سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ: ذِكْرِ وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْمُسَافِرِ، وَالاِخْتِلاَفِ، عَلَى الأَوْزَاعِيِّ فِي خَبَرِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ فِيهِ
باب: مسافر کے روزہ نہ رکھنے کا بیان اور عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث میں اوزاعی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2272
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَاجِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوالمہاجر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوامیہ یعنی ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2272]
حضرت ابو امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مذکورہ بالا کی مانند حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2273
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ:" انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ". قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ابوقلابہ جرمی کا بیان ہے کہ ان سے ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے ان سے کہا: ”ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لو“ (کھا کر چلے جانا) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ، میں مسافر کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں: اللہ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کر دی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2273]
حضرت ابو امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو امیہ! ٹھہرو، کھانا آ رہا ہے۔“ میں نے عرض کیا: میرا تو روزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر آؤ، میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور نصف نماز معاف کر دی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10704) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
51. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2274
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَنْتَظِرِ الْغَدَاءَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”(تم جانا چاہتے ہو) کیا، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے“، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کر دی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2274]
حضرت ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں ایک سفر سے (واپسی پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ میں روزے سے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم کھانے تک نہیں ٹھہرو گے؟“ میں نے عرض کیا: میں تو روزے سے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر آؤ، میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ نَحْوَهُ.
ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر سے آئے، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2275]
حضرت ابو امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں سفر سے واپس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ مذکورہ بالا روایت کی مانند۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10709) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2276
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ التَّلِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ، وَالصَّوْمَ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
انس (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ (روزے کی چھوٹ دی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2276]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزہ معاف کر دیا ہے اور (اسی طرح) حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم43 (2408)، سنن الترمذی/الصوم21 (715)، سنن ابن ماجہ/الصوم12 (1667)، (تحفة الأشراف: 1732)، مسند احمد 4/347 و5/29، وانظر الأرقام التالیة، 2277، إلی 2280، 2284، 2317 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2277
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُشَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنَا، ثُمَّ أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلَابَةَ حَدِّثْهُ , فَقَالَ الشَّيْخُ: حَدَّثَنِي عَمِّي، أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، أَوْ قَالَ: يَطْعَمُ , فَقَالَ:" ادْنُ فَكُلْ"، أَوْ قَالَ:" ادْنُ فَاطْعَمْ" , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ".
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ۱؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں (شیخ قشیری کو) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے (ایوب سے) حدیث بیان کیجئے تو (قشیری) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے (راوی کو شک ہے «یا ٔکل» کہا یا «یطعم» کہا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ اور کھانا کھاؤ“ (راوی کو شک ہے «ادن فکل» کہا یا «ادن فاطعم» کہا) تو میں نے کہا: «مںَ صائم» ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2277]
حضرت ایوب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہمیں بتایا گیا کہ قشیر قبیلے کا ایک بزرگ اپنے صحابی چچا سے حدیث بیان کرتا ہے۔ (ہم گئے تو) ہم نے اس بزرگ کو اس کے اونٹوں میں پایا۔ (میرے ساتھ استاد محترم ابوقلابہ رحمہ اللہ بھی تھے) تو حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ نے اس (بزرگ) سے کہا کہ اسے وہ حدیث بیان کیجیے، تو اس بزرگ نے فرمایا کہ مجھے میرے چچا (حضرت انس بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ) نے بیان فرمایا کہ میں اپنے اونٹوں (کے مطالبے) کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اور کھانا کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: میرا روزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو نصف نماز اور روزہ معاف کر دیا ہے، اسی طرح حاملہ اور مرضعہ (بچے کو دودھ پلانے والی) کو بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم2276 (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)»
وضاحت: ۱؎: ان کا نام انس بن مالک قشیری ہے۔ ۲؎: حاملہ اور مرضعہ کو روزے کی چھوٹ دی ہے، نہ کہ آدھی نماز کی، جیسا کہ متبادر ہو رہا ہے، ترمذی کی عبارت واضح ہے ”مسافر کو روزہ اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ و مرضعہ کو روزے کی“۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2278
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِ الْحَدِيثِ , فَدَلَّنِي عَلَيْهِ فَلَقِيتُهُ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي قَرِيبٌ لِي , يُقَالُ لَهُ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ كَانَتْ لِي أُخِذَتْ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي إِلَى طَعَامِهِ , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ:" ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر مجھ سے کہا: کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی، تو میں جا کر ان سے ملا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا۔ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں، (سنو) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2278]
حضرت ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے بیان فرمائی، پھر فرمانے لگے: کیا تم اس حدیث کے راوی سے ملنا چاہتے ہو؟ اور مجھے ان کا پتا بتایا۔ میں جا کر انہیں ملا تو انہوں نے فرمایا: مجھ سے میرے ایک رشتے دار، جنہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے، نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے اونٹوں کے مطالبے کے لیے حاضر ہوا جو (غلط فہمی کی بنا پر) پکڑ لیے گئے تھے۔ میں نے آپ کو کھانا کھاتے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھانے کی دعوت دی۔ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر آؤ، میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور نصف نماز معاف کر دی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 2276، 2277 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2279
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى , قَالَ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ" , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
ایک صحابی کہتے ہیں: میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا: آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2279]
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کام کے سلسلے میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کا کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر آؤ، میں تمہیں روزے کے بارے میں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو نصف نماز اور روزہ معاف کر دیا ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی رخصت دی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2276و2277 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2280
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ نَحْوَهُ.
ابو العلاء بن شخیر بھی ایک شخص سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2280]
حضرت ابوالعلاء بن شخیر رحمہ اللہ نے بھی ایک شخص سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2276 (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2281
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ , قَالَ:" هَلُمَّ" , قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ , قَالَ:" الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ“ (کھانے میں شریک ہو جاؤ) میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے“۔ میں نے کہا: اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے؟ آپ نے فرمایا: روزے کی، اور آدھی نماز کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2281]
بلحریش (بنو الحریش) قبیلے کے ایک شخص نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: میں مسافر تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں اس وقت روزے سے تھا اور آپ کھانا کھا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم بھی آؤ۔“ میں نے عرض کیا: میرا تو روزہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر آؤ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو معافی دی ہے؟“ میں نے کہا: کس چیز کی؟ فرمایا: ”روزے اور نصف نماز کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 5353 (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی بن الشخیر‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)»
وضاحت: ۱؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح