🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: الْفَضْلِ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد بنانے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی مسجد بنائی جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 689]
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے (اس غرض سے) مسجد بنائی کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اللہ عزوجل جنت میں اس کا گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10767)، مسند احمد 4/386 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: الْمُبَاهَاةِ فِي الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کی تعمیر میں فخر و مباہات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد بنانے میں فخر و مباہات کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 690]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی نشانی ہے کہ لوگ مساجد میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 12 (449)، سنن ابن ماجہ/المساجد 2 (739)، (تحفة الأشراف: 951)، مسند احمد 3/134، 145، 152، 230، 283، سنن الدارمی/الصلاة 123 (1448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: ذِكْرِ أَىِّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلاً
باب: سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قال: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السِّكَّةِ، فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلًا؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى"، قُلْتُ: وَكَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" أَرْبَعُونَ عَامًا، وَالْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ".
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ گلی میں راستہ چلتے ہوئے میں اپنے والد (یزید بن شریک) کو قرآن سنا رہا تھا، جب میں نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے سجدہ کیا، میں نے کہا: ابا محترم! کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام، میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ ۱؎ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، اور پوری روئے زمین تمہارے لیے سجدہ گاہ ہے، تو تم جہاں کہیں نماز کا وقت پا جاؤ نماز پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 691]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں گلی میں اپنے والد محترم پر قرآن مجید کی قراءت کر رہا تھا، جب میں نے سجدے کی آیت پڑھی تو انہوں نے وہیں سجدہ کر دیا۔ میں نے کہا: ابا جان! کیا آپ راستے میں سجدہ کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام (بیت اللہ)۔ میں نے کہا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)۔ میں نے کہا: ان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال، ویسے ساری زمین تیرے لیے نماز کی جگہ ہے، جہاں بھی تیرے لیے نماز کا وقت ہو جائے، وہیں نماز پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3366)، 40 (3425)، صحیح مسلم/المساجد 1 (520)، سنن ابن ماجہ/المساجد 7 (753)، (تحفة الأشراف: 11994)، مسند احمد 5/150، 156، 157، 160، 166، 167 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کا مسجد بنانا مراد نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے، بلکہ مراد آدم علیہ السلام کا بنانا ہے، ابن ہشام کی کتاب التیبحان میں ہے کہ آدم علیہ السلام جب کعبہ بنا چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس جانے اور ہاں ایک مسجد بنانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ گئے اور جا کر وہاں بھی انہوں نے ایک مسجد بنائی، (کذا فی زہرالربی)، حافظ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ ۱؍۱۶۲) میں لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کا کہنا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر پہلے یعقوب علیہ السلام نے کی ہے، اگر یہ قول صحیح ہے تو ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام کے خانہ کعبہ کی تعمیر اور یعقوب علیہ السلام کے مسجد الاقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا فاصلہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسا دوسری بار ہوا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
باب: مساجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الصَّلَاةُ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھی تو میں نے اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ: اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے، سوائے خانہ کعبہ کے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 692]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) مسجد میں نماز پڑھے تو مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دوسری مساجد کی ہزار نماز سے افضل ہے، مگر مسجدِ کعبہ میں نماز (مسجدِ نبوی سے بھی افضل ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 94 (1396) (وعندہ ’’عن ابن عباس عن میمونة، وھو الصواب کما في التحفة، (تحفة الأشراف: 18057)، مسند احمد 6/333، ویأتی عند المؤلف في المناسک 124 (برقم: 2901) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خانہ کعبہ کی ایک رکعت مسجد نبوی کی سو رکعت کے برابر ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے «صلاۃ فی مسجدي ہذا أفضل من ألف صلاۃ في غیرہ إلا المسجدالحرام فإنہ أفضل منہ بمائۃ صلاۃ» میری مسجد (مسجد نبوی) میں نماز دوسری مسجدوں سے ہزار گنا افضل (بہتر) ہے، ہاں، مسجد الحرام میں نماز اس (مسجد نبوی) سے سو گنا افضل (بہتر) ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الْكَعْبَةِ
باب: خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 693]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے دروازہ بند کر لیا (تاکہ لوگ رش نہ کریں)۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا تو میں سب سے پہلے داخل ہوا۔ میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا۔ میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے (اگلی صف کے بائیں طرف والے) دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (468)، 96 (504، 505)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598، 1599)، الجھاد 127 (2988) مطولاً، المغازي 49 (4289) مطولاً، 77 (4400) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن ابی داود/الحج 93 (2023، 2024، 2025)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 79 (3063)، (تحفة الأشراف: 2037)، موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد 2/23، 33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15، سنن الدارمی/المناسک 43 (1909)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 750، 2908، 2909، 2910، 2911 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: فَضْلِ الْمَسْجِدِ الأَقْصَى وَالصَّلاَةِ فِيهِ
باب: مسجد الاقصیٰ (بیت المقدس) اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثَةً: سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَأْتِيَهُ أَحَدٌ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کریں جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 694]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے جب بیت المقدس بنایا تو اللہ تعالیٰ سے تین خصوصیات مانگیں: ایسا فیصلہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو۔ یہ مان لی گئی۔ ایسی حکومت جو ان کے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ یہ بھی مان لی گئی۔ جب آپ مسجد (بیت المقدس) بنانے سے فارغ ہوئے تو یہ دعا مانگی کہ جو شخص بھی اس مسجد میں آئے اور اسے آنے پر نماز ہی نے ابھارا ہو تو اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح اس کی ماں نے اسے (گناہوں سے پاک) جنا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة 196 (1408)، (تحفة الأشراف: 8844)، مسند احمد 2/176 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: فَضْلِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالصَّلاَةِ فِيهِ
باب: مسجد نبوی اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ، وَكَانَا مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" صَلاةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدُهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ". قَالَ 63 أَبُو سَلَمَةَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ، يَقُولُ: عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُنِعْنَا أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ وَتَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ جَالَسْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ 63، فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ۱؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیوں نہیں گفتگو کر لی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ (مسجد نبوی) آخری مسجد ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 695]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دو شاگرد حضرت ابوسلمہ اور ابو عبداللہ اغر بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ایک نماز پڑھنا دوسری مساجد میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے مگر مسجد حرام میں (مسجد نبوی سے بھی افضل ہے) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ ابوسلمہ اور ابو عبداللہ نے کہا: اس میں ہمیں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کر رہے ہیں۔ اس یقین نے ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی تحقیق کرنے سے روکے رکھا حتیٰ کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ہم نے اس بات کا تذکرہ کیا اور ایک دوسرے کو ملامت کی کہ کیوں نہ ہم نے اس بارے میں ان سے تحقیق کی؟ حتیٰ کہ وہ صراحتاً اس حدیث کو، اگر انھوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتے۔ ہماری یہی حالت تھی کہ ہمیں حضرت عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کے ساتھ مجلس کا اتفاق ہوا۔ ہم نے ان کے سامنے یہ حدیث اور اس بارے میں ہم سے ہونے والی کوتاہی کا ذکر کیا تو عبداللہ بن ابراہیم ہمیں کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد (کسی نبی کی) آخری مسجد ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «من طریق عبداللہ بن إبراہیم بن قارظ عن أبي ہریرة أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 94 (1394)، (تحفة الأشراف: 13551)، مسند احمد 2/251، 273، ومن طریق أبي عبداللہ (سلمان الأغر) عن أبي ہریرة قد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة 1 (1190)، صحیح مسلم/الحج 94 (1394)، سنن الترمذی/الصلاة 126 (325)، سنن ابن ماجہ/إقامة 195 (1404)، موطا امام مالک/القبلة 5 (9)، مسند احمد 2/256، 386، 466، 473، 485، سنن الدارمی/الصلاة 131 (1458)، (تحفة الأشراف: 13464)، وحدیث أبي سلمة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14960) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان تینوں مساجد میں جن کی فضیلت کی گواہی دی گئی ہے مسجد نبوی آخری مسجد ہے، یا انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حصہ میرے گھر ۱؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 696]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی فاصلہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة 5 (1195)، صحیح مسلم/الحج 92 (1390)، موطا امام مالک/القبلة 5 (11)، (تحفة الأشراف: 5300)، مسند احمد 4/39، 40، 41 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گھر سے مراد حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے جس میں آپ کی قبر شریف ہے، طبرانی کی روایت میں «ما بين المنبر وبيت عائشة» ہے، اور بزار کی روایت (کشف الاستار۲/۵۶) میں «ما بين قبري ومنبري» ہے۔ ۲؎: اس کی تاویل میں کئی اقوال وارد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اتنی جگہ اٹھ کر جنت کی ایک کیاری بن جائے گی، دوسرا قول یہ ہے جو شخص یہاں عبادت کرے گا جنت میں داخل ہو گا، اور جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری پائے گا، تیسرا قول یہ ہے کہ یہ حصہ جنت ہی سے آیا ہوا ہے، چوتھا قول یہ ہے کہ اس میں حرف تشبیہ محذوف ہے «ای کروضۃ فی نزول الرحمۃ والسعادۃ بما یحصل من ملازمۃ حلق الذکر لا سیما فی عہدہ صلی اللہ علیہ وسلم » یعنی رحمت و سعادت کے نازل ہونے میں روضہ کی طرح ہے، ذکر کے حلقات کی پابندی سے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمِّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ قَوَائِمَ مِنْبَرِي هَذَا رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اس منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 697]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اس منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18235)، مسند احمد 6/289، 292 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: ذِكْرِ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى
باب: تقویٰ اور اخلاص کی بنیاد پر بنائی جانے والی مسجد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ مَسْجِدِي هَذَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس بارے میں لڑ پڑے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو ایک شخص نے کہا: یہ مسجد قباء ہے، اور دوسرے نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری یہ مسجد ہے (یعنی مسجد نبوی)۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 698]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں کا اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا ﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ﴾ [سورة التوبة: 108] جس کی بنیاد شروع دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے۔ دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری مسجد (مسجد نبوی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 96 (1398)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة 10 (3099)، (تحفة الأشراف: 4118)، مسند احمد 3/8، 89 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں