سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ: الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ
باب: اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1809
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ أَوْ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا، یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1809]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی ایک دن میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ یا (فرمایا:) ”اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15849)، مسند احمد 6/326، 428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1810
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1810]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک دن رات میں بارہ رکعات پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1811
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ:" مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1811]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جو آدمی دن میں بارہ رکعات پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1809 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1812
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ضَعِيفٌ هُوَ ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ سِوَى هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ اللَّفْظِ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں فرض کے علاوہ پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، محمد بن سلیمان ضعیف ہیں، وہ اصبہانی کے بیٹے ہیں، نیز یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی ان الفاظ کے علاوہ کے ساتھ جن کا ذکر اوپر ہوا ہے روایت کی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1812]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دن میں فرضوں کے علاوہ بارہ رکعات پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت درست نہیں (یعنی اس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر صحیح نہیں ہے بلکہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر صحیح ہے اور اس حدیث کا ایک راوی) محمد بن سلیمان ضعیف ہے، وہ ابن الاصبہانی ہے، یہ روایت اس سند (مذکورہ) کے علاوہ کئی سندوں سے بیان کی گئی ہے مگر ان میں مذکورہ الفاظ نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 100 (1142) مطولاً، حم2/498، (تحفة الأشراف: 12747) (صحیح بما قبلہ) (اس کے راوی ”محمد بن سلیمان‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، ان سے غلطیاں ہو جایا کرتی تھیں، مگر شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1142) أخطأ فيه محمد بن سليمان كما صرح به النسائي رحمه اللّٰه. وللحديث شاهد موقوف تقدم قبله (1811). والمراد باليوم: يوم وليلة،كما ورد فى أحاديث أخري. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
حدیث نمبر: 1813
أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: لَمَّا نُزِلَ بِعَنْبَسَةَ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ" , فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ.
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ جب عنبسہ کی موت کا وقت آیا تو وہ تکلیف سے پیچ و تاب کھانے لگے تو ان سے کچھ پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: سنو! میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے بیان کر رہی تھیں کہ آپ نے فرمایا ہے: ”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کا گوشت جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا، تو جب سے میں نے انہیں سنا ہے میں نے انہیں چھوڑا نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1813]
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جب عنبسہ بن ابوسفیان رحمہ اللہ کی وفات قریب ہوئی تو وہ تڑپنے لگے۔ ان سے کہا گیا (یعنی ان کو تسکین دی گئی) تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص نے ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کا گوشت آگ پر حرام کر دے گا۔“ جب سے میں نے یہ روایت سنی ہے، میں نے یہ رکعات نہیں چھوڑیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15856)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 296 (1269)، سنن الترمذی/الصلاة 201 (427)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 108 (1160)، مسند احمد 6/325، 426 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1814
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنِ الْقَاسِمِ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ حَبِيبَهَا أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهَا , قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَتَمَسُّ وَجْهَهُ النَّارُ أَبَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عنبسہ بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ میری بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ان کے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا: جو بھی مومن بندہ ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھے گا، تو جہنم کی آگ اس کے چہرے کو کبھی نہیں چھوئے گی، اگر اللہ عزوجل نے چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1814]
حضرت عنبسہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور میری ہمشیرہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جو بھی مومن شخص ظہر کے بعد چار رکعات پڑھتا ہے تو ان شاء اللہ کبھی بھی اس کے چہرے کو آگ نہیں چھوئے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 200 (428)، (تحفة الأشراف: 15861) (صحیح) (اس کے رواة ’’ہلال‘‘ اور ’’ایوب شامی‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1815
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1815]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات (پابندی سے) پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کر دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 296 (1269)، (تحفة الأشراف: 15863)، مسند احمد 6/326 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1816
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَال مَرْوَانُ: وَكَانَ سَعِيدٌ إِذَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ بِذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنَا بِهِ هُوَ لَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَتْ:" مَنْ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَنْبَسَةَ شَيْئًا.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، مروان بن محمد کہتے ہیں: اور سعید بن عبدالعزیز پر جب پڑھا گیا کہ ام حبیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں تو انہوں نے اس کا اقرار کیا، اور انکار نہیں کیا حالانکہ جب انہوں نے اسے ہم سے بیان کیا تو انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، وہ کہتی ہیں: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مکحول نے عنبسہ سے کچھ نہیں سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1816]
حضرت مروان رحمہ اللہ نے کہا کہ جب یہ روایت [عنبسہ عن ام حبیبہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ] ہمارے استاد سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ پر پڑھی جاتی تھی تو وہ اس کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اسے برقرار رکھتے تھے، لیکن جب وہ خود یہ روایت بیان فرماتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں فرماتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات پڑھے، اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام فرما دے گا۔“ امام ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے حضرت عنبسہ رحمہ اللہ سے کچھ نہیں سنا۔ (یعنی یہ روایت منقطع ہے۔) [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1817
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ أَخَذَهُ أَمْرٌ شَدِيدٌ , فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ".
محمد بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ جب ان کی موت کا وقت قریب ہوا تو ان کی حالت شدید ہو گئی تو انہوں نے کہا: مجھ سے میری بہن ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں، اور اس کے بعد کی چار رکعتوں کی محافظت کی، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1817]
حضرت سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت محمد بن ابوسفیان کو موت آنے لگی تو انہیں بڑی گھبراہٹ اور بے قراری لاحق ہو گئی۔ انہوں نے فرمایا: مجھے میری ہمشیرہ محترمہ سیدتنا ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات پر پابندی کرے، اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام فرما دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15866) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1818
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ مَرْوَانَ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار پڑھیں، اسے آگ نہیں چھوئے گی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۱؎، صحیح مروان کی حدیث ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1818]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد چار رکعات (پابندی سے) پڑھے گا، اسے آگ نہ چھوئے گی۔“ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث غلط ہے۔ صحیح حدیث مروان کی ہے جو وہ سعید بن عبدالعزیز سے بیان کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 201 (427)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 108 (1160)، (تحفة الأشراف: 15858)، مسند احمد 6/426 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اشارہ اس سے پہلے والی حدیث کی طرف ہے اس لیے بہتر یہ تھا کہ امام نسائی کا یہ قول حدیث رقم: ۱۸۱۷ کے بعد ذکر کیا جاتا، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ مراد عبداللہ شعیشی کے طریق سے وارد حدیث ہو ایسی صورت میں یہ کلام اپنے محل ہی میں ہو گا۔ ۲؎: یعنی حدیث رقم: ۱۸۱۶، جسے وہ سعید بن عبدالعزیز سے روایت کر رہے ہیں، اس میں عنبسہ بن ابی سفیان ہیں جب کہ اس میں محمد بن ابی سفیان ہیں جو غلط ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح