سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: بَدْءُ الْحِيضِ وَهَلْ يُسَمَّى الْحِيضُ نِفَاسًا
باب: حیض کی شروعات کا بیان اور کیا حیض کو نفاس کہہ سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ؟ أَنَفِسْتِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟ کیا تم حائضہ ہو گئی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کر دیا ہے ۱؎، اب تم وہ سارے کام کرو، جو حاجی کرتا ہے، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 349]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ”ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہم صرف حج ہی کی نیت رکھتے تھے۔ جب ہم سرف مقام میں پہنچے تو مجھے حیض شروع ہو گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوا؟ حیض شروع ہو گیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔ تم وہی کرو جو حاجی کریں مگر طواف نہ کرنا۔““ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 291 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آدم زادیوں میں حواء بھی داخل ہیں اس لیے کہ آدم زاویوں سے عورتوں کی نوع مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
2. بَابُ: ذِكْرِ الاِسْتِحَاضَةِ وَإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ
باب: استحاضہ اور خون شروع ہونے اور بند ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ لَهَا:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي، وَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي".
عروۃ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کی شاخ قبیلہ بنو اسد کی ایک خاتون ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور ذکر کیا کہ انہیں استحاضہ آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو تو غسل کر لو، اور اپنے (بدن سے) خون دھو لو پھر نماز پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 350]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو کہ قریش کی شاخ بنو اسد سے تعلق رکھتی تھیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بتایا کہ اس (فاطمہ) کو استحاضے کا خون آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ کا خون ہے۔ جب حیض کا خون آنے لگے تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو اور نہا کر نماز پڑھ لیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 201 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 351
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو (اور نماز پڑھو)“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 351]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حیض کا خون آنے لگے تو نماز چھوڑ دو اور جب رک جائے تو غسل کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 202 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 352
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي". فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، تو تم غسل کر لو پھر نماز پڑھو“، چنانچہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 352]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! تحقیق مجھے استحاضے کا خون آتا ہے،“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، لہٰذا حیض ختم ہونے کے بعد غسل کرکے نماز پڑھا کرو۔“ تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 206 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
3. بَابُ: الْمَرْأَةِ يَكُونُ لَهَا أَيَّامٌ مَعْلُومَةٌ تَحِيضُهَا كُلَّ شَهْرٍ
باب: جس عورت کے حیض کے ایام معلوم ہوں جس میں اسے ہر ماہ حیض آتا ہو۔
حدیث نمبر: 353
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي". أَخْبَرَنَا بِهِ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق دریافت کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے ٹب کو خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم (نماز روزے سے) اتنے دن رکی رہو جس قدر تمہیں تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر لو“۔ (امام نسائی فرماتے ہیں) ہمیں قتیبہ نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی تو (یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 353]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضہ کے خون کے بارے میں پوچھا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون آلود پانی سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جتنے دن تمہیں پہلے حیض آیا کرتا تھا اتنے دن نماز وغیرہ سے رک جاؤ، پھر غسل کر کے نماز پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 207، 208 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 354
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: أَخْبَرَنِي عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ تِلْكَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي وَصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے تو میں پاک نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، البتہ صرف ان دنوں اور راتوں کے بقدر چھوڑ دو جن میں تم حائضہ رہتی ہو، پھر غسل کر لو اور لنگوٹ کس کر نماز پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 354]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”بے شک مجھے خون آتا رہتا ہے، اس لیے میں کبھی پاک نہیں ہوتی، تو کیا میں مستقل نماز چھوڑ دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم صرف اتنے دن رات نماز چھوڑو جن دنوں میں تمہیں حیض آیا کرتا تھا، پھر غسل کر کے لنگوٹ باندھ لو اور نماز شروع کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (209) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْد رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِالثَّوْبِ ثُمَّ لِتُصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خون آتا تھا، تو انہوں نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان راتوں اور دنوں کی تعداد شمار کر کے رکھے جن میں اسے اس بیماری سے پہلے جو اسے لاحق ہوئی ہے حیض آتا تھا، اور اسی کے بقدر ہر مہینہ نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 355]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بہت خون آتا تھا۔ تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری لگنے سے پہلے اس کو جن شب و روز میں ہر ماہ حیض آیا کرتا تھا، ان کا حساب لگائے اور ہر مہینے ان دنوں میں نماز چھوڑ دے۔ اور جب وہ دن گزر جائیں تو وہ غسل کرے، لنگوٹ باندھے، پھر نماز شروع کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (209) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323
4. بَابُ: ذِكْرِ الأَقْرَاءِ
باب: قرء کا بیان۔
حدیث نمبر: 356
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ لَا تَطْهُرُ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال:" لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، لِتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ ثُمَّ تَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں کو استحاضہ کا خون آتا تھا، وہ پاک نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رحم میں شیطان کی ایک ایڑ ہے، تو اسے چاہیئے کہ اپنے حیض کو دیکھ لے جس میں وہ حائضہ ہوتی تھی (اور اسی کے بقدر) نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 356]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا، جو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ان کو استحاضے کا خون آتا رہتا تھا۔ وہ پاک نہیں ہوتی تھیں۔ ان کا مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ یہ تو رحم میں کوئی زخم ہے۔ وہ اپنے دنوں کو یاد کرے جن میں اسے حیض آیا کرتا تھا، چنانچہ ان دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 210 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 357
أَخْبَرَنَا أَبُو مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ،" فَأَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَحَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ". فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جحش کی بیٹی (ام حبیبہ) کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، یہ تو ایک رگ ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں کے برابر نماز ترک کر دیں، اور غسل کریں اور نماز پڑھیں، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 357]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سات سال استحاضہ رہا، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ یہ تو رگ کا خون ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے گزشتہ حیض کے مطابق نماز چھوڑ دیں، پھر غسل کر کے نماز شروع کر دیں۔ تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشرف: 16455، 17922) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 358
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا مَرَّ قَرْؤُكِ فَلْتَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْمُنْذِرُ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے استحاضہ کے خون کی شکایت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ تو بس ایک رگ ہے، تو تم دیکھتی رہو جب تمہارا حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب تمہارا حیض گزر جائے تو پاکی حاصل کرو (یعنی غسل کرو) پھر اس حیض سے دوسرے حیض کے بیچ نماز پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 358]
حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور (بے قاعدہ) خون کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ ایک رگ کا خون ہے۔ تم حساب لگا لو۔ جب تمہارے حیض کے دن آئیں تو نماز نہ پڑھو اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کرکے اگلے حیض کے آنے تک نماز پڑھو۔“ امام ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ (نسائی) بیان کرتے ہیں: ”اس حدیث کو حضرت عروہ رحمہ اللہ سے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے، مگر وہ الفاظ ذکر نہیں کیے جو منذر بن مغیرہ نے ذکر کیے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 212 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، المنذر بن المغيرة: مجهول الحال انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323