سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: كَفَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے کفن کا بیان۔
حدیث نمبر: 1899
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ (پگڑی)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1899]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سحول بستی کے بنے ہوئے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں کوئی قمیص یا پگڑی نہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 24 (1273)، (تحفة الأشراف: 17160)، موطا امام مالک/الجنائز 2 (5) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1900
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ"، فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ قَوْلُهُمْ: فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدٍ مِنْ حِبَرَةٍ , فَقَالَتْ: قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ تو قمیص تھی، اور نہ عمامہ (پگڑی)، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کپڑوں اور ایک یمنی چادر کے متعلق لوگوں کی گفتگو کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا، اور آپ کو اس میں نہیں کفنایا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1900]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کے بنے ہوئے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا، ان میں کوئی قمیص یا پگڑی نہ تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دو کپڑے تھے اور تیسری دھاری دار چادر تھی۔ انہوں نے فرمایا: چادر (دھاری دار) لائی تو گئی تھی مگر غسل اور کفن دینے والوں نے واپس کر دی تھی، اس میں آپ کو کفن نہیں دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 13 (941)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3152)، سنن الترمذی/الجنائز 20 (996)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 11 (1469)، (تحفة الأشراف: 16786) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
40. بَابُ: الْقَمِيصِ فِي الْكَفَنِ
باب: کفن میں قمیص کے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1901
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ , ثُمَّ قَالَ:" إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ" فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ: قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ , فَقَالَ:" أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ قَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84" فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) مر گیا، تو اس کے بیٹے (عبداللہ رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، (اور) عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز (جنازہ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: ”جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز (جنازہ) پڑھوں گا“ (اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز (جنازہ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دو اختیارات کے درمیان ہوں (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ”تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے“ (التوبہ: ۸۰) چنانچہ آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ”تم ان (منافقین) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو“ (التوبہ: ۸۴) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1901]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی (منافقین کا سردار) مر گیا تو اس کے بیٹے (عبداللہ رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور گزارش کی کہ مجھے اپنی قمیص مبارک عطا فرمائیں تاکہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں۔ آپ اس کا جنازہ بھی پڑھیے اور اس کے لیے بخشش کی دعا بھی کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قمیص دے دی اور فرمایا: ”جب تم غسل اور کفن سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا، میں اس کا جنازہ پڑھوں گا۔“ (جب آپ جنازے پر پہنچے تو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کیا اور گزارش کی کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے سے روکا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں) مجھے دو چیزوں میں اختیار دیا گیا ہے کہ ان (منافقین) کے لیے بخشش طلب کرو یا نہ کرو، اللہ انھیں معاف نہیں فرمائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھ دیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] ”ان منافقین میں سے کوئی مر جائے تو کبھی بھی اس کا جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کا جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 22 (1269)، وتفسیر التوبة 12 (4670)، 13 (4672)، واللباس 8 (5796)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2400)، وصفات المنافقین (2774)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3098)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1523)، (تحفة الأشراف: 8139)، مسند احمد 2/18 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1902
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، قال: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ لَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ" وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا، واللہ تعالیٰ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1902]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لائے جبکہ اسے لحد میں رکھا جا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر کھڑے ہوئے اور اسے نکالنے کا حکم دیا۔ اسے (قبر سے) نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کے منہ میں (یا اس کے جسم پر) اپنا لعابِ مبارک ڈالا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (حکمت کیا تھی؟)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 22 (1270)، 77 (1350)، واللباس 8 (5795)، صحیح مسلم/صفات المنافقین (2773)، (تحفة الأشراف: 2531)، مسند احمد 3/371، 381، ویأتي عند المؤلف برقم: 2021 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1903
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" وَكَانَ الْعَبَّاسُ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَبَتِ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1903]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ مدینہ میں (قید) تھے تو (ان کی قمیص پھٹی ہوئی تھی)، لہٰذا انصار نے ان کے لیے کوئی کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنا سکیں مگر عبداللہ بن ابی کی قمیص کے علاوہ کوئی قمیص ان پر صحیح نہ آتی تھی (کیونکہ وہ قد آور تھے اور وہ بھی قد آور تھا)، آخر انہوں نے وہی ان کو پہنا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور اسی احسان کے بدلے کے طور پر آپ نے مرنے پر عبداللہ بن ابی کو اپنی قمیص دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1904
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، قال: سَمِعْتُ شَقِيقًا، قال: حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قال:" هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , وَإِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا" , وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.
خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہو گیا، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مر گئے (اور) اس اجر میں سے (دنیا میں) کچھ بھی نہیں چکھا، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے، تو ہم نے سوائے ایک (چھوٹی) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں (یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1904]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہم صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے طالب تھے، لہٰذا ہمارا ثواب اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے لیا۔ ہم میں سے کچھ تو اس حالت میں فوت ہوئے کہ انہوں نے اپنے اجر و ثواب کا کچھ بھی حصہ دنیا میں وصول نہ کیا تھا۔ ایسے مخلصین میں سے ایک حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے جو جنگِ احد میں شہید ہوئے۔ ہمیں ان کو کفن دینے کے لیے صرف ایک چادر ملی، وہ بھی اتنی (چھوٹی تھی) کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے تھے اور جب ہم ان کے پاؤں ڈھانپتے تھے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”ہم اس سے ان کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر گھاس ڈال دیں۔“ اور ہم میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کے لیے ان کے ثواب کا پھل اس دنیا میں بھی پک کر تیار ہو گیا ہے۔ وہ اس کو توڑ توڑ کر کھا رہے ہیں۔ حدیث کے یہ الفاظ اسماعیل بن مسعود راوی کے بیان کردہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 27 (1276)، ومناقب الأنصار 45 (3897، 3914)، والمغازي 17 (4047)، 26 (4082)، والرقاق 7 (6432)، 16 (6448)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (940)، سنن ابی داود/الوصایا 11 (2876)، سنن الترمذی/المناقب 54 (3853)، مسند احمد 5/109، 111، 112، 6/395، (تحفة الأشراف: 3514) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
41. بَابُ: كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ إِذَا مَاتَ
باب: محرم جب مر جائے تو اس کی تکفین کیسے کی جائے؟
حدیث نمبر: 1905
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوا الْمُحْرِمَ فِي ثَوْبَيْهِ اللَّذَيْنِ أَحْرَمَ فِيهِمَا , وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ , وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا، اور اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے نہلاؤ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1905]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم کو اس کے انہی دو کپڑوں میں غسل دو جن میں اس نے احرام باندھا تھا اور اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو، اس کو انہی دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 21 (1268)، وجزاء الصید 13 (1839)، 20 (1849)، 21 (1851)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن ابی داود/الجنائز 84 (3238، 3239)، سنن الترمذی/الحج 105 (951)، سنن ابن ماجہ/الحج 89 (3084)، (تحفة الأشراف: 5582)، مسند احمد 1/215، 220، 266، 286، 346، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2715، 2861 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
42. بَابُ: الْمِسْكِ
باب: مشک کا بیان۔
حدیث نمبر: 1906
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَشَبَابَةُ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، سَمِعَ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمدہ ترین خوشبو مشک ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1906]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین خوشبو کستوری ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأدب 5 (2252)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 37 (3158)، سنن الترمذی/الجنائز 16 (991، 992)، (تحفة الأشراف: 4311)، مسند احمد 3/31، 36، 40، 46، 47، 62، 68، 87، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 5122، 5266 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1907
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ خَيْرِ طِيبِكُمُ الْمِسْكُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بہترین خوشبوؤں میں سے مشک ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1907]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کستوری تمہاری بہترین خوشبو ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 37 (3158)، (تحفة الأشراف: 4381)، مسند احمد 3/36، 62 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
43. بَابُ: الإِذْنِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازہ کی خبر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" , فَأُخْرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا وَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْهَا فَقَالَ:" أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا“، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا (تو) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو (رات میں) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے صحابہ کے ساتھ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1908]
حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکین لوگوں کی بیمار پرسی اور خبر گیری فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہ فوت ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔“ اس کا جنازہ رات کو لے جایا گیا اور صحابہ نے پسند نہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائیں۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی گئی۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمھیں کہا نہیں تھا کہ مجھے اس کی اطلاع دینا؟“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے رات کے وقت آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف چلے اور اس کی قبر پر لوگوں کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ (یعنی جنازہ پڑھا۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 137)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (15)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1971، 1983 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں قبر پر دوبارہ نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اسے اسی عورت کے ساتھ خاص مانتے ہیں لیکن یہ دعویٰ محتاج دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح