🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1969
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1969]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد ہی میں پڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 34 (973) مطولاً، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 54 (3189)، سنن الترمذی/الجنائز 44 (1033)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 29 (1518)، (تحفة الأشراف: 16175)، موطا امام مالک/الجنائز 8 (22)، مسند احمد 6/78، 133، 169 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مسجد میں جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اگرچہ آپ کا معمول مسجد سے باہر پڑھنے کا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1970
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1970]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد ہی میں پڑھایا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بیضاء کے تین بیٹے تھے جن کے نام سہل، سہیل اور صفوان تھے اور ان کی ماں کا نام رعد تھا، بیضاء ان کا وصفی نام ہے، اور ان کے والد کا نام وہب بن ربیعہ قرشی فہری تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ بِاللَّيْلِ
باب: رات میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1971
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوالِي مِسْكِينَةٌ , فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ:" إِنْ مَاتَتْ فَلَا تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا" , فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَصَلَّوْا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا: قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ , قَالَ:" فَانْطَلِقُوا" فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ ”اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں“، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، (رات) ہم آپ کے پاس آئے (بھی) تھے، (لیکن) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: ”چلو!“ (اور) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھائی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1971]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک مسکین عورت (مدینے کے مضافات) عوالی میں بیمار ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اس (کی صحت) کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے، نیز آپ نے فرمایا: ”اگر وہ فوت ہو جائے تو اسے دفن نہ کرنا یہاں تک کہ میں اس کا جنازہ پڑھوں۔“ آخر وہ فوت ہو گئی تو لوگ اس کا جنازہ لے کر عشاء کے بعد مدینہ منورہ میں آئے لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوتے پایا۔ انہوں نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا، خود ہی جنازہ پڑھا اور اسے بقیعِ غرقد میں دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو دفن بھی ہو چکی۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے مگر ہم نے آپ کو سوتے پایا اور آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: ”چلو۔“ آپ چلے۔ وہ لوگ بھی آپ کے ساتھ چلے حتیٰ کہ انہوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قبر کے سامنے) کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ (آپ کے حکم سے) آپ کے پیچھے صف میں کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس عورت کا نام ام محجن تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. بَابُ: الصُّفُوفِ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: جنازہ پر صف بندی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1972
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ" , فَقَامَ فَصَفَّ بِنَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْجَنَازَةِ وَصَلَّى عَلَيْهِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہو گئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، (پھر) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1972]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا (اسلامی) بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے۔ اٹھو، اس کا جنازہ پڑھو۔“ آپ کھڑے ہوئے اور ہماری صف بندی فرمائی جیسے جنازے میں صف بندی کی جاتی ہے، پھر اس کا جنازہ پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 53 (1317)، 54 (1320)، 64 (1334)، ومناقب الأنصار 38 (3877)، صحیح مسلم/الجنائز 22 (952)، (تحفة الأشراف: 2450)، مسند احمد 3/295، 319، 369، 400 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1973
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے، اور ان کی صف بندی کی، (پھر) آپ نے ان کی نماز (جنازہ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1973]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ان کی وفات ہی کے دن فرمائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر جنازہ گاہ میں گئے، ان کی صف بندی کی اور ان کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 4 (1245)، 54 (1318)، 60 (1328)، 64 (1334)، والمناقب 38 (3880- 3881) صحیح مسلم/الجنائز 22 (951)، سنن ابی داود/الجنائز 62 (3204)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 37 (1022)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1534)، (تحفة الأشراف: 13232)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (14)، مسند احمد 2/281، 289، 438، 439، ویأتی عند المؤلف برقم: 1982 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1974
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنِّي لَمْ أَفْهَمْهُ كَمَا أَرَدْتَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ نے ان کی نماز (جنازہ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1974]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دی۔ انہوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں، آپ نے جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن مسیب کا لفظ میں اپنی منشا کے مطابق سمجھ نہیں سکا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 54 (1318)، سنن الترمذی/الجنائز 37 (1022)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1534)، (تحفة الأشراف: 13267، 15290) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1975
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ"، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ صَفَّيْنِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی (نجاشی) مر گئے ہیں تو تم لوگ اٹھو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“ تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1975]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی فوت ہو گیا ہے۔ اٹھو! اس کا جنازہ پڑھو۔“ تو ہم نے اس کے جنازے میں دو صفیں بنائیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر صحیح مسلم/الجنائز 22 (952)، (تحفة الأشراف: 2670)، مسند احمد 3/355 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1976
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ: السَّاعَةَ يَخْرُجُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال:" كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي يَوْمَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز (جنازہ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1976]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھایا، میں دوسری صف میں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 54 (1320) تعلیقاً، (تحفة الأشراف: 2774) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1977
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ , فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ" , قَالَ: فَقُمْنَا، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ , وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، تو ہم کھڑے ہوئے (اور) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز (جنازہ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1977]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا (اسلامی) بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، اٹھو اس کا جنازہ پڑھو۔“ ہم کھڑے ہوئے اور صف بندی کی جیسے میت پر کی جاتی ہے اور اس کا جنازہ پڑھا جیسے میت کا جنازہ پڑھا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر سنن الترمذی/الجنائز 48 (1039)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1535)، (تحفة الأشراف: 10889)، مسند احمد 4/439، 441 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ قَائِمًا
باب: نماز جنازہ کھڑے ہو کر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1978
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي وَسَطِهَا".
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز (جنازہ) پڑھی، جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1978]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ام کعب رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھا جو بچے کی پیدائش کے وقت فوت ہوگئی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کمر کے برابر کھڑے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 393 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں