سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ}
باب: تفسیر آیت کریمہ: ”یقیناً ہم آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہے اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے“۔
حدیث نمبر: 917
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي سورة الحجر آية 87 قَالَ:" السَّبْعُ الطُّوَلُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ عزوجل کے قول: «سبعا من المثاني» کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 917]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي﴾ [سورة الحجر: 87] کے بارے میں فرمایا کہ ”اس سے سات لمبی سورتیں مراد ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5590) (حسن) (سند میں شریک القاضی ضعیف اور ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن لغیرہ ہے، اور اصل حدیث صحیح ہے کماتقدم، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 5/200، رقم: 1312) اور مشہور حسن کے نسخے میں ضعیف لکھا ہے اور حوالہ صحیح ابی داود کا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ اس کی سند میں ضعف ہے اور اصل حدیث صحیح ہے۔»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
27. بَابُ: تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فِيمَا لَمْ يَجْهَرْ فِيهِ
باب: سری نمازوں میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 918
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" مَنْ قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی؟“ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 918]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”سورت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] کس نے پڑھی تھی؟“ اس آدمی نے کہا: ”میں نے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈالا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 12 (398)، سنن ابی داود/الصلاة 138 (828)، (تحفة الأشراف: 10825)، مسند احمد 4/426، 431، 433، 441، ویأتی عند المؤلف برقم: 1745 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 919
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: ”تم میں سے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورۃ پڑھنے میں خلجان میں دال دیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 919]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی۔ ایک آدمی آپ کے پیچھے قراءت کرنے لگا۔ جب آپ (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم میں سے کس نے سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی ہے؟“ ایک (اسی) آدمی نے کہا: ”میں نے، اور میں نے اس سے نیکی ہی کا قصد کیا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق مجھے پتا چل گیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھے تشویش میں ڈالا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خلجان مطلق سورۃ فاتحہ پڑھنے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ زور سے پڑھنے کی وجہ سے ہوا، یہی بات قرین قیاس ہے بلکہ حتمی ہے، اس لیے اس حدیث سے سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے پر استدلال واضح نہیں ہے، نیز عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (رقم: ۹۲۱) سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ آپ نے باضابطہٰ سورۃ فاتحہ پڑھنے کی صراحت فرما دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
28. بَابُ: تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ
باب: جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 920
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا" قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ" قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَاةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے؟“ تو ایک شخص نے کہا: جی ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے“۔ زہری کہتے ہیں: جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 920]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے فارغ ہوئے جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی تھی تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی کچھ پڑھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”ہاں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ» ”میں بھی کہتا تھا، کیا وجہ ہے کہ مجھے قرآن مجید پڑھنے میں دقت ہو رہی ہے؟“ اس (امام زہری رحمہ اللہ) نے کہا: تو جب انہوں نے آپ کی یہ بات سنی اس کے بعد وہ اس نماز میں قراءت کرنے سے رک گئے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 137 (826)، سنن الترمذی/الصلاة 117 (312)، سنن ابن ماجہ/إقامة 13 (848، 849)، (تحفة الأشراف: 14264)، موطا امام مالک/الصلاة 10 (44)، مسند احمد 2/240، 284، 285، 301، 302، 487 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ قول کہ ”جب لوگوں نے …“ زہری کا ہے، ائمہ حدیث نے اس کی تصریح کر دی ہے، اور زہری تابعی صغیر ہیں، وہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، ان کی یہ روایت مرسل ہے، اور مرسل ضعیف کی قسموں میں سے ہے، یا اس کا یہ معنی ہے کہ لوگ زور سے قرات کرتے تھے، اسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلجان ہوتا تھا، اور خلجان کا واقعہ جہری سری دونوں میں پیش آیا ہے (جیسا کہ حدیث رقم: ۹۱۸ میں گزرا) اس واقعہ کے بعد لوگ زور سے قرات کرنے سے رک گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
29. بَابُ: قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ خَلْفَ الإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ الإِمَامُ
باب: جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 921
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ:" لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 921]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں بلند آواز سے قراءت کروں تو تم میں سے کوئی آدمی سورۂ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 136 (824) مطولاً، (تحفة الأشراف: 5116)، مسند احمد 5/313، 316، 322 (حسن صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن صحیح ہے، بعض ائمہ نے محمود میں کچھ کلام کیا ہے، جب کہ بہت سوں نے ان کی توثیق کی ہے، نیز وہ اس روایت میں منفرد بھی نہیں ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
30. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ}
باب: آیت کریمہ: ”اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو“ (الاعراف: ۲۰۴) کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 922
أَخْبَرَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ التِّرْمِذِيُّ قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» کہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 922]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا جب وہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم بھی «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 69 (604)، سنن ابن ماجہ/إقامة 13 (846) مطولاً، (تحفة الأشراف: 12317)، مسند احمد 2/376، 420، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 74 (722)، 82 (734)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (414)، سنن الدارمی/فیہ 71 (1350) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال میں آپس میں ٹکراؤ ممکن ہی نہیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اقوال میں بھی ٹکراو محال ہے، یہ مسلّمہ عقیدہ ہے، اس لیے سورۃ فاتحہ کے وجوب پر دیگر قطعی احادیث کے تناظر میں اس صحیح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ کی قرات کے وقت امام کی قرات سنو، اور چپ رہو، رہا سورۃ فاتحہ پڑھنے کے مانعین کا آیت «و إذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا» سے استدلال، تو ایک تو یہ آیت نماز فرض ہونے سے پہلے کی ہے، تو اس کو نماز پر کیسے فٹ کریں گے؟ دوسرے مکاتب میں ایک طالب علم کے پڑھنے کے وقت سارے بچوں کو خاموش رہ کر سننے کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ جب کہ یہ حکم وہاں زیادہ فٹ ہوتا ہے، اور نماز کے لیے تو «لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب» والی حدیث سے استثناء بھی آ گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 923
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَانَ الْمُخَرِّمِيُّ يَقُولُ هُوَ ثِقَةٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مخرمی کہتے تھے: وہ یعنی محمد بن سعد الانصاری ثقہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 923]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، چنانچہ جب وہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہے تو تم بھی «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”مخرمی کہا کرتے تھے کہ محمد بن سعد انصاری ثقہ ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
31. بَابُ: اكْتِفَاءِ الْمَأْمُومِ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی قرأت مقتدی کے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 924
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قال: حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ قال: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ سَمِعَهُ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ فَقَالَ:" مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَلَمْ يُقْرَأْ هَذَا مَعَ الْكِتَابِ.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا ہر نماز میں قرآت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ (اس پر) انصار کے ایک شخص نے کہا: یہ (قرآت) واجب ہو گئی، تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور حال یہ تھا کہ میں ان سے سب سے زیادہ قریب تھا، تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ امام جب لوگوں کی امامت کرے تو (امام کی قرآت) انہیں بھی کافی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا غلط ہے، یہ تو صرف ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور اسے اس کتاب کے ساتھ انہوں نے نہیں پڑھا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 924]
کثیر بن مرہ حضرمی رحمہ اللہ سے روایت ہے، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا: ”یہ تو واجب ہوگئی۔“ آپ (حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ) میری طرف متوجہ ہوئے، اور میں سب لوگوں میں سے آپ کے زیادہ قریب تھا، آپ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ جب امام لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو وہ انہیں کفایت کرے گا۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی) رحمہ اللہ نے کہا: ”اس (قول) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان قرار دینا خطا اور غلطی ہے۔ یہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10959)، مسند احمد 5/197، 6/448 وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة 11 (842)، (من طریق أبی ادریس الخولانی إلی قولہ: وجب ھذا) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہ مؤلف کے شاگرد ابوبکر ابن السنی کا قول ہے، یعنی ابن السنی نے مؤلف پر اس کتاب کو پڑھتے وقت یہ حدیث نہیں پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد والموقوف منه فالتفت إلي
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، شاذ وهم زيد بن حباب فى رفعه كما صرح به الدارقطني والبيهقي (2/ 163) والحاكم وغيرهم. والموقوف هو الصواب. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
32. بَابُ: مَا يُجْزِئُ مِنَ الْقِرَاءَةِ لِمَنْ لاَ يُحْسِنُ الْقُرْآنَ
باب: جو قرآن اچھی طرح نہ پڑھ سکے تو اسے کیا پڑھنا کافی ہو گا؟
حدیث نمبر: 925
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ:" قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» ”اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے“ پڑھ لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 925]
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا: ”میں قرآن مجید یاد نہیں کر سکتا، مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے جو مجھے قرآن مجید کی جگہ کفایت کر سکے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» ”اللہ پاک ہے، اسی کی تعریف ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور برائیوں سے بچنا اور نیکی کی توفیق ملنا اللہ کے سوا کسی سے ممکن نہیں۔ وہ عالی ہے، عظمت والا ہے“ پڑھ لیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 139 (832) مطولاً، (تحفة الأشراف: 5150)، مسند احمد 4/353، 356، 382 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
33. بَابُ: جَهْرِ الإِمَامِ بِآمِينَ
باب: امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 926
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قاری (امام) آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے ۱؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 926]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پڑھنے والا (امام) «آمِيْن» کہے تو تم بھی «آمِيْن» کہو کیونکہ فرشتے بھی «آمِيْن» کہتے ہیں، چنانچہ جس کی «آمِيْن» فرشتوں کی «آمِيْن» سے مل گئی، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15266)، مسند احمد 2/238، 449، 459، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1281، 1282) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مؤلف نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے، کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا، اور جب انہیں اس کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح