سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. بَابُ: مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي الْقِيَامَ فَنَامَ
باب: جو اپنے بستر پر آئے اور وہ قیام کی نیت رکھتا ہو لیکن وہ سو جائے۔
حدیث نمبر: 1789
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ مَوْقُوفًا.
اور سفیان ثوری (کی حبیب بن ابی ثابت سے مخالفت یہ ہے کہ انہوں) نے اس سند سے یہ حدیث ابوذر اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم سے موقوفاً روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1789]
سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اس روایت کو حضرت ابوذر اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہما کا اپنا قول (یعنی موقوف) بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
64. بَابُ: كَمْ يُصَلِّي مَنْ نَامَ عَنْ صَلاَةٍ، أَوْ مَنَعَهُ وَجَعٌ
باب: جو شخص تہجد کی نماز سے سو جائے یا کسی تکلیف کی وجہ سے اسے نہ پڑھ سکے تو وہ (دن میں) کتنی رکعتیں پڑھے؟
حدیث نمبر: 1790
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز نہیں پڑھ پاتے خواہ نیند نے آپ کو اس سے روکا ہو یا کسی تکلیف نے تو دن کو آپ بارہ رکعتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1790]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نفل نماز نہ پڑھ سکتے، یعنی نیند یا تکلیف کا غلبہ ہو جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، سنن الترمذی/الصلاة 210 (445)، (تحفة الأشراف: 16105) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
65. بَابُ: مَتَى يَقْضِي مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ، مِنَ اللَّيْلِ
باب: جو شخص رات کو سو جائے اور اپنا وظیفہ نہ پڑھ سکے تو وہ کب اس کی قضاء کرے؟
حدیث نمبر: 1791
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی رات کو اپنے وظیفہ سے، یا اس کی کسی چیز سے سو جائے، پھر وہ اسے فجر سے لے کر ظہر تک کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے یہی لکھا جائے گا کہ گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1791]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو اپنی مقرر شدہ مکمل یا کچھ نماز سے سویا رہا (نہ پڑھ سکا)، پھر وہ اسے فجر کی نماز (طلوعِ شمس) سے نمازِ ظہر تک پڑھ لے تو اس کا ثواب یوں لکھا جائے گا گویا اس نے رات کو پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 18 (747)، سنن ابی داود/الصلاة 309 (1313)، سنن الترمذی/الصلاة 291 (الجمعة 56) (581)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 177 (1343)، (تحفة الأشراف: 10592)، موطا امام مالک/القرآن 3 (3)، مسند احمد 1/32، 53، سنن الدارمی/الصلاة 167 (1518) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ قَالَ: جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کوئی رات کو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے، پھر وہ صبح سے ظہر تک کے درمیان کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1792]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو اپنی معمول کی مکمل یا کچھ نفل نماز سے سویا رہا، پھر اس نے اسے صبح کی نماز (کا وقت ختم ہونے اور مکروہ وقت گزرنے کے بعد) سے ظہر کی نماز تک پڑھ لیا تو یوں سمجھو، اس نے رات ہی کو پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1793
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ:" مَنْ فَاتَهُ حِزْبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ فَإِنَّهُ لَمْ يَفُتْهُ أَوْ كَأَنَّهُ أَدْرَكَهُ" , رَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَوْقُوفًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، اور وہ سورج ڈھلنے سے لے کر نماز ظہر تک کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو اس کا وظیفہ نہیں چھوٹا، یا گویا اس نے اپنا وظیفہ پا لیا۔ اسے حمید بن عبدالرحمٰن نے موقوفاً (یعنی: مقطوعا) روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1793]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص سے رات کی مقررہ (نفل) نماز رہ گئی اور اس نے زوالِ شمس سے لے کر ظہر کی نماز تک پڑھ لی تو یوں سمجھو کہ وہ نماز اس سے نہیں رہی بلکہ گویا اس نے بروقت پڑھ لی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے حمید نے اسے موقوف بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1791 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
66. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ صَلَّى فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
باب: جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1794
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ:" مَنْ فَاتَهُ وِرْدُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَقْرَأْهُ فِي صَلَاةٍ قَبْلَ الظُّهْرِ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ صَلَاةَ اللَّيْلِ".
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، تو اسے چاہیئے کہ وہ ظہر سے پہلے کسی نماز میں اسے پڑھ لے، کیونکہ یہ رات کی نماز کے برابر ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1794]
حضرت حمید بن عبد الرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جس آدمی کا رات کا مقرر ورد (ذکر، قرآن یا نماز) رہ جائے تو وہ اسے ظہر کی نماز سے پہلے کسی (نفل) نماز میں پڑھ لے تو یہ نماز بھی رات کی نماز کے برابر ہی متصور ہوگی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1791 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1795
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دن رات میں بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1795]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دن اور رات میں بارہ رکعات (سنت) پر پابندی کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (ان کی ترتیب یوں ہے:) ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر (کی نماز) سے پہلے دو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 190 (414)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 100 (1140)، (تحفة الأشراف: 17393) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: فرض نماز سے پہلے یا اس کے بعد جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم وہ ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مداومت فرمائی ہے بعض روایتوں میں ان کی تعداد دس بیان کی گئی ہے، اور بعض میں بارہ، اور بعض میں چودہ، انہیں سنن مؤکدہ یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں کی ہے انہیں نوافل یا غیر موکدہ کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مزید تقرب کے لیے نوافل یا غیر مؤکدہ سنتوں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1796
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پابندی سے بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور دو رکعتیں فجر سے پہلے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1796]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بارہ رکعات پر پابندی اور ہمیشگی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ (ان کی ترتیب یوں ہے:) ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دو، مغرب کی نماز کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر کی نماز سے پہلے دو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1797
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَكَعَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهَا بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1797]
حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص دن اور رات میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات (سنت) پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15873)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 15 (729)، سنن ابی داود/الصلاة 290 (1250)، سنن الترمذی/الصلاة 190 (415)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 100 (1141)، مسند احمد 6/326، 327، 426، سنن الدارمی/ ال صلاة 144 (1478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1798
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَا بَلَغَكَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْ عَنْبَسَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ رَكَعَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کیا معلوم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عنبسہ بن ابی سفیان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس نے رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1798]
حضرت ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعے سے پہلے بارہ رکعات پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کون سی روایت پہنچی ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عنبسہ بن ابوسفیان کو کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی دن اور رات میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات (سنت) پڑھے گا، اللہ عزوجل اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15859)، مسند احمد 6/326 (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے، لیکن پچھلی سند سے یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر عطاء کی یہ سمجھ خطا ہے کہ ایک ہی وقت میں بارہ رکعتیں پڑھ لیں تو وہی ثواب ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح