سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ
باب: نماز جنازہ پڑھنے والوں کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1999
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قال: حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ تَبِعَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے کے ساتھ جائے (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو (جنازہ میں) شریک ہو، (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد (پہاڑ) سے زیادہ بڑا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1999]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، اس کا جنازہ پڑھے، پھر واپس آ جائے تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو ساتھ جائے، جنازہ پڑھے، پھر بیٹھا رہے حتیٰ کہ تدفین سے فراغت ہو تو اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔ ہر قیراط احد (پہاڑ) سے بڑا ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13543) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
80. بَابُ: الْجُلُوسِ قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ
باب: جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2000
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، وَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ بھی کھڑا رہے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2000]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ نہ بیٹھے حتیٰ کہ جنازہ (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1915 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
81. بَابُ: الْوُقُوفِ لِلْجَنَائِزِ
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2001
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ , فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ".
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے جنازہ (زمین پر) رکھے جانے تک کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”(پہلے) کھڑے رہتے تھے، مگر بعد میں بیٹھے رہتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3175)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، موطا امام مالک/الجنائز 11 (33)، حصحیح مسلم/82، 83، 131، 138 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2002
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم (بھی) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم (بھی) بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2002]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوتے دیکھا تو ہم بھی کھڑے رہے، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھے دیکھا تو ہم بھی بیٹھے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2003
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی، چنانچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2003]
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں گئے۔ جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو (دیکھا کہ) قبر تیار نہیں ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے (بغیر کسی حرکت و آواز کے) گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 68 (3211، 3212)، والسنة 27 (4753، 4754)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 37 (1548)، (تحفة الأشراف: 1758)، مسند احمد 4/287، 288، 297، 295 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
82. بَابُ: مُوَارَاةِ الشَّهِيدِ فِي دَمِهِ
باب: شہید کو اس کے خون میں ہی دفن کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2004
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَتْلَى أُحُدٍ:" زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلَّا يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ".
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو گا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہو گا، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2004]
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے شہداء کے بارے میں فرمایا تھا: ”انھیں ان کے خون آلود جسموں اور کپڑوں سمیت کفن دو کیونکہ جو زخم بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں لگا ہو، قیامت کے دن اس کی یہ حالت ہوگی کہ رنگ تو خون جیسا ہی ہوگا مگر خوشبو کستوری جیسی ہوگی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5210)، مسند احمد 5/431 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
83. بَابُ: أَيْنَ يُدْفَنُ الشَّهِيدُ
باب: شہید کہاں دفن کیا جائے؟
حدیث نمبر: 2005
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ رَجُلٍ , يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَيَّةَ، قال: أُصِيبَ رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الطَّائِفِ فَحُمِلَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَنَا حَيْثُ أُصِيبَا" , وَكَانَ ابْنُ مُعَيَّةَ وُلِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبیداللہ بن معیہ نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن دو مسلمان مارے گئے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لائے گئے، تو آپ نے انہیں (اسی جگہ) دفنانے کا حکم دیا جہاں وہ مارے گئے تھے۔ اس حدیث کے راوی ابن معیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2005]
حضرت عبید اللہ بن معیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: طائف کے دوران میں دو مسلمان شہید ہوئے تو ان کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”انہیں وہیں دفن کیا جائے جہاں یہ شہید ہوئے“۔ (راویِ حدیث) حضرت ابن معیہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9741) (ضعیف الإسناد) (ابن معیّة تابعی ہیں اس لیے یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2006
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ" , وَكَانُوا قَدْ نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے مقتولین کے بارے حکم دیا کہ انہیں ان کے پچھاڑے جانے کی جگ ہوں پر لوٹا دیا جائے، حالانکہ وہ مدینہ لے آئے گئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2006]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ شہدائے احد کو ان کی شہادت کے میدان میں واپس لایا جائے کیونکہ ان (میں سے بعض) کو مدینہ منورہ لے جایا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 42 (3165)، سنن الترمذی/الجھاد 37 (1717)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1516)، (تحفة الأشراف: 3117)، مسند احمد 3/297، 303، 308، 397، سنن الدارمی/المقدمة 7 (46) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2007
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ادْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَصَارِعِهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتولین کو ان کے گرنے کی جگ ہوں میں دفن کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2007]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء (احد) کو ان کی شہادت گاہ ہی میں دفن کیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ مارے گئے ہیں اور جس جگہ ان کی لاش گری تھی وہیں دفن کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
84. بَابُ: مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ
باب: کافر و مشرک کو دفن کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2008
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ؟ قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا (ابوطالب) مر گئے ہیں، انہیں کون دفن کرے؟ آپ نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا“، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا، تو آپ نے میرے لیے (نہانے کا) حکم دیا، میں نے غسل کیا، اور آپ نے مجھے دعا دی۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں: اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2008]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (جب میرے والد ابو طالب فوت ہوئے تو) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ آپ کے گم کردہ راہ چچا فوت ہو گئے ہیں۔ اب انھیں کون (زمین میں) چھپائے (دفن کرے) گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، اپنے والد کو (زمین میں) چھپاؤ (دفن کرو) اور میرے پاس واپس آنے سے پہلے کوئی اور کام نہ کرنا۔“ میں ان کو دفنانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا۔ میں نے غسل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے (صبر و تحمل کی) دعا کی لیکن وہ دعا مجھے یاد نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 190 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن