🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2152
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2152]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2153
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَهُوَ مُنْكَرٌ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2153]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، یقیناً سحری کھانے میں برکت ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند حسن ہے لیکن یہ روایت منکر (غلط) ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ یہ غلطی محمد بن فضیل سے ہوئی ہوگی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15354) (صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے سند میں غلطی کا اشارہ دیا ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: «عطاء عن أبي هريرة» کی بجائے «أبو سلمة عن أبي هريرة» محمد بن فضیل کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: تَأْخِيرِ السَّحُورِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى زِرٍّ فِيهِ
باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان اور اس حدیث میں زر بن حبیش پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2154
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ:" أَيَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ".
زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: (تقریباً) دن ۱؎ مگر سورج ۲؎ نکلا نہیں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2154]
حضرت زر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کس وقت کھائی؟ انہوں نے فرمایا: دن شروع ہونے ہی کو تھا، بس سورج طلوع نہ ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1695)، (تحفة الأشراف: 3325)، مسند احمد 5/396، 399، 400، 405 (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ۲؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہو جاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2155
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، قَالَ:" تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا إِلَّا هُنَيْهَةٌ".
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہو گئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2155]
حضرت زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، جب ہم مسجد میں آئے تو دو رکعتیں پڑھیں، اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی اور سنتوں اور اقامت کے درمیان بالکل معمولی فاصلہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2156
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ:" تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا".
صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، (اتنے میں) نماز کھڑی کر دی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2156]
حضرت صلہ بن زفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی۔ پھر ہم مسجد کو چلے۔ ہم نے فجر کی دو سنتیں پڑھیں، اتنے میں نمازِ فجر کی اقامت ہوگئی تو ہم نے فرض نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2154 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: قَدْرِ مَا بَيْنَ السُّحُورِ وَبَيْنَ صَلاَةِ الصُّبْحِ
باب: سحری اور نماز فجر کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہئے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2157
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2157]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے اٹھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ درمیان میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: اتنا کہ آدمی پچاس آیتیں پڑھ سکے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 27 (575)، والصوم 19 (1921)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1097)، سنن الترمذی/الصوم 14 (703)، سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1694)، (تحفة الأشراف: 3696)، مسند احمد 5/182، 185، 186، 188، 192، سنن الدارمی/الصوم 8 (1737) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ هِشَامٍ وَسَعِيدٍ عَلَى قَتَادَةَ فِيهِ
باب: قتادہ سے روایت میں ہشام و سعید کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2158
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: زُعِمَ أَنَّ أَنَسًا الْقَائِلُ مَا كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے پوچھا (کہا جاتا کہ «قلت» کا قائل انس ہیں ۱؎): ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2158]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے اٹھے۔ میں نے کہا (خیال کیا جاتا ہے کہ کہنے والے حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں): درمیان میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں (حضرت زید رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اتنا کہ آدمی پچاس آیات پڑھ سکے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ جملہ معترضہ ہے جو قول اور مقولہ کے درمیان واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2159
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" تَسَحَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ثُمَّ قَامَا فَدَخَلَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا، وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الْإِنْسَانُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت نے سحری کھائی، پھر وہ دونوں اٹھے، اور جا کر نماز فجر پڑھنی شروع کر دی۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان دونوں کے (سحری سے) فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے میں کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2159]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے (اکٹھے) سحری کھائی، پھر وہ دونوں کھڑے ہوئے اور صبح کی نماز پڑھنے لگے۔ (قتادہ نے کہا:) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: اتنا کہ انسان پچاس آیات پڑھ سکے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 27 (576)، والتھجد 8 (1134)، (تحفة الأشراف: 1187)، مسند احمد 3/170، 234 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِهِمْ
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" فِينَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ؟ قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان دونوں میں سے ایک افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر، اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے، اور سحری میں جلدی، انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2160]
ابو عطیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک روزہ جلدی (آفتاب غروب ہوتے ہی) کھولتے ہیں اور سحری تاخیر سے (آخر وقت میں) کھاتے ہیں اور دوسرے صحابی (احتیاطاً) افطار دیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی کھا لیتے ہیں۔ وہ فرمانے لگیں: ان میں سے افطار اول وقت اور سحری آخر وقت کرنے والا کون ہے؟ میں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 9 (1099)، سنن ابی داود/الصوم 20 (2354)، سنن الترمذی/الصوم 13 (702)، (تحفة الأشراف: 17799)، مسند احمد 6/48، 173 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2161
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" فِينَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْفِطْرَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2161]
حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ہم میں دو حضرات ہیں، ان میں سے ایک افطاری اول وقت اور سحری آخر وقت کرتے ہیں اور دوسرے صاحب افطاری دیر سے اور سحری جلدی کر لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان میں سے افطاری اول وقت اور سحری آخر وقت میں کون کرتا ہے؟ میں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں