سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
حدیث نمبر: 937
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ ابْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَرَأَ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا قُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: كَذَبْتَ مَا هَكَذَا أَقْرَأَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ وَإِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ تَكُنْ أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا هِشَام" فَقَرَأَ كَمَا كَانَ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ:" اقْرَأْ يَا عُمَرُ" فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، انہوں نے اس میں کچھ الفاظ اس طرح پڑھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائے تھے تو میں نے پوچھا: یہ سورت آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: آپ غلط کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس طرح کبھی نہیں پڑھائی ہو گی! چنانچہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھائی ہے، اور میں نے انہیں اس میں کچھ ایسے الفاظ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہشام! ذرا پڑھو تو“، تو انہوں نے ویسے ہی پڑھا جس طرح پہلے پڑھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت اسی طرح اتری ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! اب تم پڑھو تو“، تو میں نے پڑھا، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح اتری ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 937]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۂ فرقان پڑھتے سنا، انہوں نے اس میں کچھ ایسے الفاظ پڑھے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں سکھائے تھے۔ میں نے کہا: ”تمہیں کس نے یہ سورت پڑھائی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔“ میں نے کہا: ”تم غلط کہتے ہو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس طرح نہیں پڑھائی۔“ میں ان کا ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے سورۂ فرقان پڑھائی ہے اور میں نے انہیں اس سورت میں ایسے الفاظ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ہشام! پڑھو۔“ انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح پہلے پڑھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح اتاری گئی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! تم پڑھو۔“ میں نے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح اتاری گئی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید سات قراءت پر اتارا گیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخصومات 4 (2419)، فضائل القرآن 5 (4992)، 27 (5041)، المرتدین 9 (6936)، التوحید 53 (7550)، صحیح مسلم/المسافرین 48 (818)، سنن ابی داود/الصلاة 357 (1475)، سنن الترمذی/القرائات 11 (2944)، (تحفة الأشراف: 10591، 10642)، موطا امام مالک/القرآن 4 (5)، مسند احمد 1/24، 40، 42، 43، 263 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کی تفسیر میں امام سیوطی نے الاتقان میں (۳۰) سے زائد اقوال نقل کئے ہیں جس میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سات مشہور لغات ہیں، بعضوں نے کہا اس سے مراد سات لہجے ہیں جو عربوں کے مختلف قبائل میں مروج تھے، اور بعضوں نے کہا کہ اس سے مراد سات مشہور قراتیں ہیں جنہیں قرات سبعہ کہا جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 938
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا عَلَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِيَ اقْرَأْ فَقَرَأْتُ فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، جس طرح میں پڑھ رہا تھا وہ اس کے خلاف پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا، تو قریب تھا کہ میں ان کے خلاف جلد بازی میں کچھ کر بیٹھوں ۱؎، لیکن میں نے انہیں مہلت دی یہاں تک کہ وہ پڑھ کر فارغ ہو گئے، پھر میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑ کر انہیں کھینچا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے طریقہ پر پڑھتے سنا ہے جو اس طریقہ کے خلاف ہے جس طریقہ پر آپ نے مجھے یہ سورت پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”(اچھا) تم پڑھو!“، انہوں نے اسی طریقہ پر پڑھا جس پر میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے“، پھر مجھ سے فرمایا: ”تم پڑھو!“ تو میں نے بھی پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے، یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو تم اسی طرح پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 938]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان ایسے الفاظ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا جن کے ساتھ میں نہیں پڑھتا تھا، حالانکہ یہ سورت مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں جلد بازی کرتے ہوئے انہیں فوراً (نماز ہی میں) پکڑ لیتا مگر میں نے صبر کیا حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں انہی کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان اس (قراءت) سے مختلف الفاظ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھو۔“ انہوں نے وہی پڑھا جو میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح اتاری گئی ہے۔“ پھر مجھ سے فرمایا: ”تم پڑھو۔“ میں نے پڑھا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح اتاری گئی ہے۔ یہ قرآن سات لہجوں میں اتارا گیا ہے، چنانچہ جو آسان ہو، پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10591) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نماز ہی کی حالت میں انہیں پکڑ کر کھینچ لوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 939
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: كَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ" فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا عُمَرُ" فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا تو میں ان کی قرآت غور سے سننے لگا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کچھ الفاظ ایسے طریقے پر پڑھ رہے ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھایا تھا، چنانچہ قریب تھا کہ میں ان پر نماز میں ہی جھپٹ پڑوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا، یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر دیا، جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑا، اور پوچھا: یہ سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو: اللہ کی قسم یہی سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے پڑھائی ہے، بالآخر میں انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان کے کچھ الفاظ پڑھتے سنا ہے کہ اس طرح آپ نے مجھے نہیں پڑھایا ہے، حالانکہ سورۃ الفرقان آپ نے ہی مجھ کو پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو، اور ہشام! تم پڑھو!“ تو انہوں نے اسے اسی طرح پر پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! اب تم پڑھو!“ تو میں نے اس طرح پڑھا جیسے آپ نے مجھے پڑھایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو اسی پر پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 939]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں سورۂ فرقان پڑھتے سنا۔ میں نے ان کی قراءت کی طرف گہری توجہ کی تو پتا چلا کہ وہ بہت سے ایسے الفاظ پڑھ رہے تھے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ میں ان پر نماز ہی کی حالت میں حملہ کر دیتا لیکن میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا حتیٰ کہ انہوں نے سلام پھیرا۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا، میں نے انہی کی چادر ان کے گلے میں ڈالی اور پوچھا: ”تمہیں کس نے یہ سورت پڑھائی ہے جو میں نے تمہیں پڑھتے سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی ہے۔“ میں نے کہا: ”تم غلط کہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ سورت پڑھائی ہے جو میں نے تم سے پڑھتے سنی ہے۔“ میں انہیں کھینچتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۂ فرقان ایسے الفاظ کے ساتھ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے جب کہ آپ نے خود مجھے سورۂ فرقان پڑھائی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! انہیں چھوڑ دو۔ اے ہشام! پڑھو۔“ انہوں نے آپ کے سامنے اسی طرح قراءت کی جس طرح میں نے ان سے پڑھتے سنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے ہی اتاری گئی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم پڑھو۔“ میں نے اسی طرح قراءت کی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قرآن سات لہجوں میں اترا ہے، چنانچہ جو پڑھ سکو، پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 937، (تحفة الأشراف: 10591) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 940
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، قَالَ:" أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، قَالَ:" أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ:" أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا" قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ خُولِفَ فِيهِ الْحَكَمُ خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ. رَوَاهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے، اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی“، پھر دوسری بار جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے عفو و مغفرت کا طلب گار ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی“، پھر جبرائیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور انہوں کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے رب سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ہے“، پھر وہ آپ کے پاس چوتھی بار آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے، اسے «مجاهد عن عبيد بن عمير» کے طریق سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 940]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: ”اللہ عز وجل آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن مجید ایک حرف میں پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”میں اللہ تعالیٰ سے معافی اور بخشش کا طلب گار ہوں (یعنی اس سلسلے میں رعایت مطلوب ہے)، کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ پھر جبریل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن مجید دو حروف میں پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”میں اللہ تعالیٰ سے اس کی عافیت اور بخشش کا طلب گار ہوں، میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔“ پھر وہ تیسری دفعہ آپ کے پاس آئے اور کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن مجید تین حروف میں پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”میں اللہ تعالیٰ سے اس کی عافیت اور مغفرت کا خواستگار ہوں، میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔“ پھر وہ چوتھی دفعہ آپ کے پاس آئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن مجید سات حروف میں پڑھائیں، وہ قرآن مجید کو ان میں سے جس حرف میں پڑھ لیں، درست ہے۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث (کی سند کے بیان) میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اس روایت کو «عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ» مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 48 (820، 821)، سنن ابی داود/الصلاة 357 (1478)، (تحفة الأشراف: 60)، مسند احمد 5/127، 128 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 941
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ قال: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قال: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ جَالِسٌ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَؤُهَا يُخَالِفُ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ لَهُ: مَنْ عَلَّمَكَ هَذِهِ السُّورَةَ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقْنِي حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا خَالَفَ قِرَاءَتِي فِي السُّورَةِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا أُبَيُّ" فَقَرَأْتُهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْسَنْتَ"، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ:" اقْرَأْ فَقَرَأَ فَخَالَفَ قِرَاءَتِي" فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنْتَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ:" إِنَّهُ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهُنَّ شَافٍ كَافٍ" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سورت پڑھائی تھی، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اسی سورت کو پڑھ رہا ہے، اور میری قرآت کے خلاف پڑھ رہا ہے، تو میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: تم مجھ سے جدا نہ ہونا جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آ جائیں، میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ شخص وہ سورت جسے آپ نے مجھے سکھائی ہے میرے طریقے کے خلاف پڑھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی! تم پڑھو“ تو میں نے وہ سورت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”تم پڑھو!“ تو اس نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی! قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، اور ہر ایک درست اور کافی ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: معقل بن عبیداللہ (زیادہ) قوی نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 941]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سورت پڑھائی۔ میں مسجد میں بیٹھا تھا کہ میں نے ایک آدمی کو وہی سورت اپنی قراءت کے خلاف پڑھتے سنا۔ میں نے کہا: ”تجھے یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟“ اس نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔“ میں نے کہا: ”مجھ سے جدا نہ ہو حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں۔“ پھر میں (اس کے ساتھ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”یہ شخص اس سورت میں میری قراءت کے خلاف پڑھتا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی! پڑھو۔“ میں نے وہ سورت پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا پڑھا۔“ پھر اس آدمی سے کہا: ”تم پڑھو۔“ اس نے میری قراءت سے مختلف پڑھا تو اسے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے بھی اچھا پڑھا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابی! قرآن سات حروف میں اترا ہے۔ ان میں سے ہر ایک شافی و کافی ہے۔“ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (سند میں مذکور راوی) معقل بن عبید اللہ علمِ حدیث میں قوی نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 46)، مسند احمد 5/114، 127، 128 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے الف لام کے ساتھ «القوی» کا لفظ استعمال کیا ہے، جس سے مراد ائمہ جرح وتعدیل کے نزدیک یہ ہے کہ ”یہ اتنا قوی نہیں ہیں جتنا صحیح حدیث کے راوی کو ہونا چاہیے“ یہ بقول حافظ ابن حجر «صدوق یخطیٔ» ہیں، یعنی عدالت میں تو ثقہ ہیں مگر حافظہ کے ذرا کمزور ہیں، متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر ان کی یہ روایت حسن صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 942
أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُبَيٍّ قال: مَا حَاكَ فِي صَدْرِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَهَا آخَرُ غَيْرَ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" نَعَمْ" وَقَالَ الْآخَرُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" نَعَمْ، إِنَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ: جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ:" مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے (اللہ سے) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، (اور کہا کہ) ہر حرف شافی و کافی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 942]
حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں جب سے مسلمان ہوا، مجھے کبھی دل میں شک پیدا نہیں ہوا مگر ایک دفعہ جب میں نے ایک آیت پڑھی اور ایک دوسرے شخص نے میری قراءت سے مختلف پڑھی تو میں نے کہا: ”مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت (اس طرح) پڑھائی ہے۔“ دوسرے شخص نے کہا: ”مجھے یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس طرح) پڑھائی ہے،“ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ نے فلاں آیت مجھے اس طرح پڑھائی ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ دوسرے شخص نے کہا: ”یہی آیت آپ نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائی؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔ جبریل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے تو جبریل علیہ السلام میرے دائیں بیٹھ گئے اور میکائیل علیہ السلام میرے بائیں۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ قرآن مجید ایک حرف پر پڑھیں۔“ میکائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا: ”مزید کی اجازت طلب فرمائیں۔“ وہ بار بار کہتے رہے حتیٰ کہ جبریل (اللہ کے حکم سے) سات حروف تک پہنچ گئے اور ان میں سے ہر حرف شافی و کافی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8)، مسند احمد 5/114، 122 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 943
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحب قرآن ۱؎ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، جب تک وہ ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے تو وہ بندھے رہتے ہیں، اور جب انہیں چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 943]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کو یاد کرنے والے (حافظ قرآن) کی مثال بندھے ہوئے اونٹوں کے مالک کی طرح ہے۔ اگر وہ ان کا خیال رکھے گا تو انہیں محفوظ رکھے گا اور اگر انہیں کھول دے گا تو وہ بھاگ جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5031)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (789)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8368)، موطا امام مالک/القرآن 4 (6)، مسند احمد 2/65، 112، 156 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صاحب قرآن سے قرآن کا حافظ مراد ہے، خواہ پورے قرآن کا حافظ ہو یا اس کے کچھ اجزاء کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 944
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنی بری بات ہے کہ کوئی کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ۱؎، بلکہ اسے کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا، تم لوگ قرآن یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے رسی سے کھل جانے والے اونٹ سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 944]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے بری بات ہے کہ وہ کہے: ”میں فلاں آیت بھول گیا ہوں“ بلکہ وہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔ قرآن مجید دہراتے رہو کیونکہ قرآن مجید لوگوں کے سینوں سے زیادہ جلدی نکل جاتا ہے بہ نسبت ان اونٹوں کے جنہیں رسی سے باندھ دیا گیا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5032)، 26 (5039) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین 32 (790)، سنن الترمذی/القراءات 10 (2942)، (تحفة الأشراف: 9295)، مسند احمد 1/382، 417، 423، 429، 438، سنن الدارمی/الرقاق 32 (2787)، فضائل القرآن 4 (3390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بھول گیا سے غفلت لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے، اس کے برخلاف بھلا دیا گیا میں حسرت و افسوس اور ندامت کا اظہار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
38. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: فجر کی دونوں رکعتوں میں قرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 945
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قال: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَفِي الْأُخْرَى" آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں آیت کریمہ: «قولوا آمنا باللہ وما أنزل إلينا» (البقرہ: ۱۳۶) اخیر آیت تک، اور دوسری رکعت میں «آمنا باللہ واشهد بأنا مسلمون» (آل عمران: ۵۲) پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 945]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتوں میں سے پہلی میں سورۂ بقرہ کی آیت ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا﴾ [سورة البقرة: 136] اور دوسری رکعت میں ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 52] والی آیت پڑھتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 14 (727)، سنن ابی داود/الصلاة 292 (1259)، (تحفة الأشراف: 5669)، مسند احمد 1/230، 231 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد سورۃ فاتحہ کے علاوہ ہے، سورۃ فاتحہ کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ اسے تو بہرصورت ہر سورۃ میں پڑھنی ہے، اس طرح بہت سی جگہوں پر فاتحہ کے علاوہ پر قرات کا اطلاق ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
39. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ بِـ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
باب: فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 946
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 946]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتوں میں دو سورتیں: ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 14 (726)، سنن ابی داود/الصلاة 292 (1256)، سنن ابن ماجہ/إقامة 102 (1148)، (تحفة الأشراف: 13438) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم