🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2282
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطْعَمُ، فَقَالَ:" هَلُمَّ فَاطْعَمْ"، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُحَدِّثُكُمْ عَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے، اور آدھی نماز کی بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2282]
بلحریش (بنو الحریش) قبیلے کے ایک شخص نے اپنے والد محترم رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم سفر کیا کرتے تھے جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کھانا کھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ۔“ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں روزے کے بارے میں بیان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2283
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، وَأَنَا صَائِمٌ , فَقَالَ:" هَلُمَّ"، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ:" الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ (کھانا کھا لو) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے اور آدھی نماز کی“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2283]
حضرت ہانی بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد محترم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں مسافر تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے اور میرا روزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ۔“ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو کیا معاف کیا ہے؟“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مسافر کو کیا معاف کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ اور نصف نماز۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2281 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2284
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُوسَى هُوَ ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ غَيْلَانَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قِلَابَةَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا , فَقَالَ لِرَجُلٍ:" ادْنُ فَاطْعَمْ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ فِي السَّفَرِ فَادْنُ فَاطْعَمْ" , فَدَنَوْتُ فَطَعِمْتُ.
غیلان کہتے ہیں: میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا (کھانے کے وقت) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا: ”قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ“، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے“۔ تو اب آؤ کھاؤ، تو میں قریب ہو گیا، اور کھانے لگا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2284]
حضرت غیلان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ کے ساتھ ایک سفر میں گیا۔ انہوں نے کھانا میرے قریب کیا۔ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دفعہ) سفر میں نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا قریب کیا اور ایک آدمی سے فرمایا: ”آؤ! کھانا کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو نصف نماز اور روزہ سفر میں معاف کر دیا ہے، لہٰذا تم قریب آؤ اور کھاؤ۔“ (غیلان نے کہا:) (یہ حدیث سن کر) میں قریب ہوا اور میں نے کھانا کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2276 (صحیح) (سند میں ضعف ارسال کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ ابو قلابہ نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ: فَضْلِ الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ عَلَى الصِّيَامِ .
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا رکھنے سے بہتر ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2285
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَنَزَلْنَا فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَاتَّخَذْنَا ظِلَالًا فَسَقَطَ الصُّوَّامُ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَسَقَوْا الرِّكَابَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم (چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار (سخت گرمی کی تاب نہ لا کر) گر گر پڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2285]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، کسی نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کسی نے نہیں رکھا تھا، یہ سخت گرم دن تھے، ہم اترے اور سایہ حاصل کیا، روزہ دار تو لیٹ گئے لیکن روزہ نہ رکھنے والے اٹھے اور انہوں نے ہماری سواریوں کے جانوروں کو پانی پلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو روزہ نہ رکھنے والے ثواب لے گئے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد71 (2890)، صحیح مسلم/الصوم16 (1119)، (تحفة الأشراف: 1607) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ: ذِكْرِ قَوْلِهِ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ .
باب: حدیث نبوی ”سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے“ کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2286
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ:" يُقَالُ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ كَالْإِفْطَارِ فِي الْحَضَرِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2286]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ ”سفر میں روزہ رکھنا گھر میں رہ کر روزہ نہ رکھنے کے برابر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصوم 11 (1666) مرفوعا (ضعیف) (ابوسلمہ کا اپنے والد ”عبدالرحمن بن عوف‘‘ سے سماع نہیں ہے (لیکن حمید کا سماع ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے، اور ابن ماجہ کی روایت جو مرفوعاً ہے اس میں یہی انقطاع ہے، نیز اس میں ایک ضعیف راوی بھی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1666) أبو سلمة لم يسمع من أبيه كما قال يحيي بن معين (المراسيل لإبن أبى حاتم: ص 255 وسنده صحيح) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2287
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ الْخَيَّاطِ، وَأَبُو عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ:" الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2287]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنے والا گھر رہ کر روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1666) أبو سلمة لم يسمع من أبيه كما قال يحيي بن معين (المراسيل لإبن أبى حاتم: ص 255 وسنده صحيح) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2288
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2288]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”سفر میں روزہ رکھنے والا گھر رہ کر روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9719-ألف) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس طرح حضر میں افطار کرنا گناہ ہے اس طرح سفر میں روزہ رکھنا بھی باعث گناہ ہے، مگر یہ صحابی کا قول ہے جو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے (یعنی مسافر کو چھوٹ ہے چاہے رکھے، چاہے نہ رکھے اور قضاء کرے)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ: الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ .
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2289
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2289]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں (فتح مکہ کے لیے) نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہے حتیٰ کہ «قُدَيْد» مقام پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور صحابہ سمیت روزہ کھول لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6479)، مسند احمد 1/244، 341، 344، 350 (صحیح) (آنے والی احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: ”قدید“ مدینہ سے سات منزل کی دوری پر ”عسفان“ کے قریب ایک گاؤں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2290
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں روزہ رکھا، (اور چلے) یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2290]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے چلے تو روزے رکھتے رہے حتیٰ کہ قدید کے مقام پر آگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے بند کر دیے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ آگئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 6388 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2291
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَامَ فِي السَّفَرِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور (اسے) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2291]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ کے) سفر میں روزے رکھتے رہے، حتیٰ کہ جب مقامِ قدید پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمایا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ افطار کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2289 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں