سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2242
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ , وَأَنَّ عُثْمَانَ , قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا؟ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)، عثمان (رضی اللہ عنہ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا (آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے) تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے «وجاء» ہے“ (یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2242]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عرفات میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ملے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں علیحدہ لے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو خواہش ہے کہ میں کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی کر دوں؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ رحمہ اللہ کو بھی بلا لیا اور ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نکاح (کے اخراجات) کی طاقت رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو نیچا اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کی چیز ہے۔ اور جو طاقت نہ رکھے، وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 10 (1905) مختصراً، النکاح2 (5065)، صحیح مسلم/الصوم1 (1400)، سنن ابی داود/النکاح1 (2046)، سنن الترمذی/الصوم1 (1081) تعلیقًا، سنن ابن ماجہ/الصوم1 (1845) مطولًا، تحفة الأشراف: 9417، مسند احمد 1/ 378، 447، سنن الدارمی/النکاح2 (2212)، ویأتي عند المؤلف 3209، 3210، 3213 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2243
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کر لے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2243]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نکاح (کے اخراجات) کی طاقت رکھے وہ شادی کرے اور جو اتنی وسعت نہ پائے، وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو کچل دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2244
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَنَا عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ وَجَمَاعَةٌ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ مَا رَأَيْتُهُ حَدَّثَ بِهِ الْقَوْمَ، إِلَّا مِنْ أَجْلِي لِأَنِّي كُنْتُ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ" , قَالَ عَلِيٌّ: وَسُئِلَ الْأَعْمَشِ عَنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ , قَالَ: نَعَمْ.
عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے“۔ علی بن ہاشم (راوی) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا: «عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ» اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2244]
حضرت عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور کچھ دوسرے لوگ بھی تھے، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ نے ان (ہمارے ساتھ والے) لوگوں کو یہ حدیث میری ہی وجہ سے بیان فرمائی کیونکہ میں ہی ان سب سے کم عمر نوجوان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوان لوگو! تم میں سے جو شخص نکاح کرنے کی طاقت رکھے وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو زیادہ نیچا اور شرم گاہ کو زیادہ محفوظ کرتا ہے۔“ راوی علی بن ہاشم کہتے ہیں کہ اعمش سے ”ابراہیم عن علقمہ عن عبداللہ“ کی روایت کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا یہ اس (عمارہ عن عبدالرحمن) جیسی ہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2241 (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’علا باہلی“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2245
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ , فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو مَعْشَرٍ: هَذَا اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَهُوَ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْهُ مَنْصُورٌ، وَمُغِيرَةُ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو مَعْشَرٍ الْمَدَنِيُّ: اسْمُهُ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَمَعَ ضَعْفِهِ أَيْضًا كَانَ قَدِ اخْتَلَطَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ، مِنْهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ" , وَمِنْهَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ وَلَكِنِ انْهَسُوا نَهْسًا".
علقمہ کہتے ہیں: میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کر لے۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم (نخعی) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور ان سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے۔ اور (ایک دوسرے) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح (نجیح بن عبدالرحمٰن سندی) ہے، وہ ضعیف ہیں، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے“ ۱؎۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2245]
حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جبکہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نوجوانوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم میں سے جو مالدار ہو، وہ شادی کرے کیونکہ یہ چیز اس کی نظر کو زیادہ نیچا اور شرم گاہ کو زیادہ محفوظ کر دے گی اور جو مالدار نہ ہو تو اس کی شہوت کا علاج روزہ ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جو ابو معشر راوی ہے، اس کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہے اور ابراہیم نخعی کا مصاحب (ساتھی) ہے۔ اس سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کیا ہے۔ ایک ابو معشر مدینی ہے، اس کا نام نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے۔ ضعیف ہونے کے ساتھ وہ اختلاط کا بھی شکار ہو گیا تھا۔ وہ منکر حدیثوں میں سے ایک وہ ہے جو اس نے محمد بن عمرو سے بیان کی، انہوں نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“ اور ایک وہ ہے جو اس نے ہشام بن عروہ سے روایت کی، انہوں نے اپنے باپ (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت کو چھری سے مت کاٹو، (بلکہ) اسے دانتوں سے نوچ کر کھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (لم يذكر المزي طرف الحديث في ترجمة أبي معشر زياد بن كليب عن إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود /تحفة الأشراف 6/ 363) حم1/58 ویأتی عند المؤلف 3208 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: أخرجه الترمذي (342) وابن ماجه (1011) (تحفة الأشراف 15124) (حافظ ابن حجر النکت الظراف میں لکھتے ہیں کہ خلیلی نے ارشاد میں ایک دوسرے طریقے سے اسے بسند ابو معشر عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ روایت کیا ہے، اس حدیث میں ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ہیں، جو ضعیف راوی ہیں، اسی لیے حافظ ابن حجر نے ان کے بارے میں کہا: ضعیف أسن واختلط یعنی ضعیف ہیں، عمر دراز ہوئے اور اختلاط کا شکار ہوئے، اسی وجہ سے امام نسائی نے باب میں موجود ابو معشر زیاد بن کلیب کی توثیق کے بعد اسی کنیت کے دوسرے راوی یعنی نجیح بن عبدالرحمٰن سندی کا تذکرہ ان کی منکر احادیث کے ساتھ دیا تاکہ دونوں میں تمیز ہو جائے، اور یہ امام نسائی کی کتاب کی خوبی ہے کہ وہ اس طرح کے افادات رقم فرماتے ہیں، لیکن مذکور حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، تفصیل کے ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۹۲) ۲؎: حدیث «لأستغفرن لك ما لم أنه عنك» اس کی تخریج ابوداؤد اور بیہقی نے سنن کبریٰ میں کی ہے، اور شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع (۶۲۵۶) میں داخل کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
44. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فِي الْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: اللہ کی راہ میں ایک دن کے روزہ رکھنے کا ثواب، اور اس سلسلہ کی روایت میں سہیل بن ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2246
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ (یعنی جہاد یا اس کے سفر) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2246]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی بدولت اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کے فاصلے تک دور کر دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجھاد 3 (1622)، سنن ابن ماجہ/الصوم 34 (1718)، (تحفة الأشراف: 18624) حم2/300، 357 (صحیح) (مزی نے تحفة الاشراف میں ابن حیویہ کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو مراسیل میں ذکر کیا ہے (18624) اس لیے کہ اس کے نسخہ (ہ) میں ’’عن أبي هريرة‘‘ ساقط ہے، اور ابن الاحمر اور ابن سیار نیز سنن صغریٰ سب میں ’’عن ابی ہریرة“ موجود ہے، اور مسند میں بھی ایسے ہی ہے) (ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ: 2564)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2247
أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2247]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اس کے اور آگ کے درمیان ستر سال کا فاصلہ فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 4289 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2248
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2248]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کے فاصلے تک دور فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 12659، مسند احمد 2/357 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2249
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ عَامًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2249]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کے فاصلے تک دور فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 4078، مسند احمد 3/45 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا بَعَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2250]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ عزوجل کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس ایک دن (کے روزے) کی وجہ سے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کے فاصلے تک دور فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 36 (2840)، صحیح مسلم/الصوم 31 (1153)، سنن الترمذی/الجہاد 3 (1623)، سنن ابن ماجہ/الصوم 34 (1717)، تحفة الأشراف: 4388، مسند احمد 3/26، 59، 83، سنن الدارمی/الجہاد 10 (2444)، و یأتي عند المؤلف بأرقام: 2251-2255) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2251
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2251]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے ستر سال کے فاصلے تک دور فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2250 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن