سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم اهدني لأحسن الأعمال وأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت وقني سيئ الأعمال وسيئ الأخلاق لا يقي سيئها إلا أنت» ”بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! مجھے حسن اعمال اور حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھے برے اعمال اور قبیح اخلاق سے بچا، تیرے سوا کوئی ان برائیوں سے بچا نہیں سکتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 897]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہتے، پھر فرماتے: ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] «اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ، لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» ”یقیناً میری نماز، میری دیگر عبادات، میری زندگی اور میری موت صرف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! مجھے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی رہنمائی نصیب فرما۔ یقیناً ان کی طرف تیرے سوا کوئی رہنمائی نہیں کرسکتا۔ اور مجھے برے اعمال اور برے اخلاق سے بچا۔ یقیناً تیرے سوا کوئی ان سے بچا نہیں سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3048) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
17. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 898
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ:" وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت أنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» ”میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! تو صاحب قوت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیرا غلام ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کوئی نہیں کر سکتا، اور مجھے حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھ سے برے اخلاق پھیر دے، تیرے سوا اس کی برائی مجھ سے کوئی پھیر نہیں سکتا، میں تیری تابعداری کے لیے باربار حاضر ہوں، اور ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے، اور شر سے تیرا کوئی علاقہ نہیں ۲؎، میں تیری وجہ سے ہوں، اور مجھے تیری ہی طرف پلٹنا ہے، تو صاحب برکت اور صاحب علو ہے، میں تجھ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور تجھ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 898]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہتے اور فرماتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ... وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ” ﴿میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائے، اس حال میں کہ میں سچے دین کا تابع دار ہوں اور جھوٹے دین سے بیزار ہوں۔ اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک بناتے ہیں﴾ [سورة الأنعام: 79] ۔ ﴿یقیناً میری نماز، میری دیگر عبادات، میری زندگی اور میری موت صرف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے﴾ [سورة الأنعام: 162-163] اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو کامل بادشاہ ہے۔ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ میں تیرا بندہ اور غلام ہوں۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، لہٰذا میرے سارے گناہ معاف فرما۔ تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں۔ اور اچھی عادات و اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما۔ تیرے سوا کوئی ان کی طرف رہنمائی نہیں کر سکتا۔ اور برے اخلاق و عادات کو مجھ سے دور فرما۔ تیرے سوا کوئی انہیں دور نہیں کر سکتا۔ میں حاضر ہوں۔ میں تیرا فرماں بردار ہوں۔ اور خیر سب کی سب تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں۔ میں تیری مدد سے ہوں اور تیرے سپرد ہوں۔ تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (744)، 121 (760، 761)، 360 (1509)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422، 3423)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (864)، 70 (1054)، (تحفة الأشراف: 10228)، مسند احمد 1/93، 94، 95، 102، 103، 119، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1051، 1127 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابن حبان (۳/۱۳۱) کے الفاظ ہیں: ”جب نماز شروع کرتے …“ اس سے ثابت ہوا کہ بعض حضرات کا یہ کہنا کہ یہ دعائیں نوافل میں پڑھتے تھے، درست نہیں، یہ ساری دعائیں وقتاً فوقتاً بدل بدل کر پڑھی جا سکتی ہیں۔ ۲؎: شر کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ اس کے فعل میں کوئی شر نہیں، بلکہ اس کے سارے افعال خیر ہیں، اس لیے کہ وہ سب سراسر عدل و حکمت پر مبنی ہیں، علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ خیر و شر دونوں کا خالق ہے پس شر اس کی بعض مخلوقات میں ہے، اس کی تخلیق و عمل میں نہیں، اسی لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس ظلم سے پاک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 899
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ثُمَّ يَقْرَأُ".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے: «اللہ أكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك» ”اللہ بہت بڑا ہے، میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب (پالنہار) ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو صاحب قدرت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تیری ذات تمام عیوب سے پاک ہے، اور تو لائق حمد وثناء ہے)، پھر قرآت فرماتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 899]
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے (پھر کہتے:) «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ” ﴿میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ سب کو چھوڑ کر اسی کا ہو چکا ہوں۔ اسی کا فرمانبردار ہوں اور مشرک نہیں۔﴾ [سورة الأنعام: 79] ﴿یقیناً میری نماز، میری دیگر عبادات، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔﴾ [سورة الأنعام: 162-163] اے اللہ! تو ہے حقیقی بادشاہ۔ تیرے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں۔ تو ہر قسم کے نقائص و عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفوں کا مالک ہے۔“ پھر قراءت فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11230)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف بأرقام: 1053، 1129 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
18. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَيْنَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ
باب: نماز شروع کرنے اور قرأت کرنے کے بیچ کی ایک اور دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 900
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تو (شرک اور تمام عیبوں سے) پاک ہے، اور لائق حمد ہے، تیرا نام بابرکت ہے، اور تیری شان بلند و بالا ہے، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 900]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو (ہر قسم کے نقائص و عیوب سے) پاک ہے اور سب تعریفوں والا ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 122 (775) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 65 (224) مطولاً، سنن ابن ماجہ/إقامة 1 (804)، (تحفة الأشراف: 4252)، مسند احمد 3/50، 69، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1275) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 901
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تو (تمام عیبوں سے) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 901]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور سب تعریفوں والا ہے، اور تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
19. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
باب: تکبیر تحریمہ کے بعد کی ایک اور دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 902
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ:" أَيُّكُمُ الَّذِي تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ" فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا، اور مسجد میں داخل ہوا اس کی سانس پھول گئی تھی، تو اس نے «اللہ أكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» ”اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ایسی تعریف جو پاکیزہ بابرکت ہو“ کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو پوچھا: ”یہ کلمے کس نے کہے تھے؟“ لوگ خاموش رہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی“، تو اس شخص نے کہا: میں نے اے اللہ کے رسول! میں آیا اور میری سانس پھول رہی تھی تو میں نے یہ کلمات کہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا سب جھپٹ رہے تھے کہ اسے کون اوپر لے جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 902]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور مسجد میں داخل ہوا جب کہ اس کا سانس پھولا ہوا تھا، اس نے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”اللہ بہت بڑا ہے، تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، بہت زیادہ تعریف، پاکیزہ تعریف، بابرکت تعریف۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری فرمائی تو پوچھا: ”تم میں سے کس نے کچھ کلمات (بلند آواز سے) کہے تھے؟“ لوگ خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کا خوف دور کرنے کے لیے) فرمایا: ”بے شک! اس نے کوئی غلط کلمات نہیں کہے۔“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے، دراصل میں آیا تو میرا سانس پھولا ہوا تھا (بے اختیار آواز بلند ہوگئی) تو میں نے وہ کلمات کہے تھے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے ان کلمات کی طرف لپکے تھے کہ کون ان کلمات کو اٹھا کر لے جائے (اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرے؟)“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 27 (600)، سنن ابی داود/الصلاة 121 (763)، (تحفة الأشراف: 313، 612، 1157)، مسند احمد 3/167، 168، 188، 252 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
20. بَابُ: الْبَدَاءَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَبْلَ السُّورَةِ
باب: سورت سے پہلے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 903
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 903]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما قراءت کو ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے شروع فرمایا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 68 (246)، سنن ابن ماجہ/إقامة 4 (813)، (تحفة الأشراف: 1435)، مسند احمد 3/101، 111، 114، 183 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 904
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قال: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" فَافْتَتَحُوا بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی تو ان لوگوں نے «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 904]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نمازیں پڑھیں، ان سب نے قراءت کا آغاز ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 4 (813)، (تحفة الأشراف: 1142)، مسند احمد 3/111 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
21. بَابُ: قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
باب: (نماز میں) «بسم اللہ الرحمن الرحیم» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 905
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال: بَيْنَمَا ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَزَلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ {1} فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ {2} إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ {3} سورة الكوثر آية 1-3، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ:" فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ تَرِدُهُ عَلَيَّ أُمَّتِي فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ: إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے «بسم اللہ الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» ”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 905]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے تھے کہ آپ کو اونگھ سی آگئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔ ہم نے آپ سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ہنسنے کا سبب کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] ”اللہ رحمن و رحیم کے نام سے (شروع)۔ بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، لہٰذا اپنے رب تعالیٰ کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ یقیناً آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا۔““ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو، کوثر کیا ہے؟“ ہم نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ میری امت اس پر میرے پاس آئے گی۔ ایک آدمی کو ان میں سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: ”اے میرے رب! یہ شخص تو میری امت سے ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”آپ نہیں جانتے، آپ کے بعد اس نے کیا نیا کام کیا۔““ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 14 (400)، الفضائل 9 (2304) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 124 (784) مختصراً، والسنة 26 (4747) مختصراً، (تحفة الأشراف: 1575)، مسند احمد 3/102، 281 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 906
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قال: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ: آمِينَ فَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ وَيَقُولُ" كُلَّمَا سَجَدَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
نعیم المجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کہا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھی، اور جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پر پہنچے آمین کہی، لوگوں نے بھی آمین کہی ۱؎، اور جب جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور جب سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 906]
حضرت نعیم مجمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، نہایت رحم والا ہے“ پڑھی، پھر سورہ فاتحہ پڑھی حتیٰ کہ جب ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پر پہنچے تو «آمِيْن» ”اے اللہ! قبول فرما“ کہی۔ لوگوں نے بھی «آمِيْن» کہی۔ اور جب وہ سجدہ کو جاتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ کر اٹھتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم سب سے بڑھ کر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں۔““ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14646)، مسند احمد 2/497 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ امام و مقتدی دونوں بلند آواز سے آمین کہیں گے، ایک روایت میں صراحت سے اس کا حکم آیا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے گی تو اس کے سارے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اس سے امام کے آمین نہ کہنے پر امام مالک کا استدلال باطل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح