سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: فَضْلِ مَنْ عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى قَدَمِهِ
باب: اللہ کے راستے میں پیدل چل کر کام کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانَ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالشُّحَّ جَمِيعًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ عزوجل اکٹھا نہ کرے گا، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت (کنجوسی) کو اللہ تعالیٰ ایک ساتھ جمع کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3117]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ اپنے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان کے پیٹ میں جمع نہیں فرمائے گا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کسی مسلمان آدمی کے دل میں ایمان اور کنجوسی کو جمع نہیں فرمائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3112 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
9. بَابُ: ثَوَابِ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کے راستے میں جس کے قدم گرد آلود ہو جائیں اس کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3118
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ".
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ (راستے میں) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا: خوش ہو جاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں (کیونکہ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہو جائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3118]
حضرت یزید بن ابی مریم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے لیے پیدل جا رہا تھا کہ مجھے حضرت عبایہ بن رافع رحمہ اللہ آ ملے، وہ کہنے لگے: خوش ہو جاؤ کیونکہ تیرے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں اور میں نے حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے قدم اللہ تعالیٰ کے راستے میں غبار آلود ہو جائیں، وہ شخص آگ پر حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 18 (907)، الجہاد 16 (2811)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 7 (1632)، (تحفة الأشراف: 9692)، مسند احمد (3/479) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا، اللہ کرے ایسا ہی ہو، انہوں نے جمعہ کے لیے نکلنے کو بھی فی سبیل اللہ میں شامل فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
10. بَابُ: ثَوَابِ عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے میں جاگنے والی آنکھ کا ثواب۔
حدیث نمبر: 3119
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ شُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ التُّجِيبِيَّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" حُرِّمَتْ عَيْنٌ عَلَى النَّارِ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ابوریحانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3119]
حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ آنکھ آگ پر حرام کر دی گئی ہے جو اللہ کے راستے (جہاد) میں بیدار رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12040)، مسند احمد (4/134)، سنن الدارمی/الجہاد 11 (2445) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسی آنکھ والا جہنم میں نہ جائے گا بلکہ جنت اس کا ٹھکانہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
11. بَابُ: فَضْلِ غَدْوَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صبح سویرے نکلنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3120
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْغَدْوَةُ وَالرَّوْحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَفْضَلُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام (کسی وقت بھی نکلنا) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3120]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک دن صبح یا شام کے وقت جانا دنیا اور اس کی ہر چیز سے افضل ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 5 (2794)، 73 (2892)، والرقاق 2 (6415)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1881)، (تحفة الأشراف: 4682)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1648)، 26 (1664)، مسند احمد (3/433 و5/335، 337، 339)، سنن الدارمی/الجہاد 9 (2443) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
12. بَابُ: فَضْلِ الرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: شام کے وقت جہاد میں جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3121
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ".
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں صبح کو نکلنا ہو، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3121]
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن صبح یا شام کے وقت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جانا (دنیا کی) ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة30 (1883)، (تحفة الأشراف: 3466)، مسند احمد (5/422) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3122
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، (ایک) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مکاتب ۱؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3122]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ پر ضروری ہے: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، وہ نکاح کرنے والا جو گناہ سے بچنا چاہتا ہے اور وہ غلام جس نے اپنے مالک سے آزادی کا معاہدہ کر رکھا ہے اور اس کی نیت معاہدہ پورا کرنے کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 20 (1655)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2518)، (تحفة الأشراف: 13039)، ویأتی عند المؤلف فی النکاح5 (برقم3220) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
13. بَابُ: الْغُزَاةِ وَفْدُ اللَّهِ تَعَالَى
باب: غازی اللہ کے وفد (اس کے مقرب) ہیں۔
حدیث نمبر: 3123
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد میں تین (طرح کے لوگ شامل) ہیں (ایک) مجاہد (دوسرا) حاجی، (تیسرا) عمرہ کرنے والا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3123]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص اللہ تعالیٰ کے خصوصی مہمان ہیں: جنگ کو جانے والا، حج کو جانے والا اور عمرے کو جانے والا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وانظر حدیث رقم: 2626 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ تینوں اللہ کے مقرب ہیں اور اس کے ایلچی کا درجہ رکھتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
14. بَابُ: مَا تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ
باب: اللہ اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے کس بات کی ضمانت لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 3124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے (شہید کا درجہ دے کر) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3124]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے جو اس کے راستے میں جہاد کرنے جاتا ہے اور اس کے جانے کا واحد مقصد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد اور اس کے دین کی تصدیق و تائید کرنا ہے، اس بات کا ضامن ہے کہ (اگر وہ شہید ہو گیا تو) اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا یا (اگر وہ زندہ رہا تو) اسے اس کے گھر میں، جہاں سے وہ گیا تھا، واپس پہنچائے گا، نیز اسے اجر اور غنیمت بھی حاصل ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 26 (36)، الجہاد 2 (2787)، فرض الخمس 8 (3123)، التوحید 28 (6457)، 30 (7463)، (تحفة الأشراف: 13833)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 1 (2753)، موطا امام مالک/الجہاد 1 (2)، مسند احمد (2/231، 384، 399، 494)، سنن الدارمی/الجہاد 2 (2436) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَاب، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي، أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، أَوْ وَفَاةٍ، أَوْ أَرُدَّهُ، إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی فطری موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو، اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3125]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو جہاد کے لیے نکلتا ہے، اس بات کی ضمانت لی ہے کہ اسے میں ہر حال میں جنت میں داخل کروں گا، چاہے وہ جنگ میں قتل ہو یا بستر پر فوت ہو یا میں اسے اس گھر میں واپس لاؤں گا جہاں سے وہ نکلا تھا، قطع نظر اس اجر یا غنیمت کے جو وہ حاصل کرے، بشرطیکہ جہاد پر اسے نکالنے والی چیز صرف مجھ پر ایمان اور میری راہ میں جہاد کرنے کا جذبہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14211)، مسند احمد (2/494، ویأتي عند المؤلف 5025 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3126
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ، وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ، بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يُرْجِعَهُ سَالِمًا بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال (اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے) دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا (موت نہیں دے گا تو) صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے حاصل ہوا ہے اسے واپس اس کے گھر بھیج دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3126]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو مسلسل قیام و صیام میں مشغول رہے۔ ویسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے (اور کون دنیوی اغراض کے لیے)۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے ضامن ہے کہ اسے فوت کرے گا تو جنت میں داخل کرے گا یا اسے صحیح سالم اجر و غنیمت سمیت اس کے گھر واپس لوٹائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 2 (2787)، (تحفة الأشراف: 13153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري