سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ: أَوَّلِ مَا يَصِلُ إِلَى الأَرْضِ مِنَ الإِنْسَانِ فِي سُجُودِهِ
باب: سجدے میں سب سے پہلے زمین پر پہنچنے والے انسانی عضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1090
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْقًوْمَسِيُّ الْبَسْطَامِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1090]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے، اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 141 (838)، سنن الترمذی/الصلاة 84 (268)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (882)، (تحفة الأشراف: 11780)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1155 (ضعیف) (شریک القاضی جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی، اور وہ یہاں اس روایت میں منفرد ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (838) ترمذي (268) ابن ماجه (882) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
حدیث نمبر: 1091
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكَ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1091]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا) تم میں سے ایک آدمی نماز میں بیٹھنا چاہتا ہے، پھر وہ اونٹ کی طرح بیٹھتا ہے؟“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 141 (840، 841)، سنن الترمذی/الصلاة 85 (269)، (تحفة الأشراف: 13866)، مسند احمد 2/381، سنن الدارمی/الصلاة 74 (1360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”استفھام انکاری“ ہے، یعنی ایسا نہیں کرنا چاہیئے، یعنی اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نماز میں نہیں بیٹھنا چاہیئے، اور یہ واضح رہے کہ چوپایوں کے گھٹنے ان کے اگلے دونوں پاؤں میں ہوتے ہیں، اونٹ پہلے اپنے اگلے پاؤں رکھتا ہے یعنی گھٹنے پہلے رکھتا ہے، اور انسان کو نماز میں اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے انسان اونٹ کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے اپنے ہاتھ رکھے پھر گھٹنے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1092
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ مِنْ كِتَابِهِ قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ وَلَا يَبْرُكْ بُرُوكَ الْبَعِيرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنا ہاتھ زمین پر رکھے، اور وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1092]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرنے لگے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے اور اونٹ کی طرح نہ بیٹھے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1091 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
39. بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ مَعَ الْوَجْهِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں ہاتھوں کو چہرہ کے ساتھ زمین پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1093
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ دَلُّوَيْهِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ، قال:" إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے، لہٰذا جب تم میں کا کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو اپنے دونوں ہاتھ بھی رکھے، اور جب اسے اٹھائے تو ان دونوں کو بھی اٹھائے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1093]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق دونوں ہاتھ چہرے کی طرح سجدہ کرتے ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو اپنے دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو انہیں بھی اٹھا لے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 155 (892)، (تحفة الأشراف: 7547)، مسند احمد 2/6 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
40. بَابُ: عَلَى كَمِ السُّجُودُ
باب: کتنے اعضاء پر سجدہ کرے؟
حدیث نمبر: 1094
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ۱؎ پر سجدہ کریں، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1094]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور نماز کے دوران میں اپنے بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 133 (809، 810)، 137 (815)، 138 (816)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (889، 890)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (273)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (883)، 67 (1040)، (تحفة الأشراف: 5734)، مسند احمد 1/221، 222، 255، 270، 279، 280، 285، 286، 290، 305، 324، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1357)، وأعادہ المؤلف بأرقام: 1114، 1116 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سات اعضاء سے مراد پیشانی ناک کے ساتھ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی تفسیر آ رہی ہے۔ ۲؎: بالوں کو سمیٹنا یہ ہے کہ سب کو اکٹھا کر کے جوڑا باندھ لے، یا دستار میں رکھ لے، اور کپڑوں کا سمیٹنا یہ ہے کہ سجدے یا رکوع میں جاتے وقت کپڑوں کو اس خیال سے سمیٹے کہ کپڑوں میں گرد نہ لگے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
41. بَابُ: تَفْسِيرِ ذَلِكَ
باب: اعضائے سجود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1095
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مِنْهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء: اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1095]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دو ہتھیلیاں، اس کے دو گھٹنے اور اس کے دو پاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 44 (491)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (891)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (272)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (885)، (تحفة الأشراف: 5126)، مسند احمد 1/206، 208، ویأتی عند المؤلف في باب 46 (برقم: 1100) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ناک چہرہ کا ایک جزء ہے اس لیے پیشانی اور ناک دونوں سے سجدہ کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
42. بَابُ: السُّجُودِ عَلَى الْجَبِينِ
باب: پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1096
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال:" بَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبِينِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صُبْحِ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مُخْتَصَرٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ (رمضان کی) اکیسویں رات کی صبح کو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1096]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، فرمایا: ”(رمضان المبارک کی) اکیسویں رات کی صبح کو میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتھے اور ناک پر پانی اور مٹی، یعنی کیچڑ کے نشانات دیکھے۔“ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 41 (669)، 135 (813)، 151 (836)، لیلة القدر 2 (2016)، الاعتکاف 1 (2027)، 9 (2036)، 13 (2040)، صحیح مسلم/الصوم 40 (1167)، سنن ابی داود/الصلاة 157 (894، 895)، 166 (911)، 320 (1382)، سنن ابن ماجہ/الصیام 56 (1766)، 62 (1775)، (تحفة الأشراف: 4419)، موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (9)، مسند احمد 3/7، 24، 60، 74، 94، ویأتی عند المؤلف في السھو 98 (برقم: 1357) مطولاً (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تفصیل سے یہی حدیث باب السہو (۱۳۵۷) میں وارد ہوئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
43. بَابُ: السُّجُودِ عَلَى الأَنْفِ
باب: ناک پر سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1097
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ لَا أَكُفَّ الشَّعْرَ وَلَا الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء: پیشانی اور ناک، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1097]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور میں بال اور کپڑے نہ سمیٹوں۔ (سات اعضاء یہ ہیں: ماتھا اور ناک، دو ہاتھ، دو گھٹنے اور دو قدم)۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 134 (812)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (884)، (تحفة الأشراف: 5708)، مسند احمد 1/222، 292، 305، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1358)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1098، 1099 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
44. بَابُ: السُّجُودِ عَلَى الْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھ پر سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1098
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر، اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک پر کا اشارہ کیا، اور دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر کے کناروں یعنی انگلیوں پر۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1098]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں: ماتھے پر“ اور (یہ کہتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا ”دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کے اطراف پر۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1097، (تحفة الأشراف: 5708) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
45. بَابُ: السُّجُودِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ
باب: دونوں گھٹنوں پر سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ عَلَى يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ" قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ لَنَا ابْنُ طَاوُسٍ" وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَمَرَّهَا عَلَى أَنْفِهِ" قَالَ هَذَا وَاحِدٌ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اور بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے روکا گیا: اپنی دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے اور انگلیوں کے سروں پر۔ سفیان کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھے، اور انہیں اپنی ناک پر گزارا، اور کہا: یہ سب ایک ہے۔ امام نسائی کہتے ہیں: یہ الفاظ محمد بن منصور کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1099]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں ……… اور آپ کو بال اور کپڑے سمیٹنے سے روکا گیا ……… ”دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کناروں پر۔“ (حدیث کے راوی) سفیان نے کہا: ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھے اور انھیں ناک پر سے گزارا اور فرمایا: ”یہ ایک عضو ہے۔“ (امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا) یہ (امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا) لفظ (میرے استاذ) محمد بن منصور کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1097، (تحفة الأشراف: 5708) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح