سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَيْهِ دَيْنٌ
باب: مقروض شخص کا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي سَيِّئَاتِي، قَالَ:" نَعَمْ"، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ:" مَا قُلْتَ؟" قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي سَيِّئَاتِي؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں، اور جم کر لڑوں، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا: ”سائل اب کہاں ہے“؟ وہ آدمی بولا: ہاں (جی) میں حاضر ہوں، (یا رسول اللہ!) آپ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ اس نے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (بخش دے گا) سوائے قرض کے، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3157]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ کہنے لگا: آپ فرمائیں، اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ثابت قدمی سے لڑتا ہوا مارا جاؤں، جب کہ میری نیت بھی ثواب ہی کی ہو، رخ میدان جنگ کی طرف ہو، پیٹھ نہ ہو، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سب گناہ معاف فرما دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر فرمایا: ”وہ شخص کدھر ہے جس نے ابھی سوال کیا تھا؟“ اس آدمی نے کہا: میں یہ کھڑا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیا کہا تھا؟“ اس نے کہا: اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ثابت قدمی سے لڑتا ہوا مارا جاؤں، جب کہ میری نیت بھی ثواب کی ہو، میرا رخ دشمن کی طرف ہو نہ کہ پیٹھ، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ معاف فرما دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن قرض (کسی کا واجب الادا حق معاف نہ ہوگا)۔ جبریل علیہ السلام نے یہ بات مجھے ابھی چپکے سے بتائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13056) مسند احمد (2/308، 330) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قرض معاف نہیں کرے گا کیونکہ یہ بندے کا حق ہے، اس کے ادا کرنے یا بندہ کے معاف کرنے سے ہی اس سے چھٹکارا ملے گا، گویا قرض دار ہونا یہ باعث گناہ نہیں ہے بلکہ طاقت رکھتے ہوئے قرض ادا نہ کرنا یہ باعث گناہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3158
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ، نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ قُلْتَ" فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دے کر اسے بلایا۔ (راوی کو شبہ ہو گیا بلایا) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا۔ تو اسے بلایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) کہا: ”تم نے کیسے کہا تھا“؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3158]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ثابت قدمی کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہو جاؤں، میری نیت بھی ثواب کی ہو، میدانِ جنگ سے منہ بھی نہ موڑوں تو کیا اللہ تعالیٰ میری تمام غلطیاں معاف فرما دے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ جب وہ شخص واپس چلا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی یا آپ نے کسی کو حکم دیا اور اسے آواز دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیسے کہا تھا؟“ اس نے اپنی پوری بات دہرا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے مگر قرض (یا کسی کا واجب الادا حق) معاف نہیں ہو گا، جبریل علیہ السلام نے مجھے ایسے ہی کہا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 32 (1885)، سنن الترمذی/الجہاد 32 (1712)، ما/الجہاد 14 (31)، مسند احمد 5/297، 304، 308، سنن الدارمی/الجہاد21 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3159
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ: أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ، أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ , إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ، مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے لوگوں کو (ایک دن) خطاب فرمایا: ”اور انہیں بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر اعمال میں سے ہیں“، (یہ سن کر) ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیئے گئے، اور تم نے لڑائی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ثواب کی نیت سے لڑی ہے پیٹھ دکھا کر بھاگے نہیں ہو تو قرض (حقوق العباد) کے سوا سب کچھ معاف ہو جائے گا۔ کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3159]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان سب کاموں سے افضل کام ہیں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میری غلطیاں معاف فرما دے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، بشرطیکہ تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس حال میں مارا جائے کہ تو صبر کا مظاہرہ کرے اور تیری نیت ثواب کی ہو۔ تو دشمن کی طرف بڑھ رہا ہو، پیٹھ پھیر کر بھاگ نہ رہا ہو، مگر قرض (کسی کا واجب الادا حق) معاف نہ ہو گا۔ جبریل علیہ السلام نے مجھے یہ بات کہی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3160
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، حَتَّى أُقْتَلَ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر (کھڑے خطاب فرما رہے) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: ”یہ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو“ (تو قرض معاف نہیں ہو گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3160]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ منبر پر (خطبہ ارشاد فرما رہے) تھے، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیے اگر میں اپنی تلوار کے ساتھ اللہ کے راستے میں ثابت قدمی کے ساتھ لڑائی لڑوں جب کہ میری نیت بھی ثواب حاصل کرنے کی ہو، منہ دشمن کی طرف ہو نہ کہ پیٹھ، حتیٰ کہ میں مارا جاؤں، تو کیا اللہ تعالیٰ میری غلطیاں معاف فرما دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ جب وہ جانے کے لیے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ غلطیاں تو معاف ہو جائیں گی لیکن تیرے ذمے واجب الادا حقوق ہوئے تو وہ معاف نہیں ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 32 (1885)، (تحفة الأشراف: 12104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
33. بَابُ: مَا يُتَمَنَّى فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں شہید ہونے والے کی تمنا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3161
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا، إِلَّا الْقَتِيلُ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو (اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو۔ (صرف شہید ہے) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3161]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر رہنے والا جو بھی شخص فوت ہو اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں خیر ہو، وہ یہ پسند نہیں کرے گا کہ تمہارے پاس واپس آ جائے، خواہ اسے ساری دنیا ہی مل جائے، مگر شہید خواہش کرے گا کہ واپس (دنیا میں) آئے اور دوبارہ شہید ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5108)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/في الإمارة 29 (1877) مسند احمد (5/318، 322) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ اسے اپنی شہادت کی وجہ سے جو عزت و مرتبہ اور بلند مقام حاصل ہوا ہے وہ دوبارہ کی شہادت سے اور بھی بڑھ جائے اور بلند ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
34. بَابُ: مَا يَتَمَنَّى أَهْلُ الْجَنَّةِ
باب: اہل جنت کی تمنا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3162
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَقُولُ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ اس سے کہے گا: آدم کے بیٹے! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو۔ وہ کہے گا: میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ (میں جاؤں) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3162]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والوں میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تو نے اپنے جنتی گھر کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: یا اللہ! بہترین گھر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مانگ جو تمنا ہے۔ وہ کہے گا: میں یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ میں تیرے راستے میں دس دفعہ قتل کیا جاؤں۔ اور یہ اس بنا پر کہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ لے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صفات المنافقین 12 (2807)، (تحفة الأشراف: 336)، مسند احمد (3/131، 2030، 207، 239، 253) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
35. بَابُ: مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنَ الأَلَمِ
باب: شہید کو پہنچنے والی تکلیف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3163
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ مَسَّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمُ الْقَرْصَةَ يُقْرَصُهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے)“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3163]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید شہادت کے وقت تکلیف محسوس نہیں کرتا مگر اتنی جو تم میں سے کوئی شخص کسی کے چٹکی کاٹنے سے محسوس کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1668)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 16 (2802)، (تحفة الأشراف: 12861)، مسند احمد (2/297)، سنن الدارمی/الجہاد 17 (2452) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (1668) ابن ماجه (2802) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
36. بَابُ: مَسْأَلَةِ الشَّهَادَةِ
باب: (اللہ کے راستے میں) شہادت مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3164
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ".
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3164]
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگے گا، اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے تک پہنچائے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة46 (1909)، سنن ابی داود/الصلاة 361 (1520)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1653)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2797)، (تحفة الأشراف: 4655)، سنن الدارمی/الجہاد 16 (2451) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ اسے بھی جنت میں انہیں کی طرح مقام و مرتبہ اور گھر عطا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3165
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ مَنْ قُبِضَ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ فَهُوَ شَهِيدٌ: الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا، اللہ کے راستے (جہاد) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے، عورت (شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3165]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ایسی ہیں کہ جو شخص بھی ان میں فوت ہو وہ شہید ہو گا: جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں غرق ہو وہ شہید ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں پیٹ کی تکلیف سے مر جائے وہ شہید ہے، اور جو عورت اللہ تعالیٰ کے راستے میں زچگی سے مر جائے وہ بھی شہید ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9931) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3166
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا، وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ، كَمَا مُتْنَا، فَيَقُولُ: رَبُّنَا انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ، فَإِنْ أَشْبَهَ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ، وَمَعَهُمْ، فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ".
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور اپنا جھگڑا (مقدمہ) پیش کریں گے، شہید لوگ کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں، اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پائے ہیں وہ کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں۔ تو میرا رب کہے گا: ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے، تو جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3166]
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء اور بستروں پر فوت ہونے والے، طاعون سے فوت ہونے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا کریں گے۔ شہداء کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں کیونکہ یہ بھی ہماری طرح قتل ہوئے ہیں۔ اور بستروں پر فوت ہونے والے کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں کیونکہ یہ ہماری طرح بستروں پر فوت ہوئے ہیں۔ رب تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: ان کے زخم دیکھو، اگر ان کے زخم مقتولین کے زخموں کی طرح ہیں تو یہ ان میں شمار ہوں گے اور ان کے ساتھ رہیں گے۔ جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخموں جیسے ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشراف: 9889)، مسند احمد (4/128، 129) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شہداء کا مقصد اس جھگڑے سے یہ ہے کہ طاعون سے مرنے والوں کے مراتب و درجات ہماری طرح ہو جائیں جب کہ بستروں پر وفات پانے والوں کا جھگڑا محض اس لیے ہو گا کہ طاعون سے مرنے والوں کی طرح ہمیں بھی شہداء کا درجہ ملنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن