🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2182
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ (تقریباً) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2182]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ (نفل) روزے نہ رکھتے تھے، (یوں سمجھیے کہ) پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 52 (1970)، صحیح مسلم/الصیام 34 (782)، (تحفة الأشراف: 17780)، مسند احمد 6/84، 128، 189، 233، 244، 249 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2183
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2183]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں (بہت زیادہ) روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16063) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2184
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2184]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ میں تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن مجید پڑھا ہو یا کسی رات (شروع سے آخر تک) مسلسل نماز پڑھتے رہے ہوں یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1642، 2350 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2185
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ حَرَّانِيٌّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا: (تو) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس تسلسل سے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ روزے (ہی) رکھتے رہیں گے، اور (کبھی آپ اس تسلسل سے) بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ بغیر روزے کے رہیں گے، اور آپ جب سے مدینہ آئے کبھی آپ نے پورے مہینے روزے نہیں رکھے سوائے اس کے کہ وہ رمضان ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2185]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (نفل) روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ رکھتے ہی رہیں گے اور چھوڑتے تو ہم کہتے: چھوڑے ہی رہیں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد رمضان المبارک کے علاوہ کبھی مسلسل ایک مہینہ روزے نہیں رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16223) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2186
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: لَا، مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، (پھر) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2186]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائیں۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے کے مکمل روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کسی مہینے کے تمام دنوں کا ناغہ کیا بلکہ کچھ نہ کچھ ضرور روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، والصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16217)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، سنن الترمذی/الشمائل 42 (4)، مسند احمد 6/171، 218، 204 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2187
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2187]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس تشریف لائیں۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ کسی معین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی معین مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے مکمل روزے چھوڑے، بلکہ کچھ نہ کچھ روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، (تحفة الأشراف: 16211)، مسند احمد 6/218 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں خالد بن معدان پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2188
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَيَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے، اور دو شنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2188]
حضرت جبیر بن نفیر سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (نفل) روزوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان (کے تقریباً) سبھی روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ قصداً رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16050)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 44 (745)، سنن ابن ماجہ/الصوم 42 (1739)، مسند احمد 6/80، 89، 106 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق الشطر الأول فقط
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2189
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ، وَيَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان میں روزے رکھتے، اور پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2189]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان المبارک کے مکمل روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ قصداً رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 44 (745)، سنن ابن ماجہ/الصوم 42 (1739)، (تحفة الأشراف: 16081)، ویأتي عند المؤلف: 2363 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ
باب: شک والے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2190
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صلہ بن زفر کہتے ہیں: ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، تو انہوں نے کہا: آؤ تم لوگ بھی کھاؤ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا، اور اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2190]
حضرت صلہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ان کے پاس بھنی ہوئی (سالم) بکری لائی گئی۔ انہوں نے (حاضرین سے) فرمایا: کھاؤ۔ لیکن کچھ لوگ ایک طرف ہو گئے اور کہنے لگے: ہمارا روزہ ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے شک والے دن کا روزہ رکھا اس نے حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 11 (1906) (تعلیقاً)، سنن ابی داود/الصوم 10 (2334)، سنن الترمذی/الصوم 3 (686)، سنن ابن ماجہ/الصوم 3 (1645)، (تحفة الأشراف: 10354)، سنن الدارمی/الصوم 1 (1724) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، ابو داود (2334) ترمذي (686) ابن ماجه (1645) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2191
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ مِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ، وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا وَلَبَنًا، فَقَالَ لِي: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: وَحَلَفَ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ، قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَحْلِفُ لَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ، قُلْتُ: هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ أَوْ ظُلْمَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ عِدَّةَ شَعْبَانَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا، وَلَا تَصِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ".
سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”روزہ رکھو (چاند) دیکھ کر، اور افطار کرو (چاند) دیکھ کر، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہو جائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2191]
حضرت سماک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عکرمہ رحمہ اللہ کے پاس ایسے دن گیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ شعبان کا دن ہے یا رمضان المبارک کا؟ آپ روٹی، سبزی اور دودھ تناول فرما رہے تھے۔ مجھے کہنے لگے: آؤ (کھانا کھاؤ)۔ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ تجھے ضرور روزہ چھوڑنا پڑے گا۔ میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“! دو دفعہ (میں نے ایسا کہا)، جب میں نے دیکھا کہ وہ «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ پڑھے بغیر قسم کھا رہے ہیں تو میں آگے بڑھا اور عرض کیا: لائیے! جو آپ کے پاس ہے (کھانا یا دلیل)۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر روزے رکھنے بند کرو، اگر بادل رکاوٹ بن جائے یا اندھیرا چھا جائے (اور چاند نظر نہ آئے) تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، اور رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو اور رمضان المبارک کو شعبان کے دن سے (روزہ رکھ کر) نہ ملاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2131 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں