🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الأَمْوَاتِ
باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1939
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ , فَيَرْجِعُ اثْنَانِ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى وَاحِدٌ عَمَلُهُ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردے (کے ساتھ) تین چیزیں (قبرستان تک) جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال، اور اس کا عمل، (پھر) دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال لوٹ آتے ہیں، اور ایک باقی رہ جاتا ہے اور وہ اس کا عمل ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1939]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کے ساتھ تین چیزیں قبر کی طرف جاتی ہیں: اس کے رشتے دار، اس کا مال اور اس کا عمل۔ دو چیزیں، یعنی رشتے دار اور مال تو واپس آ جاتے ہیں اور ایک چیز، یعنی اس کا عمل اس کے پاس رہ جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 42 (6514)، صحیح مسلم/الزھد 1 (2960)، سنن الترمذی/فیہ 46 (2379)، (تحفة الأشراف: 540)، مسند احمد 3/110 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1940
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں: جب بیمار ہو تو وہ اس کی عیادت کرے، جب مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک رہے، جب دعوت کرے تو اسے قبول کرے، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے، جب چھینکے اور «الحمد للہ» کہے تو جواب میں «یرحمک اللہ» کہے، اور اس کی خیر خواہی کرے خواہ اس کے پیٹھ پیچھے ہو یا سامنے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1940]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حق ہیں: جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پرسی کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو (اس کے کفن، دفن اور جنازے میں) شریک ہو، جب وہ دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ اسے ملے تو سلام کہے، جب اسے چھینک آئے تو اسے دعا دے اور اس کی خیر خواہی کرے جب وہ غائب ہو یا موجود۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 1 (2737)، (تحفة الأشراف: 13066)، مسند احمد 2/321، 372، 412، 540 (صحیح) و ورد عندخ و م بلفظ ’’خمس‘‘أی بعدم ذکر ’’وینصح لہ إذا۔۔۔ الخ‘‘ راجع خ /الجنائز 2 (1240)، صحیح مسلم/السلام 3 (2162)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ: الأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ
باب: جنازہ کے ساتھ ساتھ جانے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1941
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ. ح وَأَنْبَأَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قال هَنَّادٌ , قال الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَقال سُلَيْمَانُ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ , أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ , وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ , وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ , وَنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ , وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ , وَإِجَابَةِ الدَّاعِي , وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ , وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ , وَعَنِ الْمَيَاثِرِ , وَالْقَسِّيَّةِ , وَالْإِسْتَبْرَقِ , وَالْحَرِيرِ , وَالدِّيبَاجِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا، اور سات باتوں سے منع فرمایا: ہمیں آپ نے مریض کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کے جواب میں «یرحمک اللہ» کہنے، قسم پوری کرانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو عام کرنے، دعوت دینے والوں (کی دعوت) قبول کرنے، اور جنازے کے ساتھ جانے کا حکم دیا، اور ہمیں آپ نے سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے، چاندی کے برتن (میں کھانے، پینے) سے، میاثر، قسّیہ، استبرق ۱؎، حریر اور دیباج نامی ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1941]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے روکا؛ ہمیں ”بیمار کی بیمار پرسی کرنے، چھینکنے والے کو دعا دینے، قسم کھانے والے کی بات کو پورا کرنے (بشرطیکہ وہ جائز ہو)، مظلوم کی مدد کرنے، ہر ملنے والے کو سلام کہنے، بلانے والے کی دعوت قبول کرنے اور جنازے کے ساتھ جانے“ کا حکم دیا، اور ”سونے کی انگوٹھی پہننے سے، چاندی کے برتن (میں کھانے پینے) سے، سرخ ریشمی گدیلوں، قس بستی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے اور موٹے یا باریک ہر قسم کے ریشم کے استعمال“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 2 (1239)، والمظالم 5 (2445)، وانکاح 71 (5175)، والأشربة 28 (5635)، والمرضی 4 (5650)، واللباس 28 (5838)، 36 (5849)، 45 (5863)، والأدب 124 (6222)، والاستئذان 8 (6654)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2066)، سنن الترمذی/الأدب 45 (2809)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 12 (2115)، (تحفة الأشراف: 1916)، مسند احمد 4/284، 287، 299، ویأتی عند المؤلف برقم: 3809 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: استبرق، حریر اور دیباج یہ تینوں ریشمی کپڑوں کی قسمیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ: فَضْلِ مَنْ يَتْبَعُ جَنَازَةً
باب: جنازے کے ساتھ جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1942
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ، وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجَنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کر دیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور ایک قیراط احد (پہاڑ) کے مثل ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1942]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے حتیٰ کہ اس کا جنازہ پڑھا جائے تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے حتیٰ کہ اسے دفن کیا جائے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا، اور قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1915)، مسند احمد 4/294 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1943
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، فَإِنْ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ".
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی جنازے کے ساتھ جائے، اور اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو لیا جائے، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور اگر لوٹ آئے قبل اس کے کہ اس سے فارغ ہوا جائے، تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1943]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی جنازے کے ساتھ جائے اور (دفن سے) فراغت تک ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا۔ اور جو شخص فراغت سے پہلے واپس آ جائے تو اسے ایک قیراط ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9653)، مسند احمد 4/86، و5/57 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ: مَكَانِ الرَّاكِبِ مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: سوار جنازے کے کس طرف رہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1944
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَخُوهُ الْمُغِيرَةُ جَمِيعًا، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا جہاں چاہے رہے، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1944]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار شخص جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل چلنے والا جہاں چاہے چلے (آگے یا پیچھے یا برابر) اور بچے کا بھی جنازہ پڑھا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 49 (3180) مطولاً، سنن الترمذی/الجنائز 42 (1031)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1481) مختصراً، 26 (1507)، (تحفة الأشراف: 11490)، مسند احمد 4/247، 248، 249، 252، ویأتی عند المؤلف برقم: 1945، 1950 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ: مَكَانِ الْمَاشِي مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: پیدل چلنے والا جنازہ کے کس طرف رہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1945
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَمِّهِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا (آگے پیچھے دائیں بائیں) جہاں چاہے رہے، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1945]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل جہاں چاہے چلے، اور نومولود بچے کا جنازہ پڑھا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1944 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1946
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَقُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1946]
حضرت سالم کے والد محترم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 49 (3179)، سنن الترمذی/الجنائز 26 (1007، 1008)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1482)، (تحفة الأشراف: 6820)، موطا امام مالک/الجنائز 3 (8) (مرسلاً)، مسند احمد 2/8، 122 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَنْصُورٌ , وَزِيَادٌ , وَبَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ، كُلُّهُمْ ذَكَرُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا مِنَ الزُّهْرِيِّ يُحَدِّثُ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ" , بَكْرٌ وَحْدَهُ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے (پیدل) چلتے دیکھا ہے۔ صرف راوی بکر نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، اور درست مرسل ہونا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1947]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے آگے چلتے دیکھا ہے۔ روایت کے راویوں میں سے اکیلے بکر راوی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ روایت (موصول) غلط ہے اور مرسل صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ: الأَمْرِ بِالصَّلاَةِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: مردے پر نماز جنازہ پڑھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1948
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ النَّيْسَابُورِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ".
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی مر گیا ہے، اٹھو اس کی نماز جنازہ پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1948]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (جب نجاشی رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا (اسلامی) بھائی (حبشہ میں) فوت ہو گیا ہے، لہٰذا اٹھو اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 22 (953)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 48 (1039)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1535)، (تحفة الأشراف: 10886)، مسند احمد 4/431، 433، 446 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں