6 (3048)، (تحفة الأشراف: 9614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 391) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوعبیدہ کثیر الغلط راوی ہیں، اور حدیث کو مرسل روایت کیا ہے، یعنی اپنے اور رسول اکرم ﷺ کے مابین کا واسطہ نہیں ذکر کیا ہے، اس لئے ارسال کی وجہ سے بھی یہ حدیث ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3047،3048 مرسلًا) سنن أبي داود (4336) بذكر عبد اللّٰه وسنده منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4006M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ.
اس سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4006M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انطر ماقبلة، تحفة الأشراف: 9614) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4007
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا , فَكَانَ فِيمَا قَالَ:" أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ" , قَالَ: فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ , وَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ رَأَيْنَا أَشْيَاءَ فَهِبْنَا.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جو باتیں کہیں، ان میں یہ بات بھی تھی: آگاہ رہو! کسی شخص کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جب وہ حق کو جانتا ہو، یہ حدیث بیان کر کے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت سی باتیں (خلاف شرع) دیکھیں، لیکن ہم ڈر اور ہیبت کا شکار ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4007]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ بھی فرمایا: خبردار! کسی آدمی کو لوگوں کی ہیبت حق کہنے سے روک نہ دے جب کہ اسے (حق) معلوم ہو۔ یہ کہہ کر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا: قسم ہے اللہ کی! ہم نے کئی (غلط) چیزیں دیکھیں لیکن (اظہار کرنے سے) ڈر گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 26 (2191)، (تحفة الأشراف: 4366)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/7، 19، 61، 70) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4008
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْقِرْ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ يَحْقِرُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ؟ قَالَ:" يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ , ثُمَّ لَا يَقُولُ فِيهِ , فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِي كَذَا كذا وَكَذَا , فَيَقُولُ: خَشْيَةُ النَّاسِ , فَيَقُولُ: فَإِيَّايَ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَى".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو کیسے حقیر جانتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کوئی بات ہوتے دیکھے اور اس کے بارے میں اسے اللہ کا حکم معلوم ہو لیکن نہ کہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے فرمائے گا: تجھے فلاں بات کہنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ جواب دے گا: لوگوں کے خوف نے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے زیادہ درست بات یہ تھی کہ تو مجھ سے ڈرتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4008]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسا کام ہوتا دیکھتا ہے جس کے بارے میں اللہ کی طرف سے اس پر بولنا ضروری ہے، پھر وہ اس کے بارے میں بات نہیں کرتا (اور غلط کام سے منع نہیں کرتا)، اسے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے فلاں مسئلے میں بات کرنے سے کیا رکاوٹ تھی؟ وہ کہے گا: لوگوں کا خوف تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرا زیادہ حق مجھ ہی سے ڈرنے کا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4043، ومصباح الزجاجة: 1409)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/30، 47، 73) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اعمش مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع
أبو البختري لم يسمعه أبي سعيد،صرح به أحمد (84/3،91)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4009
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي , هُمْ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ , لَا يُغَيِّرُونَ , إِلَّا عَمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ".
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قوم میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اور ان میں ایسے زور آور لوگ ہوں جو انہیں روک سکتے ہوں لیکن وہ نہ روکیں، تو اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب میں گرفتار کر لیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4009]
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں میں اللہ کی نافرمانی کی جائے جب کہ وہ (گناہ کرنے والوں سے) زیادہ طاقتور اور زیادہ زور آور ہوں، اس کے باوجود (مجرموں کو گناہ سے) منع نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب نازل کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/361، 363، 364، 366) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4339)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: لَمَّا رَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرَةُ الْبَحْرِ , قَالَ:" أَلَا تُحَدِّثُونِي بِأَعَاجِيبِ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ" , قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَرَّتْ بِنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِ رَهَابِينِهِمْ , تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَاءٍ , فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ , فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا , ثُمَّ دَفَعَهَا , فَخَرَّتْ عَلَى رُكْبَتَيْهَا , فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا , فَلَمَّا ارْتَفَعَتْ , الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ , فَقَالَتْ: سَوْفَ تَعْلَمُ , يَا غُدَرُ إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ , وَجَمَعَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ , وَتَكَلَّمَتِ الْأَيْدِي وَالْأَرْجُلُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ , فَسَوْفَ تَعْلَمُ كَيْفَ أَمْرِي وَأَمْرُكَ , عِنْدَهُ غَدًا , قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَتْ صَدَقَتْ , كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کے مہاجرین (یعنی مہاجرین حبشہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں؟، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لیے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: غدار! (دھوکا باز) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالیٰ کرسی رکھے ہو گا، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا، اور ہاتھ پاؤں ہر اس کام کی گواہی دیں گے جو انہوں نے کیے ہیں، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے: اس بڑھیا نے سچ کہا، اس بڑھیا نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جا سکے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4010]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سمندر کا سفر طے کرنے والے مہاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے وہ عجیب باتیں نہیں بتاؤ گے جو تم نے حبشہ کے ملک میں دیکھیں؟ ان میں سے کچھ نوجوان افراد نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (ہم سنائیں گے) ایک بار ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے ان کی ایک راہب بڑھیا گزری جس نے سر پر پانی کا مٹکا اٹھایا ہوا تھا۔ وہ ان میں سے ایک جوان (لڑکے) کے پاس سے گزری تو اس نے اس (راہبہ) کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دے دیا۔ وہ گھٹنوں کے بل گری، اس کا مٹکا ٹوٹ گیا۔ جب وہ اٹھی تو اس (شریر لڑکے) کی طرف مڑ کر بولی: اے دھوکے باز! تجھے تب پتہ چلے گا جب اللہ تعالیٰ (حشر کے میدان میں) کرسی رکھے گا اور تمام پہلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا اور (انسانوں کے) ہاتھ اور پاؤں ان کے عملوں کی گواہی دیں گے۔ پھر تجھے پتہ چلے گا کہ کل (قیامت کو) اس (اللہ) کے پاس میرا تیرا معاملہ کیسے طے ہوتا ہے؟ راوی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ واقعہ سن کر) فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے سچ کہا۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیونکر پاک کرے گا جن میں طاقت ور سے کمزور کو حق نہیں دلوایا جاتا؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2779، ومصباح الزجاجة: 1410) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند کو بوصیری نے حسن کہا ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن
و للحديث شاھد ضعيف عند البيھقي (6/ 95) فيه عطاء بن السائب اختلط و في السندين إليه نظر أيضًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4011
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُصْعَبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الْجِهَادِ , كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر جہاد، ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4011]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے انصاف (اور حق) کی بات کہنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الملاحم 17 (4344)، سنن الترمذی/الفتن 13 (2174)، (تحفة الأشراف: 4234) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4012
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ , فَلَمَّا رَأَى الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ سَأَلَهُ فَسَكَتَ عَنْهُ , فَلَمَّا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ لِيَرْكَبَ , قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" , قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمرہ اولیٰ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے جمرہ کی رمی کی تو اس نے پھر آپ سے یہی سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، تو سوار ہونے کے لیے آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے؟، اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سب سے بہتر جہاد) ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4012]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی پہلے جمرے کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمرے پر پہنچے تو اس نے (پھر) سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرۂ عقبہ (بڑے جمرے) پر کنکریاں ماریں اور سوار ہونے کے لیے رکاب میں پاؤں رکھا تو فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا (افضل جہاد ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4938، ومصباح الزجاجة: 1411)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/251، 256) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ اسناد حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4013
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ . عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ , فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا مَرْوَانُ , خَالَفْتَ السُّنَّةَ , أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ , وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا , فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا , فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ , فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ , وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4013]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا (اور عید گاہ میں رکھا) اور نمازِ عید سے پہلے خطبہ شروع کیا۔ ایک آدمی نے کہا: مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے۔ تو نے اس دن منبر نکالا، حالانکہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں) وہ نہیں نکالا جاتا تھا۔ اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ (اس دور میں) خطبے سے ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ» تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے اور ہاتھ سے ختم کر سکتا ہو تو ہاتھ سے ختم کر دے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے (منع کرے اور سمجھائے) اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (نفرت کرے اور اس کے خاتمہ کی خواہش رکھے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، الملاحم 17 (4340)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ 17 (5011، 5012)، (تحفة الأشراف: 12142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9، 10، 49، 52، 54، 92) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: قَوْلِهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ}
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4014
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ , حَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ جَارِيَةَ , عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ , قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ , قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَصْنَعُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ , قَالَ: أَيَّةُ آيَةٍ , قُلْتُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 قَالَ: سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا , سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ , حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا , وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً , وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ , وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا يَدَانِ لَكَ بِهِ , فَعَلَيْكَ خُوَيْصَةَ نَفْسِكَ , وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ , فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلِ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ , لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ".
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، جب تم ہدایت یاب ہو گے تو دوسروں کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی (سورة المائدة: 105) انہوں نے کہا: تم نے ایک جان کار شخص سے اس کے متعلق سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم دو، اور بری باتوں سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے چلا جاتا ہے، اور دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، ہر صاحب رائے اپنی رائے اور عقل پر نازاں ہے اور تمہیں ایسے کام ہوتے نظر آئیں جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہ ہو تو ایسے وقت میں تم خاص اپنے آپ سے کام رکھو۔ تمہارے پیچھے ایسے دن بھی آئیں گے کہ ان میں صبر کرنا مشکل ہو جائے گا، اور اس وقت دین پر صبر کرنا اتنا مشکل ہو جائے گا جتنا کہ انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا، اس زمانہ میں عمل کرنے والے کو اتنا ثواب ملے گا، جتنا اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کو ملے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4014]
حضرت ابو امیہ شعبانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ کا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہِ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تم نے یہ مسئلہ خوب خبر رکھنے والے سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: بلکہ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم دو اور ایک دوسرے کو برائی سے منع کرو، حتیٰ کہ جب تو دیکھے کہ بخل کا حکم مانا جاتا ہے (ہر شخص بخل کر رہا ہے گویا بخل کی حکومت ہے)، خواہش کی پیروی کی جاتی ہے، دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، اور ہر شخص کو اپنی رائے ہی اچھی لگتی ہے، اور تیرے سامنے ایسی صورت حال آ جائے کہ تو اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، تو پھر خاص اپنی جان کی فکر کر اور عوام کی فکر چھوڑ دے، کیونکہ تمہارے آگے صبر کا زمانہ آ رہا ہے، اس دور میں صبر (اور حق پر قائم رہنا) اس طرح (دشوار) ہو گا جیسے انگارے کو مٹھی میں لینا۔ ان ایام میں (صحیح نیک) عمل کرنے والے کو (عام حالات میں) یہی عمل کرنے والے پچاس آدمیوں کے برابر ثواب ملے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الملاحم 17 (4341)، سنن الترمذی/التفسیر 6 (3058)، (تحفة الأشراف: 11881) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عمرو بن جاریہ، اور ابو امیہ شعبانی دونوں ضعیف ہیں، لیکن «أيام الصبر» کا فقرہ ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن فقرة أيام الصبر ثابتة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں