🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ: غَسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا
باب: حائضہ کے شوہر کا سر دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 387
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور آپ معتکف ہوتے، تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 387]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر میرے قریب فرما دیتے تھے، میں اس کو دھو ڈالتی تھی، حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 276 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 388
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مسجد سے نکالتے اور آپ معتکف ہوتے تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 388]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مبارک مسجد سے (حجرے میں) نکال دیتے تھے اور میں باوجود حیض کی حالت کے آپ کا سر مبارک دھو دیا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 16334)، مسند احمد 6/32، 230، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1106، 1109) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 389
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 389]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو باوجود حیض کی حالت کے کنگھی کر دیا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 278 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: شُهُودِ الْحُيَّضِ الْعِيدَيْنِ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ
باب: عیدین اور مسلمانوں کی دعا میں حائضہ عورتوں کی حاضری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 390
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قالت: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي، فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي، قَالَ:" لِتَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى".
حفصہ (حفصہ بنت سیرین) کہتی ہیں کہ ام عطیہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 390]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو ضرور کہتیں: میرا باپ آپ پر فدا ہو۔ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے سنا ہے؟ وہ کہنے لگیں: ہاں، میرا باپ آپ پر فدا ہو۔ آپ نے فرمایا: بالغ، پردہ نشین اور حیض والی عورتیں عید کے لیے نکلیں۔ وہ اس نیکی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (971)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، (تحفة الأشراف 18118)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1136)، سنن الترمذی/فیہ 271 (539)، سنن ابن ماجہ/إقامة 165 (1308)، مسند احمد 5/84، 85، ویأتي عند المؤلف في العیدین 2 (برقم 1559) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ
باب: طواف افاضہ کے بعد عورت کے حائضہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 391
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ؟" قَالَتْ: بَلَى، قَالَ:" فَاخْرُجْنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف (افاضہ) نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور کیا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو نکلو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 391]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (ام المومنین) کو حیض آنے لگا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے وہ ہمیں واپسی سے روک لے؟ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:) کیا اس نے تمہارے ساتھ بیت اللہ کا طواف نہیں کیا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں، بلکہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر چلو نکلو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 27 (328)، صحیح مسلم/الحج 67 (1211)، موطا امام مالک/فیہ 75 (226)، مسند احمد 6/38، 39، 82، 99، 122، 164، 175، 177، 193، 202، 207، 213، 223، 253 (تحفة الأشراف 17949) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ 58 (2003)، سنن الترمذی/فیہ 99 (943)، سنن ابن ماجہ/فیہ 83 (3072)، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی طواف زیارت جو فرض ہے ادا ہو چکا ہے اب صرف طواف وداع رہ گیا ہے جس کے لیے حائضہ کا ٹھہرنا ضروری نہیں، اور اگر طواف افاضہ نہ کیا ہو تو حیض سے فارغ ہونے تک مکہ میں انتظار کرے، اور طواف افاضہ کر کے ہی کے گھر واپس ہو، کیونکہ طواف افاضہ رکن حج ہے، فدیہ سے پورا نہیں ہو گا، اور موجودہ وقت میں فلائٹوں کی پریشانی کی وجہ سے انتظار ممکن نہ ہو تو صاف ستھرا ہو کر لنگوٹ باندھ کر اور عطر لگا کر حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کر لے اور ایک فدیہ (دم) دیدے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: مَا تَفْعَلُ النُّفَسَاءُ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: نفاس والی عورتیں احرام کے وقت کیا کریں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مُرْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انہیں حکم دو کہ غسل کر لیں، اور احرام باندھ لیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 392]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے میں روایت ہے، جب انہیں ذوالحلیفہ (مدینہ والوں کے احرام باندھنے کی جگہ) میں بچہ پیدا ہوا تھا، کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اسے کہو کہ وہ غسل کرے اور احرام باندھے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ حیض یا نفاس کا آ جانا احرام کے لیے مانع نہیں ہے، جس عورت کو اس قسم کا عارضہ پیش آ جائے وہ غسل کر کے احرام باندھ لے، اور طواف کے علاوہ باقی سارے ارکان ادا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النُّفَسَاءِ
باب: نفاس والی عورتوں کی نماز جنازہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 393
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي وَسَطِهَا".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی نفاس میں وفات پا گئی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ میں ان کے بیچ میں (کمر کے پاس) کھڑے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 393]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ام کعب رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھا جو کہ بچے کی پیدائش کے موقع پر فوت ہو گئی تھیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے دوران میں ان کے درمیان کھڑے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 29 (332)، والجنائز 62 (1331)، 63 (1332)، صحیح مسلم/فیہ 27 (964)، سنن ابی داود/فیہ 57 (3195)، سنن الترمذی/فیہ 45 (1035)، سنن ابن ماجہ/فیہ 21 (1493)، (تحفة الأشراف 4625)، مسند احمد 5/14، 19، ویأتي عند المؤلف في الجنائز 73 (برقم: 1978) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: حیض کا خون کپڑے میں لگ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 394
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَتْ تَكُونُ فِي حَجْرِهَا، أَنَّ امْرَأَةً اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ:" حُتِّيهِ وَاقْرُصِيهِ وَانْضَحِيهِ وَصَلِّي فِيهِ".
فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں (جو ان کے زیر پرورش تھیں) کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رگڑ دو، اور ناخن سے مل لو، اور پانی سے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 394]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو (کسی چیز سے) کھرچ دو اور پانی ڈال کر ناخنوں سے ملو اور پھر دھو کر اس میں نماز پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 294 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 395
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضَةِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، قَالَ:" حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو ڈالو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 395]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی لکڑی (یا ہڈی وغیرہ) سے کھرچ دو اور پانی اور بیری کے پتوں سے دھو دو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 293 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں