🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: إِيجَابِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1368
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. ح وَابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ , وَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ , يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا میں) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور (قیامت میں) آگے ہوں گے، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے، یہ (جمعہ کا دن) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے (یعنی جمعہ کے دن سے) ہمیں نواز دیا، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ۲؎، یہود کل کی یعنی ہفتہ (سنیچر) کی تعظیم کرتے ہیں، اور نصاریٰ پرسوں کی (یعنی اتوار کی)۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1368]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم (زمانے کے لحاظ سے) سب سے پیچھے ہیں (مگر مرتبے کے لحاظ سے) سب سے آگے ہیں۔ علاوہ اس بات کے کہ ان (یہود و نصاریٰ) کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ اور یہ (خصوصی عبادت والا) دن ان پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرض کیا تھا لیکن انہوں نے اس میں اختلاف کیا (یہود نے ہفتے کا دن تجویز کیا اور نصاریٰ نے اتوار کا۔) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دن، یعنی جمعہ کے دن تک پہنچایا۔ اب وہ لوگ (عبادت والے دن کے لحاظ سے) ہم سے پیچھے ہیں۔ یہودی ہم سے (یعنی جمعہ کے دن سے) اگلے دن اور عیسائی اس سے اگلے دن (خصوصی عبادت کرتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 12 (896)، أحادیث الأنبیاء 54 (3486)، صحیح مسلم/الجمعة 6 (855)، (تحفة الأشراف: 13522، 13683)، مسند احمد 2/ 249، 274، 341 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہود نے اپنے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن تجویز کر لیا اور نصایٰ نے اتوار کا۔ ۲؎: کیونکہ جمعہ ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1369
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَضَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ , فَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِنَا فَهَدَانَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ , وَكَذَلِكَ هُمْ لَنَا تَبَعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَنَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ".
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب (پہلے) جمعہ ہے، پھر ہفتہ (سنیچر) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1369]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کو جمعے کا دن اختیار کرنے سے دور رکھا۔ یہودیوں کے لیے ہفتے کا دن مقرر ہوا اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا تو اس نے ہمیں جمعے کا دن اختیار کرنے کی توفیق دی۔ اور عبادت کے لیے جمعہ، ہفتہ اور اتوار مقرر کر دیے (اس لحاظ سے وہ ہم سے پیچھے ہیں) اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ (یہود و نصاریٰ) ہم سے پیچھے ہوں گے۔ ہم دنیا میں آنے کے لحاظ سے تو سب سے بعد میں ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے اور پہلے ہوں گے۔ تمام لوگوں سے پہلے ہمارے لیے (جنت میں جانے کا) فیصلہ کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 6 (856)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 78 (1083)، (تحفة الأشراف: 3311) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تمام مخلوقات سے پہلے ہمارا فیصلہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم (ب) إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1370
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا , طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1370]
حضرت ابوالجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہیں شرفِ صحابیت حاصل تھا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے سستی کرتے ہوئے اور معمولی سمجھتے ہوئے تین جمعے چھوڑ دیے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر (نفاق کی) مہر لگا دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 210 (1052)، سنن الترمذی/الصلاة 242، الجمعة 7 (500)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 93 (1125)، (تحفة الأشراف: 11883)، مسند احمد 3/424، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1612) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کے قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دئیے جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1371
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , وَابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثَانِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَلَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ۱؎ اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1371]
حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر فرمایا: لوگ جمعے چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ یقینی طور پر غافلین میں سے ہو جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 12 (865) (وفیہ ’’أبو ھریرة‘‘ بدل ’’ابن عباس‘‘)، سنن ابن ماجہ/المساجد 17 (794) (تحفة الأشراف: 5413، 6696)، (وفیہ ’’الجماعات‘‘ بدل ’’الجمعات‘‘)، مسند احمد 1/239، 254، 335 و 2/84، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1611) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا مسلسل جمعہ کا چھوڑنا ایسا خطرناک فعل ہے جس سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد انسان کے لیے اخروی فلاح و نجات کی امید ختم ہو جاتی ہے۔ ۲؎: غافلوں میں سے ہو جائیں کا مطلب ہے کہ اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے بالکل بے پرواہ ہو جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1372
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَوَاحُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے (مسجد) جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1372]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعے کے لیے جانا ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 129 (342)، (تحفة الأشراف: 15806)، (و عندہ زیادة ’’وعلی کل من راح إلی الجمعة الغسل“) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: كَفَّارَةِ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ
باب: عذر شرعی کے بغیر جمعہ چھوڑ دینے والے کے کفارہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1373
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنا کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو تو آدھا دینار ہی کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1373]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بلاعذر جمعہ چھوڑ دے تو اسے چاہیے وہ ایک دینار صدقہ کرے۔ اگر اس کے پاس دینار نہ ہو تو نصف دینار صدقہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 211 (1053، 1054)، (تحفة الأشراف: 4631)، مسند احمد 5/8، 14 (ضعیف) (اس کے راوی ’’قدامہ‘‘ مجہول ہیں، نیز ”سمرہ رضی اللہ عنہ“ سے ان کا سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، (الف) إسناده ضعيف، ابو داود (1053) ابن ماجه (1128) قتادة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: ذِكْرِ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1374
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1374]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا ہے، جمعہ کا دن ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 5 (854)، (تحفة الأشراف: 13959)، مسند احمد 2/401، 418، 512 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے جمعہ کے دن کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے امور سر انجام پائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: إِكْثَارِ الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1375
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَفِيهِ قُبِضَ , وَفِيهِ النَّفْخَةُ , وَفِيهِ الصَّعْقَةُ , فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ , فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ أَيْ يَقُولُونَ قَدْ بَلِيتَ؟ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَام".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل (بہترین) جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بیہوشی طاری ہو گی، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ (درود و رحمت) بھیجو کیونکہ تمہاری صلاۃ (درود و رحمت) مجھ پر پیش کیے جائیں گے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری صلاۃ (درود و رحمت) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے، کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسم کو کھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1375]
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحقیق تمھارے دنوں میں سے افضل دن جمعہ ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن فوت ہوئے اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن بے ہوشی ہوگی، پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، یقیناً تمھارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! (وفات کے بعد) آپ پر درود کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ بوحضرت ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہ السلام کے جسموں کو کھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 207 (1047)، 361 (1531)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 79 (1085)، الجنائز 65 (1636)، (تحفة الأشراف: 1736)، مسند احمد 4/8 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تمہارے درود مجھ پر پیش کیے جائیں گے، سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ براہ راست کسی کا درود نہیں سنتے نہ قریب سے نہ بعید سے، قریب سے سننے کی ایک روایت مشہور ہے لیکن وہ صحیح نہیں، صحیح یہی ہے کہ آپ خود کسی کا درود نہیں سنتے فرشتے ہی آپ کا درود پہنچاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1531،1047) ابن ماجه (1636،1085) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: الأَمْرِ بِالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن مسواک کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1376
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ , وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ , وَالسِّوَاكُ , وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ" , إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ , وَقَالَ: فِي الطِّيبِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے، مسواک کرنا بھی، اور خوشبو جس پروہ قادر ہو لگانا بھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1376]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر ضروری ہے، اسی طرح مسواک کرنا بھی اور جو خوشبو اسے مل سکے، اسے لگائے، خواہ وہ خوشبو عورت (اس کی بیوی) کی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 3 (880)، صحیح مسلم/الجمعة 2 (846)، سنن ابی داود/الطھارة 129 (344)، (تحفة الأشراف: 4116)، مسند احمد 3/30، 65، 66، 69، ویأتی عند المؤلف برقم: 1384 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: الأَمْرِ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1377
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1377]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جمعہ کے دن (جمعہ پڑھنے کے لیے) آئے تو وہ غسل کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 2 (877)، 12 (894)، 26 (919)، (تحفة الأشراف: 8381)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة (844)، سنن الترمذی/الصلاة 238، الجمعة 3 (492)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1088)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (5)، مسند احمد 2/3، 9، 35، 37، 41، 42، 48، 53، 55، 57، 64، 77، 78، 101، 105، 115، 120، 141، 145، 149 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں