🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ: الْفَرْقِ بَيْنَ دَمِ الْحَيْضِ وَالاِسْتِحَاضَةِ
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 367
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، قَالَ خَالِدٌ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ثُمَّ صَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ تو رگ (کا خون) ہے، (خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 367]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پاک نہیں ہوتی تو کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ ہے، حیض نہیں۔ جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو خون دھو کر نماز پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 220 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: الصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ
باب: زرد اور مٹیالے رنگ کے حیض میں داخل نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 368
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: قالت أُمُّ عَطِيَّةَ:" كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا (نسیبہ) کہتی ہیں کہ ہم لوگ زردی اور مٹیالا پن کو کچھ نہیں شمار کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 368]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ہم زرد اور مٹیالے پانی کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔ (حیض شمار نہیں کرتی تھیں۔) [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 25 (326)، سنن ابی داود/الطھارة 199 (308)، سنن ابن ماجہ/فیہ 127 (647)، (تحفة الأشراف 18096) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا شمار حیض میں نہیں کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: مَا يُنَالُ مِنَ الْحَائِضِ وَتَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} الآيَةَ
باب: حائضہ سے استفادہ کا بیان اور اللہ عزوجل کے فرمان: «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 369
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَا يُشَارِبُوهُنَّ وَلَا يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ"، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَأَخْبَرَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: أَنُجَامِعُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَعُّرًا شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ، فَقَامَا فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةَ لَبَنٍ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا، فَعُرِفَ أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہو جاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے متعلق) پوچھا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے (البقرہ: ۲۲۲) نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں، اس پر یہود کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم دونوں اٹھے، اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، اور کہنے لگے: کیا ہم حیض کے دنوں میں ان سے جماع نہ کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں، (اسی دوران) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آیا، تو آپ نے ان کے پیچھے (آدمی) بھیجا وہ انہیں بلا کر لایا، آپ نے ان کو دودھ پلایا، تو اس سے جانا گیا کہ آپ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 369]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہ ان کے ساتھ گھروں میں رہتے۔ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] اور لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: وہ پلید چیز ہے، لہٰذا حیض کی حالت میں عورتوں (کے ساتھ جماع) سے دور رہو۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور گھروں میں انہیں ساتھ رکھیں اور جماع کے سوا سب کچھ کریں۔ یہودی کہنے لگے: یہ رسول تو ہر چیز میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔ حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی اور کہنے لگے: کیا ہم حیض کی حالت میں جماع بھی کر لیا کریں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت متغیر ہو گیا، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوگئے ہیں، لہٰذا وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا، وہ ان کو واپس لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دودھ پلایا جس سے پتہ چل گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 289 وھو مختصر (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَجِبُ عَلَى مَنْ أَتَى حَلِيلَتَهُ فِي حَالِ حَيْضِهَا مَعَ عِلْمِهِ بِنَهْىِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: شرعی ممانعت کا علم رکھنے کے باوجود حالت حیض میں بیوی سے جماع کرنے کے کفارہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 370
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي" الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے ۱؎ اور وہ حائضہ ہو تو وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 370]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت بیان کرتے ہیں جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے کہ: وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 290 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آنے سے کنایہ جماع کرنے کی طرف ہے۔ ۲؎: یہ حکم استحبابی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: مُضَاجَعَةِ الْحَائِضِ فِي ثِيَابِ حَيْضَتِهَا
باب: باب: حائضہ کو حیض کے کپڑے میں ساتھ لٹانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 371
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، قالت: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ". وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں چپکے سے کھسک آئی، اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم حائضہ ہو گئی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ نے مجھے بلایا، تو میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، یہ الفاظ عبیداللہ بن سعید کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 371]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض شروع ہو گیا، میں آہستہ سے نکل گئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے حیض آ گیا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، اس حدیث کے الفاظ عبید اللہ بن سعید کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 284 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: نَوْمِ الرَّجُلِ مَعَ حَلِيلَتِهِ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَهِيَ حَائِضٌ
باب: حائضہ عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 372
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قال: سَمِعْتُ خِلَاسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ لَمْ يَعْدُهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ يَعُودُ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ غَسَلَ مَكَانَهُ لَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو آپ اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی کپڑا میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر اگر دوبارہ مجھ سے آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ پھر اسی طرح کرتے، صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 372]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ایک چادر میں سوتے تھے، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ اگر آپ کو مجھ سے کچھ (خون وغیرہ) لگ جاتا تو آپ اس جگہ کو دھو لیتے، اس سے زائد نہ دھوتے، پھر اس میں نماز پڑھ لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 285 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «شعار» کا لفظ آیا ہے «شعار» اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے لگا ہوتا ہے اور «دثار» اس کپڑے کو جو «شعار» کے اوپر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کو چمٹانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 373
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَشُدَّ إِزَارَهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بیویوں میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ اپنا ازار باندھ لے، پھر آپ اس سے چمٹتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 373]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم (ازواج مطہرات) میں سے کوئی حیض والی حالت میں ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ وہ اپنا ازار باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 286 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تہبند باندھنے کی جگہ سے اوپر کے حصے سے لذت حاصل کرتے یعنی جماع کے علاوہ سب کچھ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ،" أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم سے کوئی جب حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس سے چمٹتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 374]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم (ازواج مطہرات) میں سے کسی کو حیض آنے لگتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ وہ ازار باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 287 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: ذِكْرِ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ إِذَا حَاضَتْ إِحْدَى نِسَائِهِ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی کسی بیوی کو جب حیض آتا تو آپ اس کے ساتھ جو کرتے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 375
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ سَعِيدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي، فَسَأَلَتَاهَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا حَاضَتْ إِحْدَاكُنَّ؟ قَالَتْ: كَانَ" يَأْمُرُنَا إِذَا حَاضَتْ إِحْدَانَا، أَنْ تَتَّزِرَ بِإِزَارٍ وَاسِعٍ ثُمَّ يَلْتَزِمُ صَدْرَهَا وَثَدْيَيْهَا".
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو ان دونوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جب آپ میں سے کوئی حائضہ ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ کہا: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہو جاتی تو آپ ہمیں کشادہ تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر آپ اس کے سینہ اور چھاتی سے چمٹتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 375]
حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ جب ازواج مطہرات میں سے کسی کو حیض آنے لگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب ہم میں سے کسی کو حیض آنے لگتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ ایک وسیع ازار باندھے، پھر اس کا سینہ اور پستان اپنے جسم سے لگا لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي و انظرماقبلہ، (تحفة الأشراف 16055)، مسند احمد 6/123 (منکر) (اس کے راوی ’’صدقہ‘‘ لین الحدیث ہیں، اور ’’جمیع‘‘ سے روایت میں غلطی ہو جایا کرتی تھی، لیکن پچھلی حدیث سے اس کا معنی ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، جميع بن عمير: ضعيف،. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 376
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَاللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ بُدَيَّةَ، وَكَانَ اللَّيْثُ، يَقُولُ: نَدَبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ". فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ تَحْتَجِزُ بِهِ.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حائضہ بیوی سے چمٹتے جب وہ تہبند باندھے ہوتی جو کبھی اس کے دونوں رانوں کے نصف تک پہنچتا، اور کبھی گھٹنوں تک۔ لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 376]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے جب کہ اسے حیض آ رہا ہوتا تھا اور اس پر آدھی رانوں تک یا گھٹنوں تک کپڑا ہوتا۔ لیث کی حدیث میں ہے کہ وہ اس کپڑے سے اپنے جسم کو ڈھانپے ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 288 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (288) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں