🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4100
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الْقُرَشِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ , وَلَا فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ , وَلَكِنْ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدِ اللَّهِ , وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أُصِبْتَ بِهَا , أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ" , قَال هِشَامٌ: كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , يَقُولُ: مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَحَادِيثِ كَمِثْلِ الْإِبْرِيزِ فِي الذَّهَبِ.
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد (دنیا سے بے رغبتی) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے۔ ہشام کہتے ہیں: کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4100]
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے بے رغبتی حلال کو حرام کرنے یا مال ضائع کرنے سے نہیں ہوتی۔ دنیا سے بے رغبتی کا مطلب یہ ہے کہ تجھے اپنے پاس موجود چیز پر اللہ کے پاس موجود چیزوں سے زیادہ اعتماد نہ ہو۔ اور تجھ پر جو مصیبت آئے تو اس کے ثواب کی زیادہ رغبت رکھتا ہو، کہ وہ (دنیا میں آنے کی بجائے آخرت میں پیش آنے کے لیے) تیرے لیے باقی رہے۔ ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث دوسری احادیث کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے عام سونے کے مقابلے میں خالص (بائیس قیراط کے معیار کا) سونا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 29 (2340)، (تحفة الأشراف: 11935) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں عمرو بن واقد متروک ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (2340)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4101
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي فَرْوَةَ , عَنْ أَبِي خَلَّادٍ , وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ أُعْطِيَ زُهْدًا فِي الدُّنْيَا , وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ , فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ يُلْقِي الْحِكْمَةَ".
ابوخلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو دنیا کی طرف سے بے رغبت ہے، اور کم گو بھی تو اس سے قربت اختیار کرو، کیونکہ وہ حکمت و دانائی کی بات بتائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4101]
حضرت ابو خلاد (عبدالرحمن بن زہیر) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ اسے دنیا سے بے رغبتی اور کم گوئی دی گئی ہے تو اس سے قریب ہوا کرو، کیونکہ وہ حکمت کی باتیں کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11899، ومصباح الزجاجة: 1451) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوفروہ یزید بن سنان جزری ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو فروة يزيد بن سنان: ضعيف
وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا عند صاحب حلية الأولياء (7/ 317) وأبي يعلي (12/ 176 ح 6803)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4102
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ , حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ, فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ , وَأَحَبَّنِي النَّاسُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ , وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّوكَ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے، اور لوگ بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے بے رغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4102]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ کروں تو اللہ مجھ سے محبت کرے اور لوگ مجھے پسند کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4687، ومصباح الزجاجة: 1452) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں خالد بن عمرو کو ابن معین نے جھوٹ سے متہم کیا ہے، اور صالح جزرہ وغیرہ نے اس کی طرف وضع حدیث کی نسبت کی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر اصل حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 944)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
خالد بن عمرو الأموي: رماه ابن معين بالكذب ونسبه صالح جزرة وغيره إلي الوضع (تقريب: 1660)
وله متابعات مردودة وشواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ , رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ , قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ , فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ , فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا يُبْكِيكَ؟ أَيْ خَالِ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ , أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا , قَالَ: عَلَى كُلٍّ لَا , وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ , قَالَ:" إِنَّكَ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ , وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ.
سمرہ بن سہم کہتے ہیں کہ میں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ برچھی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا درد کی شدت سے رو رہے ہیں یا دنیا کی کسی اور وجہ سے؟ دنیا کا تو بہترین حصہ گزر چکا ہے، ابوہاشم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، کاش! میں اس پر عمل کئے ہوتا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: شاید تم ایسا زمانہ پاؤ، جب لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا جائے، تو تمہارے لیے اس میں سے ایک خادم اور راہ جہاد کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا، اور جمع کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4103]
حضرت سمرہ بن سہم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت ابو ہاشم خالد بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب وہ (نیزے سے) زخمی ہو گئے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو تشریف لائے تو ابو ہاشم رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ماموں جان! آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا درد زیادہ پریشان کر رہا ہے یا دنیا (کے چھوٹنے) پر غمگین ہیں، اس (زندگی) کا عمدہ حصہ تو گزر گیا؟ (اب تو نکما حصہ ہی باقی ہے جس میں دکھ تکلیفیں زیادہ ہوتی ہیں۔) حضرت ابو ہاشم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں سے کسی بات پر نہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا، کاش میں اس کے مطابق چلا ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: شاید تم کو بہت اموال ملیں جو لوگوں میں تقسیم کیے جا رہے ہوں۔ (ان کا لالچ نہ کرنا۔) تمہارے لیے تو اس میں سے ایک خادم اور ایک سواری کا جانور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) کافی ہے۔ مجھے مال ملا اور میں نے جمع کر لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزہد 19 (2327)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ (5374)، (تحفة الأشراف: 12178)، وقد أخرجہ: (حم 5/290) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں سمرہ بن سہم مجہول ہیں، لیکن شواہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 5185 وصحیح الترغیب)
وضاحت: ۱؎: تو اس پر روتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل نہ کر سکا، دوسری روایت میں ہے کہ دنیا میں سے تم کو ایک خادم، ایک سواری اور ایک گھر کافی ہے، اس سے زیادہ جمع کر کے رکھنا ضروری نہیں، دوسرے محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دے دے، خود کھائے، دوسروں کو کھلائے، رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے، یتیموں بیواؤں کی پرورش کرے، مفید عام کاموں میں صرف کرے جیسے مدارس و مساجد بنانے میں، یتیم خانہ اور مسافر خانہ کی تعمیر میں، کنویں اور سڑک کی تعمیر میں، دینی اور اسلامی کتابیں چھاپنے، اور تقسیم کرنے میں، مگر ہزاروں لاکھوں میں کوئی ایسا بندہ ہوتا ہے جو دنیا کو بالکل جمع نہیں کرتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2327) نسائي (5374)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4104
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: اشْتَكَى سَلْمَانُ , فَعَادَهُ سَعْدٌ فَرَآهُ يَبْكِي , فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَخِي , أَلَيْسَ قَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَلَيْسَ أَلَيْسَ , قَالَ سَلْمَانُ : مَا أَبْكِي وَاحِدَةً مِنَ اثْنَتَيْنِ , مَا أَبْكِي ضِنًّا لِلدُّنْيَا , وَلَا كَرَاهِيَةً لِلْآخِرَةِ , وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَمَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ تَعَدَّيْتُ , قَالَ: وَمَا عَهِدَ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِثْلُ زَادِ الرَّاكِبِ , وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ تَعَدَّيْتُ , وَأَمَّا أَنْتَ يَا سَعْدُ , فَاتَّقِ اللَّهَ عِنْدَ حُكْمِكَ إِذَا حَكَمْتَ , وَعِنْدَ قَسْمِكَ إِذَا قَسَمْتَ , وَعِنْدَ هَمِّكَ إِذَا هَمَمْتَ" , قَالَ ثَابِتٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّهُ مَا تَرَكَ إِلَّا بِضْعَةً وَعِشْرِينَ دِرْهَمًا , مِنْ نَفَقَةٍ كَانَتْ عِنْدَهُ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے آئے اور ان کو روتا ہوا پایا، سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھائی آپ کس لیے رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض نہیں اٹھایا؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، نہ تو دنیا کی حرص کی وجہ سے اور نہ اس وجہ سے کہ آخرت کو ناپسند کرتا ہوں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، جہاں تک میرا خیال ہے میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا نصیحت تھی؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تم میں سے کسی کے لیے بھی دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جتنا کہ مسافر کا توشہ، لیکن میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، اے سعد! جب آپ فیصلہ کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، جب کچھ تقسیم کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، اور جب کسی کام کا قصد کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر کرنا۔ ثابت (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ مجھے پتہ چلا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے بیس سے چند زائد درہم کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا، وہ بھی اپنے خرچ میں سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4104]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے گئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بھائی جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں رہے؟ کیا آپ نے فلاں کام نہیں کیا؟ فلاں کارنامہ انجام نہیں دیا؟ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دو چیزوں میں سے کسی ایک پر بھی نہیں رو رہا۔ میں نہ دنیا کے چھوٹنے کی وجہ سے روتا ہوں، نہ آخرت کو ناپسند کرتے ہوئے، لیکن (میں اس لیے اشکبار ہوں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس سے تجاوز کیا ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا وعدہ لیا تھا؟ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: آدمی کو اتنا کچھ کافی ہوتا ہے جتنا مسافر کا زادِ راہ۔ اور مجھے یقین ہے کہ میں (اس) حد سے تجاوز کر گیا ہوں۔ اور اے سعد! آپ جب (کسی جھگڑے کا) فیصلہ کریں تو اپنے فیصلے میں اللہ کا خوف پیش نظر رکھیں۔ اور جب (مستحقین میں کوئی چیز) تقسیم کریں تو تقسیم کے وقت (تقوی کو ملحوظ رکھیں۔) اور جب آپ (کسی پروگرام کے بارے میں) سوچیں (یا ارادہ کریں) تو اپنی سوچ میں (اور ارادے میں اللہ سے ڈریں۔) حضرت ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے ترکے میں صرف تقریباً بیس دینار چھوڑے جو ان کے ذاتی اخراجات کے لیے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4487، ومصباح الزجاجة: 1453) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الصحیحة: 1715)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح قال ثابت فبلغني أنه ما ترك إلا بضعة وعشرين درهما من نفقة كانت عنده
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: الْهَمِّ بِالدُّنْيَا
باب: دنیا کے غم و فکر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ , قُلْتُ: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِشَيْءٍ سَأَلَ عَنْهُ , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ , فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ , وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ , وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ , وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ , جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ , وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ , وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ".
ابان بن عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مروان کے پاس سے ٹھیک دوپہر کے وقت نکلے، میں نے کہا: اس وقت مروان نے ان کو ضرور کچھ پوچھنے کے لیے بلایا ہو گا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مروان نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے متعلق پوچھا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو ٹھیک کر دے گا، اس کے دل کو بے نیازی عطا کرے گا، اور دنیا اس کے پاس ناک رگڑتی ہوئی آئے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4105]
حضرت ابان بن عثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت مروان رحمہ اللہ کے پاس سے باہر نکلے۔ میں نے کہا: انہوں نے اس وقت انہیں کوئی (اہم) مسئلہ دریافت کرنے ہی کے لیے بلایا ہو گا۔ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: انہوں نے ہم سے کچھ احادیث کے بارے میں دریافت کیا تھا (کہ وہ کس طرح ہیں۔) جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس شخص کا مقصود حصولِ دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے کام بکھیر دیتا ہے اور اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے لیے مقدر ہے اور جس کی نیت آخرت کا حصول ہو، اللہ تعالیٰ اس کے کام مرتب کر دیتا ہے اور اس کے دل میں استغنا پیدا فرما دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3695، ومصباح الزجاجة: 1454) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ , عَنْ نَهْشَلٍ , عَنْ الضَّحَّاكِ , عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ الْمَعَادِ , كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ , وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا , لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهِ هَلَكَ".
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4106]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جو شخص سارے تفکرات کو جمع کر کے ایک ہی فکر، یعنی آخرت کی فکر میں ڈھال لے، اللہ اس کو دنیاوی تفکرات سے بے نیاز کر دیتا ہے اور جسے دنیا کے معاملات کے تفکرات مختلف گھاٹیوں میں لیے پھریں، اللہ کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ (ان تفکرات کی) کون سی وادی میں ہلاک ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9169، ومصباح الزجاجة: 1455) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں نہشل متروک راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (257)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ , قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ , تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى , وَأَسُدَّ فَقْرَكَ , وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ , مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا , وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4107]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے: آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ استغنا سے بھر دوں گا اور تیرا فقر دور کر دوں گا۔ اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیرا فقر دور نہیں کروں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 30 (2466)، (تحفة الأشراف: 14881)، وقد أخرجہ: (حم 2/358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: مَثَلِ الدُّنْيَا
باب: دنیا کی مثال۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَا مَثَلُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ , إِلَّا مَثَلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ , فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ".
مستورد رضی اللہ عنہ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4108]
حضرت مستورد بن شداد بن عمرو قرشی فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈالے، پھر دیکھے کہ اس نے کتنا پانی لے لیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 15 (2558)، سنن الترمذی/الزہد 18 (2323)، (تحفة الأشراف: 11255)، وقد أخرجہ: (حم 4/228، 229، 230) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: اضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَّرَ فِي جِلْدِهِ , فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ كُنْتَ آذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَكَ عَلَيْهِ شَيْئًا يَقِيكَ مِنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنَا وَالدُّنْيَا , إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ , ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے تو آپ کے بدن مبارک پر اس کا نشان پڑ گیا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے اس پر کچھ بچھا دیتے، آپ اس تکلیف سے بچ جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو دنیا میں ایسے ہی ہوں جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے میں آرام کرے، پھر اس کو چھوڑ کر وہاں سے چل دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4109]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر (آرام کرنے کے لئے) لیٹے تو اس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہو گئے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں فرماتے تو ہم آپ کے لئے کوئی چیز (بستر وغیرہ) بچھا دیتے جس کے ساتھ اس (چٹائی کی سختی) سے بچاؤ ہو جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق! میری اور دنیا کی مثال تو ایسے ہے، جیسے کوئی سوار (مسافر) سائے کے لئے درخت کے نیچے ٹھہرا، پھر اسے چھوڑ کر روانہ ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 44 (2377)، (تحفة الأشراف: 9443)، وقد أخرجہ: (حم 1/391، 441) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں