سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: الْقَوْلِ الَّذِي يُفْتَتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ
باب: وہ کلمہ جس کے ذریعہ نماز شروع کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 887
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" عَجِبْتُ لَهَا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ" قَالَ: ابْنُ عُمَرَ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران لوگوں میں سے ایک شخص نے: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں“ کہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کلمہ پر حیرت ہوئی“، اور آپ نے ایک ایسی بات ذکر کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے میں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 887]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں بہت زیادہ، اور اللہ کی پاکی ہے صبح اور شام“ (نماز کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کلمات کس شخص نے کہے تھے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان پر بہت تعجب ہوا، ان کے لیے آسمان کے سب دروازے کھول دیے گئے۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، اس وقت سے میں نے اس دعا کو نہیں چھوڑا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
9. بَابُ: وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 888
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، وَقَيْسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ قَائِمًا فِي الصَّلَاةِ قَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا بایاں ہاتھ پکڑتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 888]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر اسے پکڑتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11778)، مسند احمد 4/316، 318 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
10. بَابُ: فِي الإِمَامِ إِذَا رَأَى الرَّجُلَ قَدْ وَضَعَ شِمَالَهُ عَلَى يَمِينِهِ
باب: امام جب کسی شخص کو اپنا بائیاں ہاتھ داہنے ہاتھ پہ رکھے ہوئے دیکھے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 889
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قال:" رَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعْتُ شِمَالِي عَلَى يَمِينِي فِي الصَّلَاةِ فَأَخَذَ بِيَمِينِي فَوَضَعَهَا عَلَى شِمَالِي".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 889]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز میں اس حالت میں دیکھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا تو آپ نے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اور اسے بائیں پر رکھ دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 120 (755)، سنن ابن ماجہ/إقامة 3 (811)، (تحفة الأشراف: 9378)، مسند احمد 1/347 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
11. بَابُ: مَوْضِعِ الْيَمِينِ مِنَ الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر کہاں رکھے؟
حدیث نمبر: 890
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قال: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ، قال:" قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا قَالَ: وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں ؛ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل لے گئے، پھر آپ نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی (کی پشت)، کلائی اور بازو پر رکھا ۱؎، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل رکھا، پھر آپ نے قعدہ کیا، اور اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کا سرا اپنی داہنی ران کے اوپر اٹھائے رکھا، پھر آپ نے اپنی انگلیوں میں سے دو کو بند ۲؎ کر لیا، اور (بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ (دائرہ) بنا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 890]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) میں نے (اپنے دل میں) کہا: ”میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟“ چنانچہ میں نے (توجہ سے) آپ کی طرف دیکھا۔ آپ کھڑے ہوئے، «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر ہو گئے۔ پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، جوڑ اور کلائی پر رکھا۔ پھر جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے اسی (پہلے رفع الیدین کی) طرح ہاتھ اٹھائے اور آپ نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے۔ پھر جب آپ نے اپنا سر اٹھایا تو اسی طرح رفع الیدین کیا۔ پھر سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا۔ پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا۔ پھر ہاتھ کی دو انگلیاں بند کیں اور (درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنایا۔ پھر اپنی (تشہد کی) انگلی کو اٹھایا، چنانچہ میں نے دیکھا، آپ اسے حرکت دیتے تھے، اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، 180 (957)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (868)، (تحفة الأشراف: 11781)، مسند احمد 4/316، 317، 318، 319، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1103، 1264، 1266، 1269 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا مسنون ہے، اور حدیث رقم (۸۸۸) میں داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کے پکڑنے کا ذکر ہے یہ دونوں طریقے مسنون ہیں، بعض لوگوں نے جو یہ صورت ذکر کی ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے، اور اپنے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کی کلائی پکڑے تو یہ بدعت ہے، اس کا ثبوت نہیں، رہا یہ سوال کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھ کہاں رکھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے اپنے سینے پر رکھے، کیونکہ ہاتھوں کا سینے پر ہی رکھنا ثابت ہے، اس کے خلاف جو بھی روایت ہے یا تو وہ ضعیف ہے یا تو پھر اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ ۲؎: یعنی خنصر اور بنصر کو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
12. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ التَّخَصُّرِ، فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 891
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 891]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث إسحاق بن إبراہیم تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14516)، وحدیث سوید بن نصر أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 11 (545)، (تحفة الأشراف: 14532)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 17 (1220)، سنن ابی داود/الصلاة 176 (947)، سنن الترمذی/الصلاة 165 (383)، مسند احمد 2/232، 290، 295، 331، 399، سنن الدارمی/الصلاة 138 (1468) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎ نماز بارگاہ الٰہی میں عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے، اس کے برخلاف کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے تکبر کا اظہار ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو اسی طرح چلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 892
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ قال: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَصْرِي فَقَالَ لِي" هَكَذَا ضَرْبَةً بِيَدِهِ فَلَمَّا صَلَّيْتُ قُلْتُ: لِرَجُلٍ مَنْ هَذَا قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي قَالَ:" إِنَّ هَذَا الصَّلْبُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْهُ".
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ (کمر) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے (پوچھا) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 892]
حضرت زیاد بن صبیح رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھ لیا۔ انہوں نے اپنا ہاتھ مارا (اشارہ کیا)، جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے ایک آدمی سے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔“ میں نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! آپ کو مجھ سے کیا شکایت تھی؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ حالت سولی پر لٹکائے ہوئے شخص کی ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے۔““ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 160 (903) مختصراً، (تحفة الأشراف: 6724)، مسند احمد 2/30، 106 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
13. بَابُ: الصَّفِّ بَيْنَ الْقَدَمَيْنِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں دونوں قدموں کے ملانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 893
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ:" خَالَفَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيَّ".
ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملا کر نماز پڑھ رہا ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سنت کی مخالفت کی ہے، اگر یہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو بہتر ہوتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 893]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ نماز کی حالت میں اپنے دونوں پاؤں آپس میں ملائے ہوئے تھا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس نے سنت کی مخالفت کی، اگر یہ ان میں فاصلہ کر کے راحت حاصل کرتا تو بہتر ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9631) (ضعیف الإسناد) (ابو عبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہونے کی وجہ سے سنداً یہ روایت ضعیف ہے)»
وضاحت: ۱؎: سنداً اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، مگر بات یہی صحیح ہے کہ نمازی اپنے دونوں قدموں کو آپس میں ملائے نہیں، کیونکہ اس کو جماعت میں اپنے بغل کے نمازی کے قدم سے قدم ملانا ہے، اگر منفرد ہے تب بھی اپنے قدموں کو آپس میں ملانے سے اس کو پریشانی ہو گی، الگ الگ رکھنے میں راحت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
حدیث نمبر: 894
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مَيْسَرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ:" أَخْطَأَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 894]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو نماز کی حالت میں دیکھا تو فرمایا: ”یہ شخص سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطا کر گیا، اگر یہ پاؤں کھلے رکھ کر راحت حاصل کرتا تو مجھے زیادہ اچھا لگتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (سند میں ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے)۔»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (893) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
14. بَابُ: سُكُوتِ الإِمَامِ بَعْدَ افْتِتَاحِهِ الصَّلاَةَ
باب: نماز شروع کرنے کے بعد امام کے (تھوڑی دیر) خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 895
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَتْ لَهُ سَكْتَةٌ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 895]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو کچھ دیر خاموش رہتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 60 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد اور قرات شروع کرنے سے پہلے، اس درمیان آپ دعا ثنا پڑھتے تھے، جیسا کہ اگلی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
15. بَابُ: الدُّعَاءِ بَيْنَ التَّكْبِيرَةِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 896
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ قَالَ أَقُولُ:" اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے، تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہتا ہوں: «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد» ”اے اللہ! تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر رکھی ہے، اے اللہ! تو مجھے میرے گناہوں سے پاک صاف کر دے جس طرح میل کچیل سے سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 896]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ تکبیرِ تحریمہ اور قراءت کے درمیان خاموشی کے دوران میں کیا پڑھتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پڑھتا ہوں: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ» ”اے اللہ! میرے اور میری غلطیوں کے درمیان اتنا فاصلہ فرما دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری غلطیوں سے اس طرح پاک اور صاف فرما جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے غلطیوں سے برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔““ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 60 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح