🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْقِيَامِ
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا یہاں تک کہ وہ (نظروں سے) اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1929]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوئے جو پاس سے گزرا تھا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا (پھر بیٹھے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 24 (958، 959)، (تحفة الأشراف: 2818)، مسند احمد 3/295، 346 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1930
وأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَيْضًا، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ".
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک یہودی کے جنازے کے لیے سے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ وہ (نظروں سے) اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1930]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوئے (اور پھر کھڑے رہے) حتیٰ کہ وہ اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح أيضاً
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1931
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ , فَقِيلَ: إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ , فَقَالَ:" إِنَّمَا قُمْنَا لِلْمَلَائِكَةِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے، آپ سے کہا گیا: یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم فرشتوں (کی تکریم میں) کھڑے ہوئے ہیں، (نہ کہ جنازہ کی)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1931]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے، آپ سے کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے! آپ نے فرمایا: ”ہم تو فرشتوں (کی تعظیم) کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1162) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح أيضاً
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وللحديث شاهد ضعيف، عند أحمد (4/ 413). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ: اسْتِرَاحَةِ الْمُؤْمِنِ بِالْمَوْتِ
باب: موت سے مومن کو آرام مل جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1932
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ:" مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ" , فَقَالُوا: مَا الْمُسْتَرِيحُ وَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ:" الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ".
ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ نے فرمایا: (یہ) «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، تو لوگوں نے پوچھا: «مستریح» اور «مستراح منہ» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ مومن (موت کے بعد) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے، اور فاجر ۱؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے، بستیاں، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پا لیتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1932]
حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: ”اس نے آرام پا لیا یا لوگوں نے اس سے آرام پا لیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مومن شخص (موت کے ساتھ) دنیا کے رنج و تکلیف سے آرام پا جاتا ہے اور بدکار شخص (کی موت) سے لوگ، شہر، درخت اور جانور آرام پا جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 42 (6512)، صحیح مسلم/الجنائز 21 (950)، (تحفة الأشراف: 12128)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (54)، مسند احمد 5/296، 202، 304 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے فاجر سے مراد کافر ہے کیونکہ یہاں مومن کے بالمقابل استعمال ہوا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ اسے کافر اور فاجر دونوں کے لیے عام مانا جائے، کیونکہ کافر کی طرح فاجر مسلمان بھی بندگان اللہ کو اپنے مظالم کا شکار بناتے ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ: الاِسْتِرَاحَةِ مِنَ الْكُفَّارِ
باب: کفار و مشرکین کی موت سے لوگوں راحت ملتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1933
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ , قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا وَأَذَاهَا، وَالْفَاجِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، (کیونکہ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے (اللہ کے) بندے، ملک و شہر، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پا لیتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1933]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ نمودار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آرام پانے والا ہے یا مخلوقات کو اس سے آرام ملا ہے۔ مومن فوت ہوتا ہے تو دنیا کی بیماریوں، تکالیف اور مصیبتوں سے نجات پا جاتا ہے اور بدکار شخص مرتا ہے تو اس سے انسان، علاقے، درخت اور جانور نجات اور آرام پا جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ: الثَّنَاءِ
باب: مردے کی تعریف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1934
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ"، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ"، فَقَالَ عُمَرُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، فَقَالَ:" مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، (پھر) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی؟، تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی، تم ۱؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1934]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی تعریف کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لازم ہوگئی۔“ ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! ایک جنازہ گزرا، اس کی اچھی تعریف ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”لازم ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کی برائی بیان کی گئی تو آپ نے پھر وہی فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ (کیا مطلب ہے؟) آپ نے فرمایا: ”جس کی تم نے اچھی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت لازم ہوگئی اور جس کی برائی بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہوئی۔ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 85 (1367)، والشھادات 6 (2642)، صحیح مسلم/الجنائز 20 (949)، (تحفة الأشراف: 1004)، سنن الترمذی/الجنائز 63 (1058)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491)، مسند احمد 3/179، 186، 197، 245، 281 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ساتھ مخصوص ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس خطاب میں صحابہ رضی الله عنہم کرام کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ان کے طریقہ پر کاربند ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1935
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَامِرٍ، وَجَدَّهُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ" , ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَوْلُكَ الْأُولَى وَالْأُخْرَى وَجَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَلَائِكَةُ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”: واجب ہو گئی“، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار «وجبت» کہنے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1935]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے، حاضرین نے اس کی اچھی تعریف کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ پھر لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، حاضرین نے اس کی برائی بیان کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پہلے جنازے کے بارے میں بھی فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ اور دوسرے جنازے کے بارے میں بھی فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ (کیا مطلب ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے آسمان میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں اور تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 80 (3233)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1492)، (تحفة الأشراف: 13538)، مسند احمد 2/466، 470 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1936
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قال: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ , ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قال: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ قَالُوا خَيْرًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ" , قُلْنَا: أَوْ ثَلَاثَةٌ , قَالَ: أَوْ ثَلَاثَةٌ , قُلْنَا: أَوِ اثْنَانِ , قَالَ: أَوِ اثْنَانِ.
ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی (بھی) تعریف کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، تو میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! کیا واجب ہو گئی؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: ”جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا“، ہم نے پوچھا: (اگر) تین گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ہی سہی“، (پھر) ہم نے پوچھا: (اگر) دو گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہی سہی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1936]
حضرت ابوالاسود دِیلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں مدینہ منورہ آیا اور مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی تعریف کی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہوگئی، پھر ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بھی اچھی تعریف کی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہوگئی، پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے فرمایا: میں نے تو اسی طرح کہا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس مسلمان کے لیے چار آدمی نیک ہونے کی گواہی دیں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ ہم نے کہا: اور تین؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تین بھی۔“ ہم نے کہا: اور دو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دو بھی (یعنی دو کی گواہی بھی معتبر ہوگی)۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 85 (1368)، والشھادات 6 (2643)، سنن الترمذی/الجنائز 63 (1059)، (تحفة الأشراف: 10472)، مسند احمد 1/21، 22، 45، 30، 46 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ ذِكْرِ الْهَلْكَى إِلاَّ بِخَيْرٍ
باب: مردوں کا تذکرہ بھلائی کے ساتھ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1937
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَالِكٌ بِسُوءٍ، فَقَالَ:" لَا تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1937]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی فوت شدہ شخص کی برائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اپنے فوت شدگان کا ذکرِ خیر ہی کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17862) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الأَمْوَاتِ
باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1938
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا، اس تک پہنچ چکے ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1938]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے اعمال (کی جزا و سزا) کی طرف پہنچ چکے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 97 (1393)، والرقاق 42 (6516)، (تحفة الأشراف: 17576)، مسند احمد 6/180، سنن الدارمی/السیر 68 (2553) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہیں اپنے اعمال کی جزا و سزا مل رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں