🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي خَبَرِ أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2142
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، (ایسا تین بار کیا) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2142]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اُمّی لوگ ہیں، ہم حساب کتاب نہیں جانتے، مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ تین دفعہ ہاتھوں سے اشارہ فرمایا، حتیٰ کہ انتیس ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 13 (1913)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، سنن ابی داود/الصوم 4 (2319)، (تحفة الأشراف: 7075)، مسند احمد 2/43، 52، 122، 129 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2143
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَحْسُبُ وَلَا نَكْتُبُ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا تَمَامَ الثَّلَاثِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے، اور تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2143]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اُمّی لوگ ہیں، ہم حساب کتاب نہیں جانتے۔ کبھی مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند فرما لیا (یعنی انتیس دن کا)۔ اور کبھی مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ یعنی پورے تیس دن کا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مہینہ کبھی ۲۹ دن کا ہوتا ہے، اور کبھی تیس دن کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2144
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا"، وَوَصَفَ شُعْبَةُ، عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ، عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہے۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2144]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ کبھی اتنا ہوتا ہے۔ شعبہ نے جبلہ بن سحیم کی نقل کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے۔ انہوں نے اس طرح سے بیان کیا کہ وہ دو دفعہ آپ نے دونوں ہاتھوں کی پوری انگلیاں کھولیں اور تیسری دفعہ ایک انگلی کم (بند) کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 11 (1908)، والطلاق 25 (5302)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 6668)، مسند احمد 2/44، 18 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2145]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 7340)، مسند احمد 2/77 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: الْحَثِّ عَلَى السَّحُورِ
باب: سحری کھانے کی ترغیب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2146
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , وَقَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2146]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، بلا شبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ عبیداللہ بن سعید نے اس روایت کو موقوف بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9218) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2147
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" تَسَحَّرُوا"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: لَا أَدْرِي كَيْفَ لَفْظُهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: سحری کھاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے؟ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2147]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سحری کھاؤ۔ (راوی حدیث) عبیداللہ نے کہا: میں نہیں جانتا اس کے (صحیح) الفاظ کیا ہیں؟ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، انظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2148
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2148]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، یقیناً اس میں برکت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 20 (1923)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1095)، سنن الترمذی/الصوم 17 (708)، سنن ابن ماجہ/الصوم 22 (1692)، (تحفة الأشراف: 1068)، مسند احمد 3/229، سنن الدارمی/الصوم 9 (1738) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ نَسَائِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2149]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14187)، مسند احمد 2/377، 477 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2150
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2150]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: سحری کھاؤ، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ حضرت ابن ابی لیلیٰ نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ موقوف روایت صحیح ہے، اور مرفوع اس سے زیادہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2151
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2151]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14202)، مسند احمد 2/377، 477 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں