سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. بَابُ: اللَّحْدِ وَالشَّقِّ
باب: بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2009
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قال:" أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے بغلی قبر کھودنا، اور (اینٹیں) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2009]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے (وصیت کے طور پر) فرمایا: میرے لیے لحد بنانا اور پھر اینٹیں لگا دینا جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، صحیح مسلم/الجنائز 29 (966)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1556)، (تحفة الأشراف: 3926)، مسند احمد 1/173 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2010
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قال:" أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا: میرے لیے بغلی قبر کھدوانا، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ السلام کے لیے کی گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2010]
حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب (والد محترم) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے لیے لحد بنانا اور پھر اینٹیں لگا دینا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تحفة الأشراف: 3867، حم1/169، 184 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2011
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2011]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا» ”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 65 (3208)، سنن الترمذی/الجنائز 53 (1045)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1554)، (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ «اللحد لنا» کا مطلب «اللحد لي» ہے، یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے، جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے، یا «اللحدلنا» کا مطلب «اللحد اختیارنا» ہے، یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کی صندوقی مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا، اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3208) ترمذي (1045) ابن ماجه (1554) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
86. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ إِعْمَاقِ الْقَبْرِ
باب: قبر گہری کھودنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 2012
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْحَفْرُ عَلَيْنَا لِكُلِّ إِنْسَانٍ شَدِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ" , قَالُوا: فَمَنْ نُقَدِّمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , قَالَ: فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (غزوہ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہر ایک آدمی کے لیے (الگ الگ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو، اور دو دو تین تین (افراد) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پہلے ہم کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو“۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2012]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے جنگِ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور عرض کیا کہ ہر میت کے لیے الگ الگ قبر کھودنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، گہری کھودو اور اچھی طرح کھودو، اور دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کر دو۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آگے کس میت کو رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو۔“ راویِ حدیث حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے والد سمیت تین آدمی ایک قبر میں دفن کیے گئے۔ (رضی اللہ عنہ) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 71 (3215، 3216، 3217)، سنن الترمذی/الجھاد 33 (1713)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 41 (1560) مختصراً، (تحفة الأشراف: 11731)، مسند احمد 4/19، 20، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2013، 2017-2020 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
87. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَوْسِيعِ الْقَبْرِ
باب: قبر کو کشادہ کھودنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 2013
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مَنْ أُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَصَابَ النَّاسَ جِرَاحَاتٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو اور چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں (قبر میں) پہلے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2013]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے اور (باقی ماندہ) لوگوں کو بہت زخم لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (از راہِ شفقت) فرمایا: ”تم (قبریں) کھودو اور انہیں کشادہ کھودو اور دو دو، تین تین شہداء کو ایک ایک قبر میں دفن کر دو اور جس نے قرآن مجید زیادہ پڑھا ہو، اسے آگے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
88. بَابُ: وَضْعِ الثَّوْبِ فِي اللَّحْدِ
باب: لحد میں کپڑا بچھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2014
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" جُعِلَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دُفِنَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دفنائے گئے آپ کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2014]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا تو آپ کے نیچے سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 30 (967)، سنن الترمذی/الجنائز 55 (1048)، (تحفة الأشراف: 6526)، مسند احمد 1/228، 355 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مشہور یہ ہے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض غلاموں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو بتائے بغیر بچھایا تھا، ابن سعد نے طبقات (۲/۲۹۹) میں وکیع کا قول نقل کیا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے، اور حسن بصری سے ایک روایت ہے کہ زمین گیلی تھی اس لیے ایک سرخ چادر بچھائی گئی جسے آپ اوڑھتے تھے، اور حسن بصری ہی سے ایک دوسری روایت ہے جس میں ہے «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افرشوا لي قطیفتي في لحدي، فإن الأرض لم تسلط علی أجساد الأنبیائ» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
89. بَابُ: السَّاعَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ إِقْبَارِ الْمَوْتَى، فِيهِنَّ
باب: جن اوقات میں مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2015
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، قال: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، قال:" ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے (اور) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2015]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان میں نماز پڑھنے اور میت کے دفن کرنے سے منع فرمایا: ”جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتیٰ کہ کچھ اونچا ہو جائے، اور جب سورج نصف النہار پر ہو حتیٰ کہ ڈھل جائے، اور جب سورج غروب ہونے کے عین قریب ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 561 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2016
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا (آپ نے اس میں) اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا، اور ایک گھٹیا کفن میں کفنایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی رات میں دفنایا جائے، سوائے اس کے کہ وہ اس کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2016]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو (رات کو) فوت ہو گیا تھا اور اسے رات ہی کو ناقص اور غیر مناسب کفن میں دفن کر دیا گیا تھا، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی میت کو رات کے وقت دفن کرنے سے منع فرما دیا الا یہ کہ اشد مجبوری ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1896 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
90. بَابُ: دَفْنِ الْجَمَاعَةِ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ
باب: کئی لوگوں کو ایک قبر میں دفنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَنْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب (غزوہ) احد کا دن آیا، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو“، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2017]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن لوگوں کو سخت تکلیف پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کھودو اور دو دو، تین تین شہداء کو ایک ایک قبر میں دفن کرو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس کو آگے (قبلے کی طرف) رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان میں سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن (لوگ) شدید زخمی ہوئے (اور جاں بحق ہو گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی گئی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ایک (ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2018]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں لوگوں کو زخموں کی سخت تکلیف تھی، اس بات کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کھودو اور اچھی طرح کھودو اور دو دو، تین تین کو ایک ایک قبر میں دفن کرو، اور جو شخص زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو، اسے آگے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ سے اس پریشانی کا ذکر کیا گیا کہ اتنے لوگوں کے لیے قبریں کھودنا بہت مشکل امر ہے، انہیں کیسے دفنایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن