🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. بَابُ: دَفْنِ الْجَمَاعَةِ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ
باب: کئی لوگوں کو ایک قبر میں دفنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2019
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" احْفِرُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو، اور انہیں خوبصورت بناؤ، اور دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2019]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور اچھی طرح کھودو اور دو دو، تین تین کو (اکٹھا) دفن کرو، اور جو شخص قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوا ہو، اسے آگے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. بَابُ: مَنْ يُقَدَّمُ
باب: قبر میں پہلے کون رکھا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور (ایک ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2020]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن میرے والد شہید ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کھودو اور اچھی طرح کھودو، اور دو دو، تین تین کو ایک ایک قبر میں دفن کرو اور جس نے قرآن مجید زیادہ پڑھا ہو، اسے آگے رکھو۔“ میرے والد تین میں سے ایک تھے (جو ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے، یعنی ان کے ساتھ دو اور آدمی دفن کیے گئے۔) چونکہ وہ (میرے والد) قرآن مجید زیادہ پڑھے ہوئے تھے، لہٰذا انہیں (قبلے کی طرف) آگے رکھا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. بَابُ: إِخْرَاجِ الْمَيِّتِ مِنَ اللَّحْدِ بَعْدَ أَنْ يُوضَعَ فِيهِ
باب: میت کو لحد میں رکھنے کے بعد باہر نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2021
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا، يَقُولُ:" أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ" , وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے (نکالنے کا) حکم دیا، چنانچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2021]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کو قبر میں رکھے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اسے باہر نکالنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور کسی قدر اپنا لعابِ دہن اس پر ڈالا اور اسے اپنی قمیص پہنائی، اللہ تعالیٰ ہی (اس کی مصلحت) جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1902 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس پر تھو تھو کرنے اور اسے اپنی قمیص پہنانے میں کیا مصلحت پنہا تھی اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، بعض لوگوں نے کہا: چونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی اس لیے آپ نے بدلے میں ایسا کیا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2022
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَتَفَلَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ" قَالَ جَابِرٌ:" وَصَلَّى عَلَيْهِ" وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ اور اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2022]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا، اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کا جنازہ پڑھا، (ان کاموں کی مصلحت) اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2509) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. بَابُ: إِخْرَاجِ الْمَيِّتِ مِنَ الْقَبْرِ بَعْدَ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ
باب: قبر میں رکھ دیئے جانے کے بعد مردے کو نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2023
أخبرنا العباس بن عبد العظيم عن سعيد بن عامر عن شعبة عن بن أبي نجيح عن عطاء عن جابر قال: دفن مع أبي رجل في القبر فلم يطب قلبي حتى أخرجته ودفنته على حدة ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ساتھ قبر میں ایک شخص اور دفن کیا گیا تھا، میرا دل خوش نہیں ہوا یہاں تک کہ میں نے اسے نکالا، اور انہیں علاحدہ دفن کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2023]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (شہیدِ احد) کے ساتھ قبر میں ایک اور شہید بھی دفنائے گئے تھے، مگر میرے دل کو یہ اچھا نہ لگا، حتیٰ کہ میں نے ان کو نکال کر علیحدہ دفن کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 77 (1350)، (تحفة الأشراف: 2422)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 79 (3232) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2024
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ مَوْلَاةُ بَنِي فُلَانٍ، فَعَرَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاتَتْ ظُهْرًا وَأَنْتَ نَائِمٌ قَائِلٌ فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُوقِظَكَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا , ثُمَّ قَالَ:" لَا يَمُوتُ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي لَهُ رَحْمَةٌ".
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی (کی قبر) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (بقیع کی طرف) نکلے تو آپ نے ایک تازہ قبر دیکھی۔ آپ نے فرمایا: ”یہ قبر کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں قبیلے کی فلاں لونڈی کی قبر ہے، آپ نے اسے پہچان لیا، یہ ظہر کے وقت فوت ہوئی تھی۔ آپ اس وقت روزے کی حالت میں دوپہر کے وقت آرام فرما رہے تھے۔ ہم نے اس کی خاطر آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (قبر کے رخ) کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بنائی اور آپ نے چار تکبیریں کہیں (یعنی مکمل جنازہ پڑھا۔) پھر فرمایا: ”جب تک میں تم میں موجود ہوں، کوئی شخص بھی فوت ہو مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ میرا جنازہ پڑھنا اس کے لیے رحمت کا سبب ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1528)، (تحفة الأشراف: 11824)، مسند احمد 4/388 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2025
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مُنْتَبِذٍ:" فَأَمَّهُمْ وَصَفَّ خَلْفَهُ" , قُلْتُ: مَنْ هُوَ يَا أَبَا عَمْرٍو؟، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرا، جو الگ تھلگ تھی، تو آپ نے ان کی امامت کی، اور اپنے پیچھے ان کی صف بندی کی۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے (شعبی) پوچھا: ابوعمرو! یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2025]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے اس صحابی نے بتایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک علیحدہ بنی ہوئی قبر کے پاس سے گزرے تھے، آپ نے امامت فرمائی اور انھوں (ابن عباس اور دوسرے لوگوں) نے آپ کے پیچھے صف بندی کی۔ شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: وہ کون سے صحابی ہیں؟ انھوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، والجنائز 5، 54 (1247)، 55 (1319)، 59 (1324)، 66 (1326)، 69 (1336)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3196)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1530)، (تحفة الأشراف: 5766)، مسند احمد 1/224، 283، 338 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2026
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال الشَّيْبَانِيُّ , أَنْبَأَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَّ بِقَبْرٍ مُنْتَبِذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ" , قِيلَ: مَنْ حَدَّثَكَ، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی، پوچھا گیا: آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2026]
حضرت شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی جنہوں نے خود دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک علیحدہ بنی ہوئی قبر کے قریب سے گزرے تو آپ نے اپنے صحابہ کی اپنے پیچھے صف بنائی اور جنازہ پڑھایا۔ (شعبی سے) پوچھا گیا: آپ کو کس صحابی نے بیان فرمایا؟ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2027
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اسے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2027]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اس کے دفن کیے جانے کے بعد جنازہ پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2407) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. بَابُ: الرُّكُوبِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد سواری پر بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2028
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ، فَلَمَّا رَجَعَ أُتِيَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَ وَمَشَيْنَا مَعَهُ".
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں (شرکت کے لیے) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو (آپ کے لیے) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ (اس پر) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2028]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن دحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے کے لیے نکلے (پیدل تشریف لے گئے)۔ جب واپس ہوئے تو آپ کے پاس بغیر کاٹھی کے گھوڑا لایا گیا، آپ اس پر سوار ہو گئے اور ہم آپ کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 28 (965)، (تحفة الأشراف: 2194)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 48 (3178)، سنن الترمذی/الجنائز 29 (1013)، مسند احمد 5/90، 102 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں