🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: وُجُوبِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ:" إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ يَعْنِي أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر (زکاۃ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2437]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف (مبلغ و حاکم بنا کر) بھیجا تو ان سے فرمایا: تو وہاں اہل کتاب (یہودیوں) کے پاس جا رہا ہے۔ جب تو ان کے پاس پہنچے تو ان کو اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول و پیغمبر ہیں۔ اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو انھیں بتانا کہ اللہ عزوجل نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ عزوجل نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر انہی کے محتاج لوگوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ اگر وہ تیری یہ بات تسلیم کر لیں تو (زکاۃ کی وصولی اور دیگر انتظامی معاملات میں) مظلوم کی بددعا سے بچنا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 1 (1395)، 41 (1458)، 63 (1496)، المظالم 10 (2448)، المغازی 60 (4347)، والتوحید 1 (7372)، صحیح مسلم/الإیمان 7 (19)، سنن ابی داود/الزکاة 4 (1584)، سنن الترمذی/الزکاة 6 (625)، البر 68 (2014)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 1 (1783)، (تحفة الأشراف: 6511)، مسند احمد 1/233، سنن الدارمی/الزکاة 1 (1655)، 9 (671)، ویأتی عند المؤلف فی باب 46 برقم2523 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس طرح کہ زکاۃ کی وصولی میں ظلم و زیادتی نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تقسیم میں، مثلاً کسی سے اس کا بہت اچھا مال لے لو یا کسی کو ضرورت سے زیادہ دے دو اور کسی کو کچھ نہ دو کہ وہ تم سے دکھی ہو کر تمہارے حق میں بد دعا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا، إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْيِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" بِالْإِسْلَامِ"، قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے (اسلام لاتے وقت) کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے یہاں آپ کے پاس آنے سے پہلے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد (یعنی دس) سے بھی زیادہ دفعہ قسم کھائی تھی کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ (لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے تو حاضر ہو گیا ہوں)۔ میں بے سمجھ آدمی ہوں، مجھے کچھ معلوم نہیں مگر جو اللہ عز وجل اور اس کا رسول مجھے سکھائیں گے۔ میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے واسطے سے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا دے کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام دے کر۔ میں نے عرض کیا: اسلام کی امتیازی باتیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو کہے: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے لیے مطیع کر دیا ہے اور میں ہر قسم کے شرک سے لا تعلق ہو گیا ہوں۔ اور تو نماز (باجماعت) پڑھے اور زکاۃ کی ادائیگی کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11388)، مسند احمد 5/4، 5، ویأتي عند المؤلف، بأرقام: 2567، 2569، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 2 (2536) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2439
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ".
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر آسمانوں اور زمین کو (ثواب) سے بھر دیتے ہیں۔ اور نماز نور ہے، اور زکاۃ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے، اور قرآن حجت (دلیل) ہے تیرے حق میں بھی، اور تیرے خلاف بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2439]
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمد للہ کہنا میزان (ترازو) کو بھر دیتا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہنا آسمان و زمین کو بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، زکاۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة5 (280)، (تحفة الأشراف: 2163)، مسند احمد 5/342، 343، سنن الدارمی/الطہارة2 (679)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة1 (223)، سنن الترمذی/الدعوات86 (3517) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2440
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمِنْ أَبِي سَعِيدٍ، يَقُولَانِ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا , فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَكَبَّ فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي، لَا نَدْرِي عَلَى مَاذَا حَلَفَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فِي وَجْهِهِ الْبُشْرَى، فَكَانَتْ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيُخْرِجُ الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ، إِلَّا فُتِّحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ , فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلْ بِسَلَامٍ".
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا۔ آپ نے تین بار فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی، پھر آپ نے فرمایا: جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے، روزے رمضان رکھے، اور زکاۃ ادا کرے، اور ساتوں کبائر ۱؎ سے بچے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس سے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2440]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے تین دفعہ فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک جھکا لیا، ہم میں سے ہر شخص بھی سر جھکا کر رونے لگا، اور ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز پر قسم کھائی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا تو چہرے میں خوشی کے آثار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی ہمارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پانچ فرض نمازیں پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے، زکاۃ ادا کرے اور سات کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے، اس کے لیے جنت کے سب دروازے کھول دیے جائیں گے اور اسے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4079، 13509)، مسند احمد 3/79 (ضعیف) (اس کے راوی صہیب عتواری لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ساتوں کبائر یہ ہیں: (۱) شراب پینا (۲) جادو کرنا (۳) ناحق خون بہانا (۴) سود کھانا (۵) یتیم کا مال کھانا (۶) جہاد سے بھاگنا (۷) پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2441
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ , يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ لَكَ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" , يَعْنِي: أَبَا بَكْرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں چیزوں میں سے کسی چیز کے جوڑے دے تو وہ جنت کے دروازے سے یہ کہتے ہوئے بلایا جائے گا کہ اللہ کے بندے! آ جا یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے، تو جو شخص اہل صلاۃ میں سے ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو اہل صدقہ (و زکاۃ) میں سے ہوں گے تو وہ صدقہ (زکاۃ) کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزے رکھنے والوں میں سے ہو گا وہ باب الریان (ریان کے دروازہ) سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جو کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بلا لیا جائے اسے مزید کسی اور دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں، لیکن اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2441]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے، اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ (دروازہ) تیرے لیے بہتر ہے۔ اور جنت کے بہت سے دروازے ہیں۔ جو شخص نماز کا عادی ہوگا، اسے نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو جہاد کا شائق تھا، اسے جہاد والے دروازے سے آواز دی جائے گی اور جو صدقے سے خصوصی رغبت رکھنے والا ہوگا، اسے صدقے والے دروازے سے دعوت دی جائے گی اور جو روزے کا رسیا ہوگا، اسے «بَابُ الرَّيَّانِ» باب الریان سے داخل ہونے کو کہا جائے گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کسی شخص کو کوئی ضرورت تو نہیں کہ اسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے مگر کیا کوئی ایسا شخص بھی ہوگا جسے ان سب دروازوں سے آوازیں دی جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے، اے ابوبکر! تم انہی میں سے ہوگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2240 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي حَبْسِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ نہ دینے والوں پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2442
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا , قَالَ:" هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" , فَقُلْتُ: مَا لِي لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا حَتَّى بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ، وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، أُعِيدَتْ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں، رب کعبہ کی قسم! میں نے (اپنے جی میں) کہا: کیا بات ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ آپ نے فرمایا: بہت مال والے، مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے یہاں تک کہ آپ اپنے سامنے، اپنے دائیں، اور اپنے بائیں دونوں ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص کوئی اونٹ یا بیل چھوڑ کر مرے گا جس کی اس نے زکاۃ نہ دی ہو گی تو وہ (اونٹ یا بیل) (دنیا میں) جیسا کچھ وہ تھا قیامت کے دن اس سے بڑا اور موٹا تازہ ہو کر اس کے سامنے آئے گا، اور اسے اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں سے مارے گا، جب آخری جانور روند اور مار چکے گا تو پھر ان کا پہلا لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2442]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کعبے کے سائے میں بیٹھے تھے۔ جب آپ نے مجھے آتے دیکھا تو فرمانے لگے: کعبے کے رب کی قسم! وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: کیا وجہ ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی وحی اتری ہے۔ میں نے عرض کیا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! وہ کون (بدنصیب) ہیں؟ آپ نے فرمایا: زیادہ مالدار لوگ، مگر جس نے ایسے ایسے اور ایسے کیا۔ یعنی آگے، اپنے دائیں اور بائیں خرچ کیا، پھر فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے! جو آدمی بھی مرتے وقت اونٹ اور گائیں چھوڑ جائے، جن کی زکاۃ وہ نہ دیتا ہو، اس کے جانور اس جسامت اور موٹاپے سے بڑھ کر آئیں گے جو (دنیا میں) تھی اور اسے اپنے پاؤں تلے روندیں گے اور اس کو اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گے۔ جب ان میں سے آخری جانور گزر جائے گا تو پہلے کو دوبارہ اس کے اوپر سے گزارا جائے گا، (اس کے ساتھ یہ سلسلہ جاری رہے گا حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلے کر دیے جائیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة43 (1460)، الأیمان والنذور3 (6638)، صحیح مسلم/الزکاة9 (990)، سنن الترمذی/الزکاة1 (617)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 2 (1785)، (تحفة الأشراف: 11981)، مسند احمد 5/152، 158، 169، سنن الدارمی/الزکاة 3 (1659)، ویأتي عند المؤلف فی باب11برقم: 2458 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2443
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ، إِلَّا جُعِلَ لَهُ طَوْقًا فِي عُنُقِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ"، ثُمَّ قَرَأَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے (یعنی زکاۃ نہ دے) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ (سانپ) اس کے ساتھ ہو گا، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے، یہ بہت برا ہے ان کے لیے۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہو گا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا (آل عمران: ۱۸)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2443]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرتا ہو تو (قیامت کے دن) وہ مال اس کے گلے میں گنجے سانپ کی صورت میں طوق بنا دیا جائے گا۔ وہ اس سے بھاگے گا، مگر وہ اس کے پیچھے دوڑے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اس کی تصدیق کے لیے یہ آیت پڑھی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 180] جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال میں بخل کرتے ہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ مال ان کے لیے بہتر ہے، بلکہ وہ ان کے لیے بدتر ہے۔ اور جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا، قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر آل عمران (3012)، سنن ابن ماجہ/الزکاة2 (1784)، مسند احمد 1/377 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2444
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْغُدَانِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ، لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا؟ قَالَ:" فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، إِذَا جَاءَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَغَذَّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ وَآشَرَهُ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا، وَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْثَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی تنگی اور خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے (لوگوں نے) عرض کیا: اللہ کے رسول! «نجدتها ورسلها» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: تنگی اور آسانی ۱؎ تو وہ اونٹ جیسے کچھ تھے قیامت کے دن اس سے زیادہ چست، فربہ اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے۔ اور یہ ایک کشادہ اور ہموار چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ روند چکے گا تو پھر پہلا اونٹ روندنے کے لیے لوٹایا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، اور یہ سلسلہ برابر اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے گا، اور وہ اپنا راستہ دیکھ نہ لے گا، جن کے پاس گائے بیل ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے یعنی ان کی زکاۃ نہ دے، ان کی تنگی اور ان کی کشادگی کے زمانہ میں، تو وہ گائے بیل قیامت کے دن پہلے سے زیادہ مستی و نشاط میں موٹے تازے اور تیز رفتار ہو کر آئیں گے، اور اسے ایک کشادہ میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والا اسے سینگوں سے مارے گا، اور ہر کھر والا اپنی کھروں سے اسے روندے گا، جب آخری جانور روند چکے گا، تو پھر پہلا پھر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے، اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور وہ ان کی تنگی اور آسانی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں اس سے زیادہ چست فربہ اور موٹی تازی ہو کر آئیں گی جتنی وہ (دنیا میں) تھیں، پھر وہ ایک کشادہ ہموار میدان میں منہ کے بل لٹا دیا جائے، تو ہر کھر والی اسے اپنے کھر سے روندیں گی، اور ہر سینگ والی اسے اپنی سینگ سے مارے گی، ان میں کوئی مڑی ہوئی اور ٹوٹی ہوئی سینگ کی نہ ہو گی، جب آخری بکری مار چکے گی تو پھر پہلی بکری لوٹا دی جائے گی، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2444]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی «نَجْدَة» اور ان کی «رِسْل» میں ان کا حق (یعنی زکاۃ) ادا نہ کرتا ہو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! «نَجْدَة» اور «رِسْل» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تنگی اور خوش حالی میں (ان کی زکاۃ ادا نہ کرتا ہو) تو قیامت کے دن وہ انتہائی موٹے، تازے اور پوری مستی کی حالت میں آئیں گے اور اس (مالک) کو ان کے سامنے ایک کھلے ہموار میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا تو وہ اپنے کھروں سے (پاؤں تلے) اسے مسلیں (روندیں) گے۔ جب آخری گزر جائے گا تو پہلے کو پھر لایا جائے گا اور یہ کام اس کے ساتھ قیامت کے پورے دن میں کیا جاتا رہے گا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان (جنت اور جہنم کا) فیصلہ کر دیا جائے، اور وہ اپنا (جنت یا جہنم والا) راستہ دیکھ لے۔ اور اسی طرح جس شخص کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگ حالی اور خوش حالی میں ان کی زکاۃ نہ دیتا ہو تو وہ بھی قیامت کے دن انتہائی موٹی تازی اور پوری مستی کی حالت میں آئیں گی اور اس (مالک) کو ان کے سامنے ایک کھلے ہموار میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والی اپنے سینگوں سے اس کو ٹکریں مارے گی اور ہر کھر والی اپنے کھروں کے ساتھ اس کو کچلے گی۔ جب ان میں سے آخری گزر جائے گی تو پہلی کو پھر لایا جائے گا اور یہ کام اس کے ساتھ قیامت کے پورے دن میں کیا جاتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے اور وہ اپنا (جنتی یا جہنمی) راستہ دیکھ لے گا۔ اسی طرح جس آدمی کے پاس بکریاں ہوں اور وہ تنگ حالی اور خوش حالی میں ان کی زکاۃ نہ دیتا ہو تو وہ قیامت کے دن انتہائی موٹی تازی اور پوری مستی کی حالت میں آئیں گی، پھر اس (مالک) کو ان کے سامنے ایک کھلے اور ہموار میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، تو ہر کھر والی اپنے کھروں کے ساتھ اس کو مسلے گی اور ہر سینگ والی اپنے سینگوں کے ساتھ اس کو ٹکریں مارے گی۔ ان میں سے کسی کا سینگ نہ مڑا ہوا ہوگا اور نہ ٹوٹا ہوا۔ جب ان میں سے آخری گزر جائے گی تو پہلی کو واپس لایا جائے گا اور اس (مالک) کے ساتھ یہ کام قیامت کے پورے دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان (جنت اور جہنم کا) فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا (جنت یا جہنم والا) راستہ دیکھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة32 (1658)، (تحفة الأشراف: 15453)، مسند احمد 2/383، 489، 490 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ نہ تنگی و پریشانی کے زمانے میں زکاۃ دے کہ دینے سے اونٹ کم ہو جائیں گے، اور محتاجی و تنگی مزید بڑھ جائے گی، اور نہ خوش حالی و فارغ البالی کے دنوں میں زکاۃ دے یہ سوچ کر کہ ایسے موٹے تازے جانور کی زکاۃ کون دے؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: مَانِعِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ روک لینے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2445
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ؟" , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور عربوں میں سے جنہیں کافر مرتد ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو سوائے اسلام کے حق ۱؎ کے مجھے سے محفوظ کر لیا۔ اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے ۲؎ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا (یعنی نماز تو پڑھے اور زکاۃ دینے سے منع کرے) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، اگر یہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے مجھ سے روکیں گے، تو میں ان سے ان کے روکنے پر لڑوں گا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! زیادہ دیر نہیں ہوئی مگر مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے سلسلے میں شرح صدر عطا کر دیا ہے، اور میں نے جان لیا کہ یہ (یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے) حق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2445]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور بہت سے عرب لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا (اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنے کا اعلان فرمایا) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے (جو زکاۃ نہیں دیتے) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کہہ دیں۔ جس شخص نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کہہ دیا، اس نے مجھ سے اپنی جان و مال بچا لیا الا یہ کہ اس پر کوئی حق بنتا ہو، اور اس کا (اندرونی) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کریں گے کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے (بالفرض) اونٹ کو باندھنے والی رسی «عِقَالًا» ایک رسی بھی نہ دیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے نہ دینے پر بھی ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (بعد میں) فرمایا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں بھی یہ بات آگئی کہ لڑائی کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اللہ تعالیٰ نے کھول دیا ہے، تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہی حق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة1 (1399)، 40 (1457)، المرتدین3 (6924)، الاعتصام2 (7284)، صحیح مسلم/الإیمان8 (20)، سنن ابی داود/الزکاة1 (1556)، سنن الترمذی/الإیمان1 (2607)، (تحفة الأشراف: 10666)، مسند احمد 1/19، 47، 2/423، ویأتی عند المؤلف فی الجھاد 1، (بأرقام: 3975، 3976، 3978، 3980)، وفی المحاربة1 (بأرقام: 3974- 3976، 3978)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 1 (3927) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سوائے اسلام کے حق کے کا مطلب یہ ہے کہ اگر قبول اسلام کے بعد کسی نے ایسا جرم کیا جو قابل حد ہے تو وہ حد اس پر ضرور نافذ ہو گی، مثلاً چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، زنا کیا تو غیر شادی شدہ کو سو کوڑوں کی سزا یا رجم کی سزا، کسی کو ناحق قتل کیا تو قصاص میں قتل کی، سزا دی جائے گی۔ ۲؎: اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے کا مطلب ہے اگر وہ قبول اسلام میں مخلص نہیں ہوں گے بلکہ منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کریں گے، یا قابل جرم کام کا ارتکاب کریں گے لیکن اسلامی عدالت اور افسران مجاز کے علم میں نہیں آ سکا، تو ان کا حساب اللہ کے سپرد ہو گا یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ فرمائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: عُقُوبَةِ مَانِعِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ روک لینے والے کی سزا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2446
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، لَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ أَبَى فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا شَيْءٌ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: چرائے جانے والے ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون ۱؎ ہے، اونٹوں کو (زکاۃ سے بچنے کے لیے) ان کے حساب (ریوڑ) سے جدا نہ کیا جائے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا، اور جو شخص زکاۃ دینے سے انکار کرے گا تو ہم زکاۃ بھی لیں گے اور بطور سزا اس کے آدھے اونٹ بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے۔ اس میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لیے کوئی چیز جائز نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2446]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: صحرا میں چرنے والے اونٹوں میں سے ہر چالیس اونٹوں میں ایک «بِنْتَ لَبُونٍ» دو سالہ اونٹنی ہے۔ (دورانِ وصولی) اونٹوں کے حساب و مقدار سے انہیں الگ نہ کیا جائے گا۔ جو شخص (خوشی سے ثواب کی خاطر) زکاۃ دے گا، اس کو اس کا ثواب ملے گا اور جو دینے سے انکار کرے گا ہم زکاۃ بھی لیں گے اور (اس کے ساتھ ساتھ) اس کے نصف اونٹ بھی لیں گے۔ (کیونکہ) یہ زکاۃ ہمارے رب کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لیے کچھ بھی زکاۃ لینا (اپنی ذات کے لیے) جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة4 (1575)، (تحفة الأشراف: 11384)، مسند احمد 5/2، 4، سنن الدارمی/الزکاة36 (1719)، ویأتی عند المؤلف فی باب7 (برقم2451) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اونٹ کا وہ بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پورے کر چکا ہو، اور تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں