🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ: كَفِّ اللِّسَانِ فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3976
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْوَئِيلَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جس بات کا تعلق اس سے نہ ہو اسے وہ چھوڑ دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3976]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی انسان کے اسلام کی خوبی ہے کہ جس معاملے سے اس کا تعلق نہیں اسے چھوڑ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 11 (2317)، (تحفة الأشراف: 15234) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی ٹوہ اور جستجو میں نہ لگے، جو چیز حرام یا مکروہ ہو اس کا چھوڑنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، خواہ اس کا اسلام عمدہ ہو یا نہ ہو لیکن عمدہ اور اچھا مسلمان وہ ہے جو بیکار اور غیر مفید بات کو بھی چھوڑ دے، اگرچہ وہ حرام یا مکروہ نہ ہو یعنی مباح بات ہو لیکن اس کے کرنے میں آخرت کا فائدہ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2317)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: الْعُزْلَةِ
باب: (فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3977
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ بَعَجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" خَيْرُ مَعَايِشِ النَّاسِ لَهُمْ , رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَيَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ , كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ إِلَيْهَا , يَبْتَغِي الْمَوْتَ أَوِ الْقَتْلَ , مَظَانَّهُ , وَرَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ , فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَافِ , أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ , يُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ , وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ , لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آ جائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3977]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے بہترین زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے، اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر (میدانِ جنگ میں) اڑتا پھرتا ہو، جب بھی خوف زدہ کرنے والی یا پریشان کن آواز سنائی دے، وہ اس پر ادھر اڑ جاتا ہے۔ وہ موت یا شہادت کو اس کی جگہوں میں تلاش کرتا پھرتا ہے۔ یا ایک آدمی کسی چوٹی پر یا کسی وادی میں چند بکریاں لے کر رہ رہا ہے، وہ نماز قائم کرتا ہے، زکاۃ ادا کرتا ہے اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ صرف نیکی کے معاملات میں تعلق رکھتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 34 (1889)، (تحفة الأشراف: 12224)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/443) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3978
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا الزَّبِيدِيُّ , حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" رَجُلٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ امْرُؤٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ , يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3978]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا: کون سا انسان افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرنے والا۔ اس نے کہا: اس کے بعد کون سا (افضل ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے، لوگوں کو اپنے شر سے بچائے رکھتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 2 (2786)، الرقاق 34 (6494)، صحیح مسلم/الإمارة 34 (1888)، سنن ابی داود/الجہاد 5 (2485)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 24 (1660)، سنن النسائی/الجہاد 7 (3107)، (تحفة الأشراف: 4151)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/16، 37، 56، 88) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3979
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ , مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صِفْهُمْ لَنَا , قَالَ:" هُمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا , يَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا" , قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَالْزَمْ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ , فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ , فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا , وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ , وَأَنْتَ كَذَلِكَ".
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے ا؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3979]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو (جہنم کی طرف) بلائیں گے۔ جو شخص ان کی بات مانے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں ان کے اوصاف (اور علامات) بتا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم ہی میں سے کچھ افراد ہوں گے اور ہماری زبانوں ہی میں بات کریں گے۔ میں نے کہا: اگر مجھے (ان کا) یہ زمانہ ملے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی اجتماعیت اور ان کے امام کے ساتھ پیوستہ رہنا۔ اگر ان کی اجتماعیت نہ ہو اور نہ کوئی (متفقہ) امام ہو تو ان سب فرقوں سے الگ رہنا اگرچہ تجھے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتی کہ تجھے اس حال میں موت آ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 25 (3606)، صحیح مسلم/الإمارة 13 (1827)، (تحفة الأشراف: 3362) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے یعنی جنگل میں جا کر عزلت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا اور مرنے تک ایک درخت کی جڑ چوسنے پر قناعت کرنا، اور ان سب فرقوں سے الگ رہنا ایسے فتنہ کے زمانے میں جب نہ تو کوئی مسلمانوں کا امام ہو نہ جماعت ہو بہتر اور باعث نجات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3980
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ , أوَ مَوَاقِعَ الْقَطْرِ , يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات میں چلا جائے گا، وہ اپنا دین فتنوں سے بچاتا پھر رہا ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3980]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کے لیے بہترین مال بکریاں ہوں جن کو پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں میں (جہاں گھاس چارہ مل سکتا ہے) لیے پھرتا رہے اور (اس طرح) اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے (فتنوں سے دور) بھاگتا پھرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 12 (19)، بدء الخلق 15 (3300)، المناقب 25 (3600)، الرقاق 34 (4695)، سنن ابی داود/الفتن 14 (4267)، سنن النسائی/الإیمان 30 (5039)، (تحفة الأشراف: 4103)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 6 (16) مسند احمد (3/6، 30، 43، 57) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدِّمِيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ فِتَنٌ عَلَى أَبْوَابِهَا دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ , فَأَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ , خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ".
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، لہٰذا اس وقت تمہارے لیے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3981]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنے پیدا ہوں گے، ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے۔ ان میں سے کسی کے پیچھے لگنے سے بہتر ہے کہ تو کسی درخت کی جڑ چباتا ہوا مر جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 3372) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3982]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 83 (6133)، صحیح مسلم/الزہد 12 (2998)، سنن ابی داود/الأدب 34 (4862)، (تحفة الأشراف: 13205)، وقد أخرجہ: حم2/ (379) سنن الدارمی/الرقاق 65 (2823) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3983
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3983]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6811، ومصباح الزجاجة: 1396)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/115) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوعزہ حجمی نامی شاعرمسلمانوں کی ہجو کرتا تھا، بدر کے موقع پر قیدی ہواا ور آئندہ ہجو نہ کرنے کا عہدکر کے اس نے آزادی حاصل کر لی، مکہ مکرمہ جا کر اس نے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف شاعری شروع کر دی پھر وہ غزوہ احد میں دوبارہ قید ہوا، اور اپنی تنگدستی کا بہانہ بنا کر دوبارہ آزادی طلب کی تو اس موقع پر آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: الْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ
باب: شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3984
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ , يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْحَلَالُ بَيِّنٌ , وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ , وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ , فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ , وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ , كَالرَّاعِي حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ , أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمَى , أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ , أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً , إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ , وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ , أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ".
شعبی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ کہتے سنا، اور انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام بھی، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے (کہ حلال ہے یا حرام) جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسا کہ چرا گاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس چراگاہ میں بھی چرنے لگ جائے، خبردار!، ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، آگاہ رہو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب تک وہ صحیح رہتا ہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، آگاہ رہو!، وہ دل ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3984]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر اپنے کانوں کی طرف انگلیوں سے اشارہ کر کے یہ فرماتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «اَلْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ» حلال واضح ہے اور حرام (بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ «مُشْتَبِهَاتٌ» شبہ والی چیزیں ہیں، جن سے اکثر لوگ واقف نہیں۔ تو جس نے شبہ والی چیزوں سے اجتناب کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو کوئی شبہ والی چیزوں میں مبتلا ہو گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو جائے گا، جیسے ممنوعہ چراگاہ کے اردگرد بکریاں چرانے والا، ہو سکتا ہے کہ (نادانستہ طور پر) اس کے اندر (جانور) چرا لے (اور اس طرح مجرم قرار پا جائے۔) «أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى» خبردار! ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے (جس میں عام لوگوں کے جانوروں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔) «أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ» خبردار! اللہ کی ممنوعہ چراگاہ سے مراد اللہ کی حرام کردہ چیزیں (اور کام) ہیں۔ سن لو! جسم میں گوشت کا ایک «مُضْغَةً» ٹکڑا ہے، اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سنو! وہ «الْقَلْبُ» دل ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 39 (52)، البیوع 2 (2051)، صحیح مسلم/المساقاة 20 (1599)، سنن ابی داود/البیوع 3 (3329، 3330)، سنن الترمذی/البیوع 1 (1205)، سنن النسائی/البیوع 2 (4458)، (تحفة الأشراف: 11624)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/275)، سنن الدارمی/البیوع 1 (2573) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ بڑی اہم بات ہے جس پر اسلام کے اکثر احکام کا دارومدار ہے، مشتبہ کاموں سے ہمیشہ بچے رہنا ہی تقویٰ اور صلاح کا طریقہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کا بیان کھول کر نہیں کیا تو سود سے بچو اور جس چیز میں سود کا شک ہو اس سے بچو اور دوسری حدیث میں ہے کہ جس کام میں تم کو شک ہو اس کو چھوڑ دو تاکہ تم شک میں نہ پڑو، اور آپ نے سودہ رضی اللہ عنہا کو عبد بن زمعہ سے پردہ کا حکم دیا حالانکہ اس کا نسب زمعہ سے ثابت کیا کیونکہ اس میں عتبہ کے نطفہ ہونے کا شبہ تھا اور عقبہ بن حارث نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے دولہا اور دلہن دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ دونوں اس کو نہیں جانتے تھے نہ ان کے گھر والے پھر اس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کیا علاج ہے کہ ایسا کہا گیا یعنی گو کامل شہادت سے دودھ پلانا ثابت نہیں ہوا مگر کہا تو گیا تو شبہ ہوا غرض عقبہ رضی اللہ عنہ کو عورت چھوڑ دینے کا اشارہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3985
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ".
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنوں (کے ایام) میں عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3985]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت (اور فتنوں کے ایام) کے دوران میں عبادت کرنا ایسے ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 26 (2948)، سنن الترمذی/الفتن 31 (2201)، (تحفة الأشراف: 11476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/25، 27، 37) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں