سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا
باب: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم بھڑ جائیں تو ان کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3966
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , عَنْ عَبْدِ الْحَكَمِ السُّدُوسِيِّ , حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , عَبْدٌ أَذْهَبَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برباد اور خراب مقام اس شخص کا ہو گا جس نے اپنی آخرت دوسرے کی دنیا کے لیے برباد کی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3966]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے برے درجے والا شخص وہ ہو گا جس نے (دوسرے کی) دنیا کے لیے اپنی آخرت ضائع کر لی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4891، ومصباح الزجاجة: 1395) (ضعیف)» (سند میں سوید اور شہر بن حوشب مختلف فیہ راوی ہیں، اور عبدالحکم بن ذکوان مجہول، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1915)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالحكيم السدوسي: مقبول (تقريب: 3748) أ ي مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان وروي عنه جماعة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
إسناده ضعيف
عبدالحكيم السدوسي: مقبول (تقريب: 3748) أ ي مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان وروي عنه جماعة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
12. بَابُ: كَفِّ اللِّسَانِ فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3967
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ زِيَادِ سَيْمِينْ كُوشْ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ , اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فتنہ ایسا ہو گا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس میں قتل ہونے والے سب جہنمی ہوں گے، اس فتنہ میں زبان تلوار کی کاٹ سے زیادہ موثر ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3967]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ برپا ہو گا جو عربوں کا صفایا کر دے گا۔ اس کے مقتول جہنم میں جائیں گے۔ اس فتنے میں زبان تلوار کے وار سے زیادہ سخت (اور تکلیف دہ) محسوس ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفتن والملاحم 3 (4265)، سنن الترمذی/الفتن 16 (2178)، (تحفة الأشراف: 8631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/211، 212) (ضعیف)» (سند میں لیث بن أبی سلیم اور زیاد ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: ایسا نہ ہو زبان سے ناحق بات نکلے اور مفت گنہگار ہو یا فتنے میں شریک سمجھا جائے یا اس کی بات سے فتنہ کو بڑھاوا ملے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4265) ترمذي (2178)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4265) ترمذي (2178)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
حدیث نمبر: 3968
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْفِتَنَ , فَإِنَّ اللِّسَانَ فِيهَا مِثْلُ وَقْعِ السَّيْفِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فتنوں سے بچے رہنا کیونکہ اس میں زبان ہلانا تلوار چلانے کے برابر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3968]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنوں سے بچو، ان میں زبان (کی بات) تلوار کے وار کی طرح (اثر انداز) ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6679، ومصباح الزجاجة: 1397) (ضعیف جدا)» (سند میں محمد بن الحارث متروک، اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، نیز عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ کا کسی صحابی سے سماع ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن الحارث و ابن البيلماني: ضعيفان
وللحديث لون آخر عند أبي داود (4264)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
إسناده ضعيف
محمد بن الحارث و ابن البيلماني: ضعيفان
وللحديث لون آخر عند أبي داود (4264)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
حدیث نمبر: 3969
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِيهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ , قَالَ: مَرَّ بِهِ رَجُلٌ لَهُ شَرَفٌ , فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: إِنَّ لَكَ رَحِمًا وَإِنَّ لَكَ حَقًّا , وَإِنِّي رَأَيْتُكَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْأُمَرَاءِ , وَتَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهِ , وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ , مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ , فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ , مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ , فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِهَا سُخْطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ" , قَالَ عَلْقَمَةُ: فَانْظُرْ وَيْحَكَ مَاذَا تَقُولُ , وَمَاذَا تَكَلَّمُ بِهِ , فَرُبَّ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِي أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ , مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ.
علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے (دہرا رشتہ ہے) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہو گا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا“۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہو جاتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3969]
حضرت علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے، ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا جو (معاشرے میں) اونچا مقام رکھتا تھا۔ علقمہ رحمہ اللہ نے اس سے کہا: ”تیرا (مجھ سے) قرابت کا تعلق ہے اور (مجھ پر) تیرا حق ہے (اس لیے نصیحت کے طور پر بات کر رہا ہوں)۔ میں نے دیکھا ہے کہ تو ان حکمرانوں کے پاس جاتا ہے، اور ان سے، جو اللہ چاہے، بات چیت کرتا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اللہ کو راضی کرنے والی ایک بات کرتا ہے، وہ نہیں سمجھتا کہ اس کا وہاں تک اثر ہو گا جہاں تک (حقیقت میں) ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اللہ عزوجل اس کے لیے قیامت تک اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے۔ اور ایک آدمی اللہ کی ناراضی والی ایک بات کرتا ہے، وہ نہیں سمجھتا کہ اس کا وہاں تک اثر ہو گا جہاں تک (حقیقت میں) ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اللہ عزوجل اس کے لیے اس دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے جس دن اس سے ملاقات ہو گی۔““ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: ”اس لیے دیکھ لیا کر کہ تو کیا کہہ رہا ہے اور کیا کچھ منہ سے نکال رہا ہے، تیرا بھلا ہو۔ مجھے تو بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی یہ حدیث کئی باتیں کہنے سے روک دیتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2028، ومصباح الزجاجة: 1398)، وقد أخر جہ: سنن الترمذی/الزہد 12 (2319)، موطا امام مالک/الکلام 2 (5)، مسند احمد (3/469) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علقمہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ بات کہنے میں احتیاط اور غور لازم ہے، یہ نہیں کہ جو منہ میں آیا کہہ دیا، غیر محتاط لوگوں کی زبان سے اکثر ایسی بات نکل جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوتی ہے، پس وہ ایک بات کی وجہ سے جہنمی ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3970
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ بْنُ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ابْنِ إِسْحَاق , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا , فَيَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3970]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی (بعض اوقات) اللہ کی ناراضی والا ایک لفظ کہہ دیتا ہے، وہ اس میں حرج نہیں سمجھتا۔ (لیکن وہ اتنا بڑا گناہ کا لفظ ہوتا ہے کہ) وہ اس کی وجہ سے ستر سال تک جہنم میں گر جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ، (تحفة الأشراف: 14995، ومصباح الزجاجة: 1399)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 23 (6478)، صحیح مسلم/الزہد والرقاق 6 (2988)، سنن الترمذی/الزہد 10 (2314)، موطا امام مالک/الکلام 2 (6)، مسند احمد (2/236، 533) (صحیح)» (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3971
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3971]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12843)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 31 (6018)، 85 (6138)، صحیح مسلم/الإیمان 19 (47)، سنن ابی داود/الأدب 132 (5154)، سنن الترمذی/صفة القیامة 50 (2500)، مسند احمد (2/267، 269، 433، 463) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3972
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ الْعَامِرِيِّ , أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ , قَالَ:" قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ , فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ , ثُمَّ قَالَ:" هَذَا".
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: اللہ میرا رب (معبود برحق) ہے اور پھر اس پر قائم رہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اس کا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3972]
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے (نصیحت کی) ایک بات فرما دیجیے جس پر میں مضبوطی سے قائم رہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ: رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ» ”کہو: میرا رب اللہ ہے، پھر اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔““ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے (نقصان پہنچنے کا) خوف ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک کو پکڑا، پھر فرمایا: ” «هَذَا» ”اس سے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 13 (38)، سنن الترمذی/الزہد 60 (2410)، (تحفة الأشراف: 4478)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/413، 4/384)، سنن الدارمی/الرقاق 4 (2753) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ , وَنَحْنُ نَسِيرُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ , قَالَ:" لَقَدْ سَأَلْتَ عَظِيمًا , وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ , تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا , وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ , وَتَصُومُ رَمَضَانَ , وَتَحُجَّ الْبَيْتَ , ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ , وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ النَّارَ الْمَاءُ , وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ , ثُمَّ قَرَأَ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 حَتَّى بَلَغَ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17" , ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ؟ الْجِهَادُ" , ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟" , قُلْتُ: بَلَى , فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ , فَقَالَ:" تَكُفُّ عَلَيْكَ هَذَا" , قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ , قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ , وَهَلْ يُكِبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا، اور ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دور رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز (تہجد) ادا کرنا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» (سورة السجدة: 16) تلاوت فرمائی یہاں تک کہ «جزاء بما كانوا يعملون» تک پہنچے، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے“، پھر فرمایا: ”کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں“؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہو گی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! تیری ماں تجھ پر روئے! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3973]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن جبکہ ہم چل رہے تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے دور کر دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے بڑی عظیم بات پوچھی ہے اور جس کے لیے اللہ آسان کر دے اس کے لیے یہ آسان بھی ہے۔ (جنت میں پہنچانے والا عمل یہ ہے کہ) تو اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تجھے نیکی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ (کی آگ) کو بجھا دیتا ہے اور آدمی کا رات کے دوران میں نماز (تہجد) پڑھنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سورة السجدة: 16-17] ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے بدلے میں ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کی کون کون سی چیزیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تجھے دین کا سر، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی نہ بتاؤں؟ وہ جہاد ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں تجھے وہ چیز نہ بتاؤں جس پر ان سب کا مدار ہے؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: ”اسے روک کر رکھنا۔“ میں نے کہا: ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! تیری ماں تجھے روئے، لوگوں کو (جہنم کی) آگ میں چہروں کے بل گھسیٹنے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصلوں کے سوا اور کیا ہے؟““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإیمان 7 (2616)، (تحفة الأشراف: 11311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/231) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 246)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ الْمَكِّيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيَّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كَلَامُ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ , إِلَّا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ , وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ , وَذِكْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی ہر بات کا اس پر وبال ہو گا، اور کسی بات سے فائدہ نہ ہو گا سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3974]
ام المؤمنین ام حبیبہ (بنت ابو سفیان) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کے بیٹے کا ہر کلام اس کے خلاف ہے، اس کے حق میں نہیں، سوائے نیکی کا حکم دینے، برائی سے منع کرنے اور اللہ عز وجل کا ذکر کرنے کے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 62 (2412)، (تحفة الأشراف: 15877) (ضعیف)» (سند میں ام صالح مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2412)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
إسناده ضعيف
ترمذي (2412)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
حدیث نمبر: 3975
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ , قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى أُمَرَائِنَا , فَنَقُولُ الْقَوْلَ , فَإِذَا خَرَجْنَا قُلْنَا غَيْرَهُ , قَالَ:" كُنَّا نَعُدُّ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقَ".
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء (حکمرانوں) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3975]
حضرت ابو شعثاء سے روایت ہے، کسی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ہم امراء (حکمرانوں) کے پاس جاتے ہیں تو ایک بات کہتے ہیں، پھر جب ہم باہر آتے ہیں تو دوسری بات کہتے ہیں۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس چیز کو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقت شمار کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7090، ومصباح الزجاجة: 1400)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الأحکام 27 (7178)، مسند احمد (2/15) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح