🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي النَّسَائِيَّ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ قال: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:" قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز کے لیے) کھڑا ہوا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، آپ اپنے رکوع میں «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1050]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز میں کھڑا ہوا۔ جب آپ نے رکوع فرمایا تو سورۂ بقرہ کے بقدر رکوع میں ٹھہرے رہے اور پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» پاک ہے عظیم الشان غلبے اور بڑی بادشاہت والا اور بے انتہا بزرگی (بڑائی) اور عظمت والا رب۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 151 (873) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل 42 (296)، (تحفة الأشراف: 10912)، مسند احمد 6/24، ویأتی عند المؤلف برقم: 1133 مطولاً (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْهُ
باب: رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1051
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَمُخِّي وَعَصَبِي".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «اللہم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1051]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تو یوں پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِيْ، وَبَصَرِيْ، وَعِظَامِيْ، وَمُخِّيْ، وَعَصَبِيْ» اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا، اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا اور تجھ پر ایمان لایا۔ میرے کان، آنکھیں، ہڈیاں، مغز اور پٹھے سب تیرے سامنے عجز و نیاز ظاہر کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (744)، 121 (760، 761)، 360 (1509)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422، 3423)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 15 (864)، 70 (1054)، (تحفة الأشراف: 10228)، مسند احمد 1/93، 95، 102، 103، 119، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274)، 71 (1353)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1127 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: رکوع کی ایک اور دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1052
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اس میں «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا، تیرے اوپر ہی ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کر دیا، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا خون، میرا گوشت، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1052]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تو یوں کہتے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ» اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا اور تجھی پر بھروسا کیا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کانوں، آنکھوں، خون، گوشت، ہڈیوں اور پٹھوں نے اللہ عزوجل کے سامنے عجز و نیاز ظاہر کیا جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3049) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا يَقُولُ:" إِذَا رَكَعَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے تو جب رکوع میں جاتے تو «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، تیرے اوپر ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ پر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری آنکھ، میرا گوشت، میرا خون، میرا دماغ اور میرے پٹھے نے اللہ رب العالمین کے لیے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1053]
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز میں کھڑے ہوتے تو رکوع کے دوران میں یوں عرض پرداز ہوتے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» اے اللہ! میں تیرے لیے جھکا، تجھے مانا، تیرا فرماں بردار بنا اور تجھ پر بھروسا کیا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کان، آنکھیں، گوشت، خون، مغز اور پٹھے اللہ رب العالمین کے سامنے عاجزی اور تواضع کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11230)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1129 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دعا نہ پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ وَلَا يَشْعُرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ: لَا أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي قَالَ:" إِذَا أَرَدْتَ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کر چکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1054]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ، جو بدری صحابی ہیں، سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور اس نے نماز پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے رہے جب کہ اسے علم نہ تھا۔ پھر وہ (نماز سے) فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ نہ معلوم دوسری یا تیسری دفعہ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری! میں نے تو پوری کوشش سے نماز پڑھی ہے۔ مجھے سکھلا دیجیے اور بتلا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کا ارادہ کرے تو وضو کر اور اچھی طرح وضو کر۔ پھر کھڑا ہو اور قبلے کی طرف منہ کر۔ پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہہ۔ پھر قرآن مجید پڑھ۔ پھر رکوع کر حتیٰ کہ اطمینان سے رکوع کر لے۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو سیدھا کھڑا ہو جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کر لے۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کر لے۔ جب تو (ہر رکعت میں) یہ کر لے گا تو اپنی نماز ادا کر لے گا اور جس قدر تو اس میں کمی کرے گا، اپنی نماز میں کمی کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 668، (تحفة الأشراف: 3604)، ویأتي برقم: 1314، 1315 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح کا ذکر نہیں کیا ہے، آپ اس کو صلاۃ سکھا رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح ضروری نہیں ہے، لیکن یہ استدلال صحیح نہیں، اس میں بہت سے واجبات کا ذکر نہیں ہے، دراصل اس آدمی میں تعدیل ارکان کی کمی تھی، اسی پر توجہ دلانا مقصود تھا، اس لیے آپ نے اعتدال پر خاص زور دیا، اور بہت سے واجبات کا ذکر نہیں کیا، دیگر روایات میں تسبیحات کا حکم موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: الأَمْرِ بِإِتْمَامِ الرُّكُوعِ
باب: رکوع اچھی طرح کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1055
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو رکوع اور سجود مکمل کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1292) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1056
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ هَكَذَا وَأَشَارَ قَيْسٌ إِلَى نَحْوِ الْأُذُنَيْنِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ قیس بن سلیم (راوی حدیث) نے دونوں کانوں تک اشارہ کر کے دکھایا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1056]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے یا رکوع کو جاتے یا «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے تو اس طرح رفع الیدین کرتے۔ (راویٔ حدیث) قیس نے کانوں کی طرف اشارہ کیا، یعنی کانوں تک۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11779) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ فُرُوعِ الأُذُنَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1057
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1057]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب رکوع فرماتے یا رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کانوں کے کناروں کے برابر لے جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 881، (تحفة الأشراف: 11184) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1058
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1058]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح کرتے اور جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف کرنے والے کی بات سن لی کہتے تو «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں کے درمیان (سجدے سے اٹھتے اور سجدے کو جاتے وقت) رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 879، (تحفة الأشراف: 6915) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ ذَلِكَ
باب: رفع یدین نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1059
قال الْبُخَارِي، أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ:" أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1059]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جیسی نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھی اور ایک دفعہ سے زائد رفع الیدین نہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1027 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1027) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں