🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: الْعَمَلِ فِي افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ
باب: نماز شروع کرنے کے طریقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 877
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي سَالِمٌ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلَا حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کر لیتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، پھر جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ۱؎، اور «ربنا ولك الحمد» کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 877]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرِ تحریمہ کہتے تو «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے وقت اپنے ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں اپنے کندھوں کے برابر کرتے، پھر جب رکوع کی تکبیر کہتے تو اسی طرح کرتے، پھر جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے تو پھر بھی ایسے ہی کرتے اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے کہتے، اور جب سجدے کو جاتے یا سجدے سے سر اٹھاتے تو ایسے نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 85 (738)، (تحفة الأشراف: 6841)، صحیح البخاری/الأذان 83 (735)، 84 (736)، 86 (739)، صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (721)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (255)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (858)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، مسند احمد 2 / 8، 18، 44، 47، 62، 100، 147، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1347، 1348) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے، جو لوگ اسے منسوخ یا مکروہ کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں کیونکہ اگر رفع یدین کا نہ کرنا کبھی کبھی ثابت بھی ہو جائے تو یہ رفع یدین کے سنت نہ ہونے پر دلیل نہیں، کیونکہ سنت کی شان ہی یہ ہے کہ اسے کبھی کبھی ترک کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ
باب: اللہ اکبر کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ قَالَ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 878]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ وہ آپ کے کندھوں کے برابر ہو جاتے، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فعل اس وقت بھی کرتے جب رکوع کی تکبیر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پھر یہی کرتے اور فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» اور سجدے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 84 (736)، صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، (تحفة الأشراف: 6979) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ
باب: نماز دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 879
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ان دونوں کو اسی طرح اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده‏»، «ربنا ولك الحمد‏» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 879]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو انہیں اسی طرح اٹھاتے اور فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے اور سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 83 (735)، (تحفة الأشراف: 6915)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، مسند احمد 2/18، 62، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1285)، 71 (1347، 1348)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1058، 1060 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ حِيَالَ الأُذُنَيْنِ
باب: نماز دونوں ہاتھ کانوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 880
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ: آمِينَ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 880]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ وہ کانوں کے برابر ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ پڑھی۔ جب سورت سے فارغ ہوئے تو بلند آواز سے «آمِيْن» آمین کہی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11763)، مسند احمد 4/318، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1277)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (724) (بدون ذکر آمین)، سنن ابن ماجہ/إقامة 14 (855)، (بدون ذکر رفع الیدین)، مسند احمد 4/315 (بدون ذکر رفع الیدین)، 316 (بدون ذکر آمین) 318 (بتمامہ)، وانظر حدیث وائل من غیر طریق عبدالجبار عن أبیہ عند: صحیح مسلم/الصلاة 15 (401)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (723)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (867)، مسند احمد 4/316، 317، 318، 319 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض روایتوں میں «یرفع بہا صوتہ» کے بجائے «یخفض بہا صوتہ» ہے، لیکن محدثین اسے وہم قرار دیتے ہیں، گو بعض فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن محدثین کے مقابلہ میں فقہاء کی ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ عبدالجبار بن وائل کا سماع ان کے والد وائل رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت عبدالجبار کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، اور صحیح ہے، (دیکھئیے تخریج)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 881
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے (تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے)۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 881]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو تکبیرِ تحریمہ کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو بھی رفع الیدین کرتے)۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 9 (391)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (745)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (859)، (تحفة الأشراف: 11184)، مسند احمد 3/436، 437، 5/53، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1025، 1057، 1086، 1087، 1088، 1144 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا (تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 882]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، اس وقت بھی (ہاتھ اٹھاتے) حتیٰ کہ وہ کانوں کے کناروں کے برابر ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لیے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: مَوْضِعِ الإِبْهَامَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ
باب: ہاتھ اٹھاتے وقت دونوں انگوٹھوں کو کہاں تک اٹھائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 883
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قال: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكَادَ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 883]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی تو اپنے ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ قریب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انگوٹھے کانوں کی لوؤں (نچلے کنارے) کے برابر ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 117 (737)، (تحفة الأشراف: 11759)، مسند احمد 4/316 (ضعیف الإسناد) (لیکن شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت صحیح ہے، دیکھئے رقم: 880 کی تخریج)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (737) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ مَدًّا
باب: دونوں ہاتھوں کو بڑھا کر اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 884
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ، قال: جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقَالَ:" ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ مَدًّا وَيَسْكُتُ هُنَيْهَةً وَيُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ".
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے، اور کہنے لگے: تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۱؎، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۲؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 884]
حضرت سعید بن سمعان سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنی زریق کی طرف آئے اور کہنے لگے: تین چیزیں ایسی ہیں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے تھے لیکن لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے: آپ نماز میں اچھی طرح ہاتھ اٹھا کر رفع الیدین کرتے تھے، آپ کچھ دیر خاموش رہا کرتے تھے اور آپ جب سجدہ کرتے یا سر اٹھاتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 119 (753) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 63 (240) مختصراً، (تحفة الأشراف: 13081)، مسند احمد 2/375، 434، 500، سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے وقت میں بعض سنتوں پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ۲؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد، جیسا کہ حدیث رقم (۸۹۶) میں جو آ رہی ہے صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: فَرْضِ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى
باب: تکبیر تحریمہ کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 885
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى كَمَا صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (پھر) فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے (نماز پڑھنا) سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 885]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک اور آدمی بھی آیا اور اس نے نماز پڑھی۔ پھر وہ آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا۔ دوبارہ نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا۔ آپ نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» اور تم پر بھی سلامتی ہو۔ واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس آدمی نے تین دفعہ ایسے ہی کیا۔ آخر اس آدمی نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نہیں پڑھ سکتا، لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجیے۔ آپ نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو (سب سے پہلے) «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہو۔ پھر جس قدر تو قرآن پڑھ سکے، پڑھ۔ پھر رکوع کر حتیٰ کہ تجھے رکوع میں اطمینان نصیب ہو۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ سجدے میں تجھے اطمینان حاصل ہو۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے۔ پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کر۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 95 (757)، 122 (793)، الإستئذان 18 (6252)، الأیمان والنذور 15 (6667)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397)، سنن ابی داود/الصلاة 148 (856)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (303)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 14304)، مسند احمد 2/437 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مؤلف نے تکبیر تحریمہ کی فرضیت پر استدلال کی۔ ۲؎: اس سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: الْقَوْلِ الَّذِي يُفْتَتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ
باب: وہ کلمہ جس کے ذریعہ نماز شروع کی جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 886
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قال: قَامَ رَجُلٌ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ:" لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا‏» اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 886]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ اور ہر تعریف اللہ کے لیے ہے، بے انتہا۔ اور صبح و شام اللہ ہی کی پاکیزگی بیان ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلمات کس نے کہے تھے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بارہ فرشتے بیک وقت ان کلمات کی طرف لپکے تھے۔ (ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ ان کلمات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرے۔) [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 27 (601)، سنن الترمذی/الدعوات 127 (3592)، (تحفة الأشراف: 7369)، مسند احمد 2/14، 97 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہر ایک چاہتا تھا کہ اسے اللہ کے حضور لے جانے کا شرف اسے حاصل ہو۔ ۲؎: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان صحیح احادیث میں متعدد اذکار اور ادعیہ کا ذکر آیا ہے، ان میں سے کوئی بھی دعا پڑھی جا سکتی ہے، اور بعض لوگوں نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ «سبحانک اللہم» کے علاوہ باقی دیگر دعائیں نماز تہجد، اور دیگر نفل نمازوں کے لیے ہیں تو یہ مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں