سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: جَهْرِ الإِمَامِ بِآمِينَ
باب: امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 927
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قاری (امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 927]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قراءت کرنے والا (امام) «آمِينَ» ”آمین“ کہے تو تم «آمِينَ» ”آمین“ کہو کیونکہ فرشتے بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہتے ہیں۔ جس کی «آمِينَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِينَ» ”آمین“ سے مل جائے، اس کے سابقہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 63 (6402)، سنن ابن ماجہ/إقامة 14 (851)، مسند احمد 2/238، (تحفة الأشراف: 13136) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 928
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال: حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 928]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِينَ» ”آمین“ کہو کیونکہ فرشتے بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہتے ہیں اور امام بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہتا ہے، چنانچہ جس کی «آمِينَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِينَ» ”آمین“ سے مل جائے، اس کے سابقہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 14 (852) مختصراً، مسند احمد 2/233، 270، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1282)، (تحفة الأشراف: 13287) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 929
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 929]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «آمِينَ» ”آمین“ کہے تو تم «آمِينَ» ”آمین“ کہو۔ جس کی «آمِينَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِينَ» ”آمین“ سے مل جائے، اس کے سابقہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 111 (780)، صحیح مسلم/الصلاة 18 (410)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (936)، سنن الترمذی/الصلاة 71 (250)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (45)، (تحفة الأشراف: 13230) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
34. بَابُ: الأَمْرِ بِالتَّأْمِينِ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: امام کے پیچھے آمین کہنے کے حکم۔
حدیث نمبر: 930
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 930]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِيْن» کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے ساتھ مل جائے، اس کے لیے اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 113 (782)، التفسیر 2 (4475)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (935)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (45)، مسند احمد 2/459، (تحفة الأشراف: 12576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
35. بَابُ: فَضْلِ التَّأْمِينِ
باب: آمین کہنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ وَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 931]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی «آمِينَ» ”آمین“ کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں «آمِينَ» ”آمین“ کہتے ہیں، پھر ان میں سے ایک «آمِينَ» ”آمین“ دوسری «آمِينَ» ”آمین“ کے ساتھ مل جائے تو ان کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 111 (781)، (تحفة الأشراف: 13826)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (46)، مسند احمد 2/459 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
36. بَابُ: قَوْلِ الْمَأْمُومِ إِذَا عَطَسَ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: جب مقتدی کو امام کے پیچھے چھینک آئے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 932
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ:" مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ" فَلَمْ يُكَلِّمْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ:" مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ" فَقَالَ: رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ ابْنِ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ، قَالَ: قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو مجھے چھینک آ گئی، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» ”اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے“ کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا تھا؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا تھا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» ”اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 932]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ مجھے چھینک آئی تو میں نے (اونچی آواز میں) کہہ دیا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَىٰ» ”تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، بہت زیادہ تعریف، پاکیزہ اور بابرکت (یعنی باقی رہنے والی) جس قدر ہمارا رب پسند کرے اور جس پر راضی اور خوش ہو۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کس آدمی نے نماز میں کلام کیا تھا؟“ کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر آپ نے دوبارہ فرمایا: ”کس آدمی نے نماز میں کلام کیا تھا؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ میں تھا۔“ آپ نے فرمایا: ”تو نے کیسے کہا تھا؟“ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَىٰ» نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تیس سے زائد فرشتے اس کلمے کی طرف لپکے تھے کہ کون انھیں لے کر اوپر چڑھتا ہے؟“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 121 (773)، سنن الترمذی/الصلاة 180 (404)، (تحفة الأشراف: 3606)، موطا امام مالک/القرآن 7 (25)، مسند احمد 4/340 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 933
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَسْفَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ" فَلَمَّا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، قَالَ:" آمِينَ" فَسَمِعْتُهُ وَأَنَا خَلْفَهُ قَالَ: فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَرَدْتُ بِهَا بَأْسًا قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا: ”نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟“ تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 933]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہا تو کانوں سے نیچے تک اپنے ہاتھ اٹھائے (رفع الیدین کیا)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھا تو «آمِينَ» کہا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی «آمِينَ» سنی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہو“، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”نماز میں کس نے وہ کلمات کہے تھے؟“ اس آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے، اور میری نیت بری نہیں تھی۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بارہ فرشتے ان کلمات کی طرف لپکے تھے، عرش تک کسی چیز نے انہیں نہیں روکا۔““ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 11764)، مسند احمد 4/315، 317 (صحیح) (اس سند میں عبدالجبار اور ان کے باپ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن’’فما نھنھھا۔۔۔“کے جملے کے علاوہ اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر بقیہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے آمین کہی، رہا بعض حاشیہ نگاروں کا یہ کہنا کہ پہلی صف والوں کے بالخصوص ایسے شخص سے سننے سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل پیچھے ہو جہر لازم نہیں آتا، تو یہ صحیح نہیں کیونکہ صاحب ہدایہ نے یہ تصریح کی ہے کہ جہر یہی ہے کہ کوئی دوسرا سن لے، اور کرخی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جہر کا ادنی مرتبہ یہ ہے کہ بولنے والا آدمی خود اسے سنے، رہی وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی خفض والی روایت تو شعبہ نے اس میں کئی غلطیاں کی ہیں، جس کی تفصیل سنن ترمذی حدیث رقم (۲۴۸) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره دون قوله فما نهنهها
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3802،855) عبد الجبار بن وائل عن أبيه منقطع. وأبو إسحاق عنعن. وفي الباب أحاديث أخري مغنية عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
37. بَابُ: جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
حدیث نمبر: 934
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ. قَالَ:" فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ زِيَادَةً وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: ”گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 934]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھنٹی کی آواز کی طرح۔ جب وہ موقوف ہوتی ہے تو میں فرشتے کا پیغام یاد کر چکا ہوتا ہوں۔ تحقیق یہ وحی مجھ پر بہت گراں گزرتی ہے۔ اور کبھی (وحی لانے والا فرشتہ) ایک نوجوان کی صورت میں میرے پاس آتا ہے جو مجھ پر وحی ڈالتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل 23 (2333)، (تحفة الأشراف: 16924)، موطا امام مالک/القرآن 4 (7)، مسند احمد 6/158، 163، 257 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 935
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں“، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو وحی آنے کی کیفیت گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور یہ وحی میرے لیے بہت سخت ہوتی ہے۔ جب وہ موقوف ہوتی ہے تو میں فرشتے کی وحی اچھی طرح یاد کر چکا ہوتا ہوں۔ اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں میرے پاس آکر مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے، میں یاد کر لیتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت سردی والے دن میں وحی اترتے وقت آپ کو دیکھا۔ جب وحی آپ سے موقوف ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ پڑتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الوحي 2 (2)، سنن الترمذی/المناقب 7 (3634)، (تحفة الأشراف: 17152)، موطا امام مالک/القرآن 4 (7)، مسند احمد 6/256 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «یتمثل لي الملک رجلاً» میں رَجَلاً منصوب بنزع الخافض» ہے، تقدیر یوں ہو گی یتمثل لي الملک صورۃ رجل» ، «صورۃ» جو «مضاف» تھا حذف کر دیا گیا ہے، اور «رجل» جو «مضاف الیہ» کو «مضاف» کا اعراب دے دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 936
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17 قال:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، وَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17 قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَأهُ، فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ، قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ تعالیٰ کے قول: «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» (القیامۃ: ۱۶- ۱۷) کی تفسیر میں مروی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی اترتے وقت بڑی تکلیف برداشت کرتے تھے، اپنے ہونٹ ہلاتے رہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے نبی! آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، کیونکہ اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے“ ۱؎، ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ «جمعه» کے معنی: اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں بیٹھا دینا ہے، اور «قرآنه» کے معنی اسے اس طرح پڑھوا دینا ہے کہ جب آپ چاہیں اسے پڑھنے لگ جائیں «فإذا قرأناه فاتبع قرآنه» میں «فاتبع قرآنه» کے معنی ہیں: آپ اسے غور سے سنیں، اور چپ رہیں، چنانچہ جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ بغور سنتے تھے، اور جب روانہ ہو جاتے تو آپ اسے پڑھتے جس طرح انہوں نے پڑھایا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 936]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 16، 17] ”اے نبی! اس (وحی) کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ یقیناً اسے جمع کرنا اور پڑھا دینا ہماری ذمہ داری ہے“ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے نزول کے وقت (اسے یاد کرنے کے لیے) اپنے ہونٹوں کو ہلایا کرتے تھے اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافی تکلیف ہوتی تھی۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ﴾ [سورة القيامة: 16] یعنی اسے آپ کے سینے میں محفوظ کر دینا اور آپ کا اسے (بعینہٖ) پڑھنا (یعنی آپ سے بعینہٖ پڑھوانا) ہماری ذمہ داری ہے۔ پھر اس فرمان الٰہی ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 18] ”پھر جب ہم پڑھ چکیں تو آپ ہمارے پڑھنے کی پیروی کریں“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”خاموشی سے کان لگا کر سنتے رہیں۔ اس کے بعد جب جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قرآن سناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ سے سنتے رہتے۔ جب وہ چلے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وعدۂ الٰہی کے مطابق) بالکل اسی طرح پڑھتے جیسے فرشتے نے پڑھا ہوتا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الوحي 4 (5)، تفسیر ’’القیامة‘‘ 1 (4927) مختصراً، 2 (4928) مختصراً، 3 (4929)، فضائل القرآن 28 (5044)، التوحید 43 (7524)، صحیح مسلم/الصلاة 32 (448)، سنن الترمذی/تفسیر ’’القیامة‘‘ 71 (3329) مختصراً، (تحفة الأشراف: 5637)، مسند احمد 1/220، 343 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ ہمارے ذمہ ہے کہ اسے آپ کے دل میں بٹھا دیں، اور آپ اسے پڑھنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه