🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: وُجُوبِ الْجِهَادِ
باب: جہاد کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3097
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ، وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں میں ان سے لڑوں تو جس نے اسے کہہ لیا (قبول کر لیا) تو اس نے مجھ سے اپنی جان و مال محفوظ کر لیا۔ اب ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جا سکے گا جب اس کا حق (وقت و نوبت) آ جائے ۱؎۔ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3097]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے لڑنے کو کہا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پڑھ لیں۔ ہاں! اس کا حقیقی حساب اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 102 (2946)، (تحفة الأشراف: 13152)، و یأتي عند المؤلف: 3097 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً حد و قصاص و ضمان میں تو اس پر حد جاری کی جائے گی، قصاص لیا جائے گا اور اس سے مال دلایا جائے گا۔ ۲؎: کہ وہ ایمان خلوص دل سے لایا تھا یا صرف دکھاوے کے لیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3098
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ، وَأَيْدِيكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ".
انس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں، اپنے ہاتھوں، اور اپنی زبانوں کے ذریعہ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3098]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشرکین کے ساتھ اپنے مالوں، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد18 (2504)، (تحفة الأشراف: مسند احمد (3/124، 153، 251)، سنن الدارمی/الجہاد38 (2475)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3194 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مال اور ہاتھ سے جہاد کا مطلب بالکل واضح ہے، زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے جہاد کے فضائل بیان کئے جائیں، اور لوگوں کو اس پر ابھارنے کے ساتھ انہیں اس کی رغبت دلائی جائے۔ اور کفار کو اسلام کی زبان سے دعوت دی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجِهَادِ
باب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3099
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3099]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ کبھی جہاد کو نہیں گیا، نہ کبھی خواہش کی، تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة (910)، سنن ابی داود/الجہاد 18 (2502)، (تحفة الأشراف: 12567)، مسند احمد (2/374) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دل میں سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں مجاہد بننے کی تمنا کرے، اور ارادہ کا مطلب یہ ہے کہ جہاد سے متعلق ساز و سامان کے حصول کی کوشش اور اس کے لیے تیاری کرے۔ ۲؎: گویا وہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کے مشابہ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ السَّرِيَّة
باب: (غازی کا) سریہ (فوجی دستہ) سے پیچھے رہ جانے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3100
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُفَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَفنِّي، أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر بہت سے مسلمانوں کو مجھ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا اور میں ایسی چیز نہ پاتا جس پر انہیں سوار کر کے لے جاتا تو کسی ایسے فوجی دستے سے جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا ہو پیچھے نہ رہتا، (لیکن چونکہ مجبوری ہے اس لیے ایسے مجبور کے لیے فوجی دستے کے ساتھ نہ جانے کی رخصت ہے) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3100]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ بہت سے مومن مجھ سے پیچھے رہنا گوارا نہیں کریں گے، اور مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں ان سب کو سواریاں (اور سامان جنگ) مہیا کر سکوں، تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے جاتا۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کر دیا جاؤں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 7 (2797)، 119 (2972)، التمنی 1 (7226)، (تحفة الأشراف: 3186)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 1 (2753)، مسند احمد (2/231، 245، 384، 424، 473، 502) ویأتي عند المؤلف برقم 3153 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: فَضْلِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ
باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3101
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا، فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ:" لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُرَضُّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ , غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق هَذَا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق يَرْوِي عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ لَيْسَ بِثِقَةٍ.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں۔ (النساء: ۹۵) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ سے لکھوا رہے تھے کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے (وہ ایک نابینا صحابی تھے) انہوں نے (حسرت بھرے انداز میں) کہا: اگر میں جہاد کر سکتا تو ضرور کرتا (مگر میں اپنی آنکھوں سے مجبور ہوں) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ٰ نے (کلام پاک کا یہ ٹکڑا) «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔ ضرر والے یعنی مجبور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں اور (اس ٹکڑے کے نزول کے وقت کی صورت و کیفیت یہ تھی) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر ٹکی ہوئی تھی۔ اس آیت کے نزول کا بوجھ مجھ پر (بھی) پڑا اور اتنا پڑا کہ مجھے خیال ہوا کہ میری ران ٹوٹ ہی جائے گی، پھر یہ کیفیت موقوف ہو گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس روایت میں عبدالرحمٰن بن اسحاق ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جو نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں ثقہ نہیں ہیں، اور عبدالرحمٰن بن اسحاق سے روایت کی ہے، علی بن مسہر، ابومعاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں بواسطہ نعمان بن سعد جو ثقہ نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3101]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو میں بھی آکر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ انہوں نے ہمیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] گھروں میں بیٹھ رہنے والے مومن اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت مجھے لکھوا رہے تھے۔ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کرنے کی طاقت رکھتا تو میں ضرور جہاد کرتا۔ اللہ عزوجل نے یہ الفاظ اتار دیے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] بشرطیکہ وہ معذور نہ ہوں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک میری ران پر تھی (وحی کی حالت کی وجہ سے) مجھ پر اس قدر بوجھ پڑا کہ مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ میری ران ٹوٹ جائے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حالت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ پڑھے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ ۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ یہ عبدالرحمن بن اسحاق (سند میں مذکور امام زہری رحمہ اللہ کا شاگرد) معتبر ہے، اس میں کوئی خرابی نہیں اور وہ عبدالرحمن بن اسحاق جس سے علی بن مسہر، ابو معاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں اور وہ خود نعمان بن سعد سے بیان کرتا ہے، ثقہ اور معتبر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 31 (2832)، وتفسیرسورة النساء 18 (4592)، سنن ابی داود/الجہاد 20 (2507)، سنن الترمذی/تفسیرسورة النساء (3033)، مسند احمد (5/184، 191) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3102
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا , أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمْلَى عَلَيْهِ:" لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
زید بن ثابت رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بول کر لکھایا «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» (النساء: ۹۵) کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کی استطاعت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ ایک اندھے شخص تھے۔ تو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کا یہ حصہ «غير أولي الضرر» نازل فرمایا، (اس آیت کے اترتے وقت) آپ کی ران میری ران پر چڑھی ہوئی تھی اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کے سبب) ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری ران چور چور ہو جائے گی، پھر وحی موقوف ہو گئی (تو وحی کا دباؤ و بوجھ بھی ختم ہو گیا)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3102]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مروان کو مسجد میں بیٹھے دیکھا، میں آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہمیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت لکھوائی: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] جہاد کو نہ جانے والے مومن اور جہاد کرنے والے مومن برابر نہیں ہو سکتے۔ آپ مجھے یہ آیت لکھوا رہے تھے کہ اس دوران حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد کرتا۔ وہ نابینا شخص تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتاری جبکہ آپ کی ران مبارک میری ران پر تھی (مجھ پر اس قدر بوجھ پڑا کہ) قریب تھا میری ران ٹوٹ جاتی، پھر آپ سے کیفیتِ وحی دور ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ اتارے تھے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] بشرطیکہ وہ (جہاد سے پیچھے بیٹھ رہنے والے) معذور نہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3103
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ:" ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ، فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، خَلْفَهُ، فَقَالَ: هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی (کچھ) لاؤ۔ (جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا) چنانچہ (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے) لکھا: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ (وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ (میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3103]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کندھے کی ہڈی یا کوئی تختی لاؤ۔ پھر آپ نے لکھوایا: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] (جہاد سے پیچھے) بیٹھ رہنے والے مومن اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ حضرت عمرو بن کلثوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے تھے، کہنے لگے: (اے اللہ کے نبی!) کیا مجھے رخصت ہے؟ پھر یہ الفاظ اترے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] جو معذور نہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجہاد 1 (1670)، (تحفة الأشراف: 1859)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 31 (2831)، وتفسیرسورة النساء 18 (4593)، وفضائل القرآن 4 (4990)، صحیح مسلم/الإمارة 40 (1898)، مسند احمد (4/283، 290، 330)، سنن الدارمی/المناسک والجہاد 28 (2464) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3104
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 , جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى؟ قَالَ: فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «‏لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اتری تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو اندھے تھے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے متعلق کیا حکم ہے؟ (میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، (جہاد بھی نہیں کر سکتا) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت: «غير أولي الضرر» نازل ہوئی (یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3104]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] (جہاد سے پیچھے) بیٹھ رہنے والے مومن (اور مجاہدین) برابر نہیں ہو سکتے اتری تو حضرت ابن ام کلثوم رضی اللہ عنہ، جو کہ ایک نابینا شخص تھے، حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بارے میں کیا حکم ہے؟ جبکہ میں تو نابینا ہوں (جہاد نہیں کر سکتا)، وہ پوچھتے رہے حتیٰ کہ یہ الفاظ ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] بشرطیکہ وہ معذور نہ ہوں اترے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1909) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ لِمَنْ لَهُ وَالِدَانِ
باب: ماں باپ کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3105
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ:" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3105]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ آپ سے جہاد کی اجازت طلب کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو ان کی خدمت کر، یہی جہاد ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 138 (3004)، الأدب 3 (5972)، صحیح مسلم/البر 1 (2549)، سنن ابی داود/الجہاد 33 (2529)، سنن الترمذی/الجہاد 2 (1671)، (تحفة الأشراف: 8634)، مسند احمد (2/165، 172، 188، 197، 221) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان دونوں کی خدمت کر کے ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو تمہارے لیے یہی جہاد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ لِمَنْ لَهُ وَالِدَةٌ
باب: ماں کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا".
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3106]
حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (میرے والد محترم) حضرت جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ جنگ کو جانے کا ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری والدہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ہی رہ (اور خدمت کر)۔ جنت اس کے پاؤں تلے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجہاد 12 (2781)، (تحفة الأشراف: 11375)، مسند احمد (3/429) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں