سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَالشُّرْبِ مِنْ سُؤْرِهَا
باب: حائضہ کو اپنے ساتھ کھلانے اور اس کا جھوٹا پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 377
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ، قال: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ، كَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ، وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ".
شریح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟، تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے، تو میں آپ کے ساتھ کھاتی، اور میں حائضہ ہوتی، آپ ہڈی لیتے تو مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اس سے اپنے دانتوں سے نوچتی پھر رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے، اور اس سے اپنے دانتوں سے نوچتے، آپ ہڈی پر اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی، اور آپ پانی مانگتے تو پینے سے پہلے مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اسے اٹھا لیتی اور اس میں سے پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے اور اس میں سے پیتے، آپ پیالہ میں اسی جگہ اپنا منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 377]
حضرت شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”کیا عورت حیض کی حالت میں اپنے خاوند کے ساتھ کھا سکتی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے، میں حیض کی حالت میں آپ کے ساتھ کھاتی۔ آپ ایک (گوشت والی) ہڈی پکڑتے، پھر مجھے قسم دیتے، میں اس سے کچھ گوشت نوچتی، پھر اسے رکھ دیتی تو آپ اٹھا لیتے اور اسے نوچنا شروع کر دیتے اور اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا۔ اسی طرح پانی منگواتے اور پینے سے پہلے مجھے قسم دیتے (کہ میں پہلے پیوں) میں پکڑتی اور کچھ پانی پیتی، پھر میں رکھ دیتی تو آپ اٹھا لیتے اور اس سے پیتے اور اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 378
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي أَشْرَبُ مِنْهُ، وَيَشْرَبُ مِنْ فَضْلِ شَرَابِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں سے میں پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا پانی پیتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 378]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک اس جگہ رکھتے جہاں سے میں نے پیا تھا اور میرے بچے ہوئے پانی سے پیتے تھے، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
15. بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِفَضْلِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 379
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُعْطِيهِ فَيَتَحَرَّى مَوْضِعَ فَمِي فَيَضَعُهُ عَلَى فِيهِ".
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے برتن دیتے، تو میں اس سے پیتی جب کہ میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں اسے آپ کو دے دیتی تھی تو آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاشتے اور اسی (جگہ) کو اپنے منہ پر رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 379]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے برتن پکڑاتے، میں اس سے پانی پیتی تھی جب کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، پھر میں برتن آپ کو دے دیتی تو آپ میرے منہ کی جگہ کا قصد کرتے اور اس پر اپنا منہ رکھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 380
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْقَدَحِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ مِنْهُ، وَأَتَعَرَّقُ مِنَ الْعَرْقِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں پیالہ سے پانی پیتی اور میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ رکھتے اور اس سے پیتے، اور میں ہڈی سے اپنے دانت سے گوشت نوچتی اور حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 380]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میں حیض کی حالت میں پیالے سے پانی پیتی، پھر میں پیالہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پیتے۔ اسی طرح میں کوئی ہڈی نوچتی جب کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی، پھر میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک میرے منہ والی جگہ پر رکھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
16. بَابُ: الرَّجُلِ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ
باب: آدمی کا اپنی حائضہ بیوی کی گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 381
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 381]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک ہم (ازواج مطہرات) میں سے کسی کی گود میں ہوتا تھا جب کہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھی اور آپ قرآن پڑھتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 275 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
17. بَابُ: سُقُوطِ الصَّلاَةِ عَنِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ سے نماز ساقط ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 382
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ" كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ".
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ (خارجیہ) ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حائضہ ہوتی تھیں، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 382]
حضرت معاذہ عدویہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حیض والی عورت حیض کے دنوں کی نماز کی قضا ادا کرے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا تو خارجی عورت ہے؟ ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حیض آتا تھا، ہم تو نماز کی قضا ادا نہیں کرتی تھیں اور نہ ہمیں قضا کی ادائیگی کا حکم دیا جاتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض20 (321)، صحیح مسلم/فیہ 15 (335)، سنن ابی داود/الطھارة 105 (262)، سنن الترمذی/فیہ 97 (130)، سنن ابن ماجہ/فیہ 119 (631)، (تحفة الأشراف 17964)، مسند احمد 6/32، 94، 97، 120، 143، 185، 231، /الطھارة 102، 1020، 1021، 1028 ویأتي عند المؤلف في الصوم 36 (برقم 2320) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خوارج کا ایک گروہ ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ حروراء کی طرف منسوب ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے، ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضاء کرے گی، اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کو ان لوگوں سے تشبیہ دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
18. بَابُ: اسْتِخْدَامِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ سے کام لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 383
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ"، فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أُصَلِّي، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ"، فَنَاوَلَتْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! مجھے کپڑا اٹھا دو“، تو انہوں نے کہا: میں (آج کل) نماز نہیں پڑھ رہی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (حیض) تمہارے ہاتھ میں نہیں“، تو انہوں نے کپڑا اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 383]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! مجھے کپڑا پکڑا دو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”میں ان دنوں نماز نہیں پڑھتی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (تمہارا حیض) تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“ چنانچہ انہوں نے کپڑا پکڑا دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 271 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حائضہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 384
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: قالت عَائِشَةُ، قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ". قَالَ إِسْحَاقُ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو“، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی پکڑاؤ۔“ میں نے کہا: مجھے حیض آ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں یہ حدیث ابو معاویہ نے بھی اعمش کی سند سے اسی طرح بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 272 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
19. بَابُ: بَسْطِ الْحَائِضِ الْخُمْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ
باب: حائضہ کے مسجد میں چٹائی بچھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ".
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ۱؎ وہ حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 385]
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک ہم میں سے کسی کی گود میں رکھ کر قرآن مجید تلاوت فرماتے تھے، حالانکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ اسی طرح ہم میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چٹائی لے جا کر مسجد میں بچھاتی تھی، حالانکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 274 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بغیر مسجد میں داخل ہوئے اور یہ ممکن ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
20. بَابُ: تَرْجِيلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ
باب: حائضہ کے مسجد میں معتکف اپنے شوہر کے سر میں کنگھا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 386
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ" تُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتیں وہ حائضہ ہوتیں، اور آپ معتکف ہوتے، (اس طرح کہ) آپ اپنا سر (مسجد سے نکال کر) ان کے پاس کر دیتے، اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 386]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”وہ حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو کنگھی کر دیا کرتی تھیں جب کہ آپ معتکف ہوتے تھے۔ آپ انہیں اپنا سر پکڑا دیتے تھے اور وہ اپنے حجرے ہی میں ہوتی تھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإعتکاف 19 (2046)، (تحفة الأشراف 16641)، صحیح مسلم/الحیض3 (297)، سنن ابی داود/الصوم 79 (2467)، سنن الترمذی/فیہ 80 (804)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 120 (633)، موطا امام مالک/الطھارة 28 (102)، مسند احمد 6/104، 204، 231، 234، 247، 262، 272، سنن الدارمی/الطھارة 108، 1098 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه