🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِهِمْ
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2162
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ:" رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ، أَحَدُهُمَا يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، وَالْآخَرُ يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، (لیکن) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں؟ مسروق نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2162]
حضرت ابو عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت مسروق رحمہ اللہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے کوئی بھی نیکی میں کوتاہی نہیں کرتا مگر ان میں سے ایک افطاری اور نماز مغرب میں تاخیر کرتے ہیں اور دوسرے صاحب افطاری اور نماز مغرب میں جلدی کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان میں سے کون نماز مغرب اور افطاری میں جلدی کرتے ہیں؟ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2160 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2163
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا لَهَا" يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، فَقَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2163]
حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے کہا: اے ام المومنین! اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطاری اور نمازِ مغرب جلدی ادا کرتے ہیں اور دوسرے افطاری اور نمازِ مغرب میں تاخیر کرتے ہیں۔ فرمانے لگیں: ان میں سے کون افطاری اور نمازِ مغرب میں جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل یہی تھا۔ دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2160 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: فَضْلِ السُّحُورِ
باب: سحری کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2164
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، فَقَالَ:" إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللَّهُ إِيَّاهَا فَلَا تَدَعُوهُ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2164]
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ سحری تناول فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ سحری برکت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے، لہٰذا تم اسے نہ چھوڑو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15605)، مسند احمد 5/367، 370، 371 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: دَعْوَةِ السُّحُورِ
باب: سحری کی دعوت دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2165
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , وَقَالَ:" هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ".
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”آؤ صبح کے مبارک کھانے پر“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2165]
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان المبارک میں سحری کی دعوت دیتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ» ”آؤ اس مبارک کھانے کی طرف۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم16 (2344)، (تحفة الأشراف: 9883)، مسند احمد 4/126، 127 (صحیح) (سند میں یونس بن سیف مقبول راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: تَسْمِيَةِ السَّحُورِ غَدَاءً
باب: سحری کو صبح کا کھانا کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2166
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِغَدَاءِ السُّحُورِ، فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ".
مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کا کھانا (سحری کو) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2166]
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کا کھانا کھایا کرو کیونکہ یہ بابرکت کھانا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11560)، مسند احمد 4/132 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2167
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ، يَعْنِي السَّحُورَ".
(تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2167]
حضرت خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”اس بابرکت کھانے، یعنی سحری کے لیے آؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: فَصْلِ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: ہمارے (مسلمانوں) اور اہل کتاب کے روزہ میں فرق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2168
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السُّحُورِ".
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، (وہ ہے) سحری کھانا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2168]
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 9 (1096)، سنن ابی داود/الصوم 15 (2343)، سنن الترمذی/الصوم 17 (709)، (تحفة الأشراف: 10749)، مسند احمد 4/197، 202، سنن الدارمی/الصوم 9 (1739) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: السُّحُورِ بِالسَّوِيقِ وَالتَّمْرِ
باب: ستو اور کھجور سے سحری کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2169
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ:" يَا أَنَسُ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا"، فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ:" يَا أَنَسُ! انْظُرْ رَجُلًا يَأْكُلْ مَعِي"، فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ"، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ”اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ“، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ (سحری) کھائے“، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے (اور) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (بھی) روزہ رکھنا چاہتا ہوں“، (پھر) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور (فجر کی) دو رکعت (سنت) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2169]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ”اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ۔“ میں آپ کے پاس کچھ کھجوریں اور ایک پانی کا برتن لے کر آیا اور یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان (اذان اول) کہنے کے بعد کی بات ہے، پھر آپ فرمانے لگے: ”اے انس! کوئی آدمی دیکھو جو میرے ساتھ سحری کھائے۔“ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا لایا، وہ آئے اور کہنے لگے: میں نے کچھ ستو پی لیے ہیں اور میرا ارادہ روزہ رکھنے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ بھی روزہ رکھنے کا ہے۔“ تو انہوں نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نماز کے لیے نکل گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1348)، مسند احمد 3/197 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة مدلس وعنعن. وحديث البخاري (1134) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ}
باب: آیت کریمہ «كلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2170
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ،" أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ إِذَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَشَّى، لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا، وَلَا يَشْرَبَ لَيْلَتَهُ وَيَوْمَهُ مِنَ الْغَدِ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا إِلَى الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 , قَالَ: وَنَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو أَتَى أَهْلَهُ وَهُوَ صَائِمٌ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، وَلَكِنْ أَخْرُجُ أَلْتَمِسُ لَكَ عَشَاءً، فَخَرَجَتْ وَوَضَعَ رَأْسَهُ، فَنَامَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ، فَوَجَدَتْهُ نَائِمًا وَأَيْقَظَتْهُ فَلَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا، وَبَاتَ وَأَصْبَحَ صَائِمًا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «‏‏‏‏وكلوا واشربوا‏» سے لے کر «الخيط الأسود‏» ”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے“ تک نازل ہوئی، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، (ہوا یہ کہ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے، وہ روزے سے تھے، انہوں نے (گھر والوں سے) پوچھا: کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: ہمارے پاس تو کچھ (بھی) نہیں ہے، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں، چنانچہ وہ نکل گئی، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا، (تو) انہیں جگایا (لیکن) انہوں نے کچھ (بھی) نہیں کھایا، اور (اسی حال میں) رات گزار دی، اور روزے ہی کی حالت) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی، تو ان پر غشی طاری ہو گئی، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) انہیں کے سلسلہ میں اتاری۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2170]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (شروع شروع میں) مسلمانوں میں سے کوئی شخص جب رات کو کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تھا تو اس کے لیے کچھ بھی کھانا پینا جائز نہ ہوتا تھا، نہ اس رات اور نہ اگلے دن حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔ (یہی صورت حال رہی) حتیٰ کہ یہ آیت اتری: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”کھاؤ اور پیو حتیٰ کہ تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح (روشن) ہو جائے۔“ یہ آیت حضرت ابو قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ وہ مغرب کی نماز کے بعد گھر والوں کے پاس آئے، ان کا روزہ تھا۔ کہنے لگے: کوئی کھانے کی چیز ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: کھانے کی کوئی چیز بھی نہیں لیکن میں جا کر کھانا تلاش کرتی ہوں۔ وہ باہر چلی گئیں اور وہ لیٹ گئے، انہیں نیند آگئی۔ وہ واپس آئیں تو انہیں سوتے ہوئے پایا۔ انہیں جگایا لیکن وہ کچھ نہ کھا سکے، اسی طرح رات گزاری۔ اگلی صبح پھر روزہ تھا حتیٰ کہ دوپہر ہوئی تو وہ بے ہوش ہو گئے۔ اور یہ اس آیت کے اترنے سے پہلے کی بات ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے بارے میں اتاری۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1843)، مسند احمد 4/295، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 15 (1915)، سنن ابی داود/الصوم 1 (2314)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2972)، سنن الدارمی/الصوم 7 (1735) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2171
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 , قَالَ:" هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ".
عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود‏» کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خيط الأسود» (سیاہ دھاری) رات کی تاریکی ہے، (اور «خيط الأسود» سفید دھاری) دن کا اجالا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2171]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”حتیٰ کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے۔“ کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 16 (1916)، وتفسیر البقرة 28 (4510)، (تحفة الأشراف: 9869)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام 8 (1090)، سنن ابی داود/الصیام 17 (2349)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2974)، مسند احمد 4/377، سنن الدارمی/الصوم 7 (1736) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں