سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: مَا يَقُوُلُ الإِمَامُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: جب امام رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 1060
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1060]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کی تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پھر انہیں اسی طرح اٹھاتے اور کہتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 879 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1061
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1061]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15295)، مسند احمد 2/270 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
22. بَابُ: مَا يَقُولُ الْمَأْمُومُ
باب: مقتدی جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 1062
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ يَعُودُونَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آپ کے پاس آئے کہ (اسی دوران) نماز کا وقت ہو گیا، (تو آپ نے انہیں نماز پڑھائی) جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» “ کہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1062]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے دائیں پہلو پر گر پڑے تو صحابہ بیمار پرسی کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: ”امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 795، (تحفة الأشراف: 1485) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں کہ مقتدی اور امام دونوں «سمع اللہ لمن حمدہ» نہ کہیں جیسا کہ اس میں اس بات کی دلیل نہیں کہ امام اور مقتدی دونوں «سمع اللہ لمن حمدہ» کہیں کیونکہ یہ حدیث اس بات کے بیان کے لیے نہیں آئی ہے کہ اس موقع پر امام یا مقتدی کیا کہیں بلکہ اس حدیث کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ مقتدی «ربنا لک الحمد» امام کی «سمع اللہ لمن حمدہ» کے بعد پڑھے، اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امام ہونے کے باوجود «ربنا لک الحمد» کہتے تھے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «صلّوا کما رأیتمونی اصلي» کا عموم بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ مقتدی بھی امام کی طرح «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1063
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قال: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده» کہا، تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے «ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» ”اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں جو پاکیزہ و بابرکت ہیں“ کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابھی ابھی (نماز میں) کون بول رہا تھا؟ ”تو اس شخص نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا ان میں سے ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے کون پہلے لکھے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1063]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، تو آپ کے مقتدیوں میں سے ایک آدمی نے (ذرا بلند آواز سے) کہا: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے سب تعریفیں ہیں۔ بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں۔“ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا: ”کس شخص نے ابھی کچھ کلام کیا تھا؟“ اس آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تیس (30) سے زائد فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کی طرف ایک دوسرے سے سبقت کر رہے تھے کہ کون انہیں پہلے لکھے۔“ (اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرے۔)“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 126 (799)، سنن ابی داود/الصلاة 121 (770)، (تحفة الأشراف: 3605)، موطا امام مالک/القرآن 7 (25)، مسند احمد 4/340، وانظر رقم: 932 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
23. بَابُ: قَوْلِهِ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
باب: «ربنا ولک الحمد» کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1064
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1064]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو کیونکہ جس آدمی کا یہ قول فرشتوں کے قول کے ساتھ مل گیا، اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 125 (796)، بدء الخلق 7 (3228)، صحیح مسلم/الصلاة 18 (409)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (848)، سنن الترمذی/الصلاة 83 (267)، (تحفة الأشراف: 12568)، موطا امام مالک/النداء للصلاة 11 (47)، مسند احمد 2/ 387، 417، 459، 467 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1065
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى، قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ سَبْعُ كَلِمَاتٍ وَهِيَ تَحِيَّةُ الصَّلَاةِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا، اور جب وہ اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی“، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «اللہم ربنا ولك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو: «التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”آداب بندگیاں، پاکیزہ خیراتیں، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“ یہ سات کلمے ۱؎ ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1065]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمارے لیے طریقۂ زندگی بیان فرمایا اور ہمیں نماز سکھلائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو۔ پھر تم میں سے ایک شخص جماعت کروائے۔ پھر جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہو۔ اللہ تعالیٰ (تمھاری دعا) قبول فرمائے گا۔ اور جب وہ اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے رکوع کو جاتا ہے اور پہلے سر اٹھاتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ سبقت اس تاخیر کے بدلے میں ہے۔ اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو۔ اللہ تعالیٰ تمھاری (حمد کو) ضرور سنے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کی بات سنتا ہے جو اس کی حمد کرتا ہے۔ پھر جب وہ اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدے کو جاتا ہے اور پہلے سر اٹھاتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ تاخیر اس سبقت کے بدلے میں ہے۔ اور جب وہ تشہد کے لیے بیٹھے تو تم میں سے ہر شخص کی پہلی بات یہ ہونی چاہیے: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام اچھے آداب اور تمام عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی، رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی اللہ کی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ یہ سات جملے ہیں اور یہ نماز کے سلام و آداب ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 831، (تحفة الأشراف: 8987) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلا «التحیات» ہے، دوسرا «الطیبات» ، تیسرا «الصلوات» ، چوتھا «سلام علیک» ، پانچواں «سلام علینا» ، چھٹا «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» ، اور ساتواں «أشہد أن محمداً عبدہ ورسولہ» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله سبع
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
24. بَابُ: قَدْرِ الْقِيَامِ بَيْنَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع سے اٹھنے اور سجدہ کرنے کے درمیان قیام کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1066
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ رُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1066]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قومہ، آپ کا سجدہ اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 121 (792)، 127 (801)، 140 (820)، صحیح مسلم/الصلاة 38 (471) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 147 (852، 854)، سنن الترمذی/الصلاة 92 (279، 280)، (تحفة الأشراف: 1781)، مسند احمد 4/280، 285، 288، 294، 298، سنن الدارمی/الصلاة 80 (1372، 1373)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1194، 1333 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ارکان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامل اعتدال (اطمینان) کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے، صحیحین کی انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو یہاں تک ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد یا دونوں سجدوں کے درمیان اتنا ٹھہرتے کہ کہنے والا یہ تک کہتا (یعنی سوچتا) کہ شاید آپ اگلے رکن میں جانا بھول گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
25. بَابُ: مَا يَقُولُ فِي قِيَامِهِ ذَلِكَ
باب: رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد قیام میں کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1067
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «اللہم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» ”اے اللہ! تیری تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے“ کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1067]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب (رکوع سے اٹھتے وقت) «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» کہتے تو یوں فرماتے: «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے، اس قدر کہ آسمان و زمین بھر جائیں اور ہر وہ چیز بھر جائے جو تو ان کے بعد چاہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 40 (478)، (تحفة الأشراف: 5954)، مسند احمد 1/270، 276، 277، 333، 370 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1068
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» ”اے ہمارے رب! تیری تعریف ہے، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے“ کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1068]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو یوں کہتے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے پالنے والے! تیرے ہی لیے ہے سب تعریف جو آسمانوں اور زمین کو بھرنے کے برابر ہو اور ہر اس چیز کو بھرنے کے برابر ہو جو تو ان کے بعد چاہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5642، حم1/277، 333 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1069
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ خَيْرُ مَا قَالَ: الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لَمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اے اللہ، ہمارے رب! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف! بہتر ہے جو بندے نے کہا، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی“ کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1069]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» کہتے تو یوں فرماتے: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمانوں اور زمینوں کے بھرنے کے بقدر اور ہر اس چیز کے بھرنے کے بقدر جو تو ان کے بعد چاہے۔ اے بزرگی اور ثنا کے لائق! بہترین بات جو کسی بندے نے کہی، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، یہ ہے کہ جو چیز تو دینے کا فیصلہ کرلے کوئی اسے روکنے والا نہیں اور کسی مال والے کو اس کا مال تیرے نزدیک نفع نہیں دے سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 40 (477)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (847)، (تحفة الأشراف: 4281)، مسند احمد 3/87، 71 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم