سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: عَلَى مَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ
باب: کیا چیز دیکھ کر عورت سے نکاح کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3228
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ" , قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ , قَالَ:" فَذَاكَ إِذًا إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ ۱؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے (جوانی کے) کھیل کھلاتی“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے (کنواری نکاح کر کے لانے میں) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ (اور دوری کا باعث) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3228]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت سے نکاح کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: ”جابر! تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی؟ وہ تجھ سے دل لگی کرتی۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری کئی بہنیں ہیں۔ میں نے خدشہ محسوس کیا کہ کنواری عورت میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر ٹھیک ہے۔ عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے یا مال و جمال کی وجہ سے۔ تو دین والی عورت کو پسند کر۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 15 (715)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، (تحفة الأشراف: 2436)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 4 (1086)، مسند احمد (3/302)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس کا نکاح پہلے کسی سے ہو چکا تھا پھر اس کی طلاق ہو گئی یا شوہر کا انتقال ہو گیا ہو۔ ۲؎: یعنی اگر ایسا نہ کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
11. بَابُ: كَرَاهِيَةِ تَزْوِيجِ الْعَقِيمِ
باب: بانجھ عورت سے شادی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3229
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ:" تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ، الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ".
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ۱؎، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے اسے (اس سے شادی کرنے سے) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ۲؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں (دیگر اقوام پر) غالب آنا چاہتا ہوں ۳؎“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3229]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے ایک خاندانی اور مرتبے والی عورت ملی ہے مگر وہ بانجھ ہے، تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا، پھر وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرمایا، پھر وہ تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر روک دیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورتوں سے شادی کرو جو زیادہ بچے جننے والی، خوب محبت کرنے والی ہوں، یقیناً میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 4 (2050)، (تحفة الأشراف: 11477) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: انہیں اس کا علم بایں طور ہوا ہو گا کہ اسے یا تو حیض نہیں آتا تھا یا جس شوہر کے پاس تھی وہاں اس سے کوئی بچہ ہی پیدا نہیں ہوا۔ ۲؎: زیادہ بچہ جننے والی اور شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی عورت کا اندازہ اس کی ماں، اور ماں کی ماں کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اور یہ چیز جانوروں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ ۳؎: یعنی قیامت کے دن تعداد امت میں دیگر انبیاء سے بڑھ جانا چاہتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
12. بَابُ: تَزْوِيجِ الزَّانِيَةِ
باب: زانی اور بدکار عورت سے شادی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3230
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، وَكَانَ رَجُلًا شَدِيدًا، وَكَانَ يَحْمِلُ الْأُسَارَى مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَدَعَوْتُ رَجُلًا لِأَحْمِلَهُ وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ، يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، خَرَجَتْ، فَرَأَتْ سَوَادِي فِي ظِلِّ الْحَائِطِ، فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا مَرْثَدٌ مَرْحَبًا وَأَهْلًا يَا مَرْثَدُ انْطَلِقْ اللَّيْلَةَ، فَبِتْ عِنْدَنَا فِي الرَّحْلِ، قُلْتُ: يَا عَنَاقُ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ الزِّنَا" , قَالَتْ: يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الدُّلْدُلُ هَذَا الَّذِي يَحْمِلُ أُسَرَاءَكُمْ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، فَطَلَبَنِي ثَمَانِيَةٌ، فَجَاءُوا حَتَّى قَامُوا عَلَى رَأْسِي، فَبَالُوا، فَطَارَ بَوْلُهُمْ عَلَيَّ وَأَعْمَاهُمُ اللَّهُ عَنِّي، فَجِئْتُ إِلَى صَاحِبِي، فَحَمَلْتُهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى الْأَرَاكِ فَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَنْكِحُ عَنَاقَ فَسَكَتَ عَنِّي، فَنَزَلَتْ: وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3، فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَيَّ وَقَالَ:" لَا تَنْكِحْهَا".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ ایک سخت اور زور آور آدمی تھے، قیدیوں کو مکہ سے مدینہ منتقل کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو بلایا کہ اسے سواری پر ساتھ لیتا جاؤں، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، وہ (گھر سے باہر) نکلی، دیوار کی پرچھائیوں میں میرے وجود کو (یعنی مجھے) دیکھا، بولی کون ہے؟ مرثد! خوش آمدید اپنوں میں آ گئے، مرثد! آج رات چلو ہمارے ڈیرے پر ہمارے پاس رات کو سوؤ، میں نے کہا: عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے، اس نے کہا: خیمہ والو! یہ دلدل ہے ۱؎ یہ وہ (پرندہ) ہے جو تمہارے قیدیوں کو مکہ سے مدینہ اٹھا لے جائے گا (یہ سن کر) میں خندمہ (پہاڑ) کی طرف بڑھا (مجھے پکڑنے کے لیے) میری طلب و تلاش میں آٹھ آدمی نکلے اور میرے سر پر آ کھڑے ہوئے، انہوں نے وہاں پیشاب کیا جس کے چھینٹے مجھ پر پڑے (اتنے قریب ہونے کے باوجود وہ مجھے دیکھ نہ سکے کیونکہ) میرے حق میں اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا۔ میں (وہاں سے بچ کر) اپنے (قیدی) ساتھی کے پاس آیا اور اسے سواری پر چڑھا کر چل پڑا۔ پھر جب میں اراک پہنچا تو میں نے اس کی بیڑی کھول دی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ تو آپ خاموش رہے پھر آیت: «الزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» ”زنا کار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور نکاح نہیں کرتی“۔ (النور: ۳) نازل ہوئی، پھر (اس کے نزول کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مذکورہ آیت پڑھی پھر فرمایا: ”اس سے شادی نہ کرو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3230]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ حضرت مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ بہت بہادر اور قوی شخص تھے۔ وہ مکہ مکرمہ سے مسلمان قیدی اٹھا کر مدینہ لے آتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے ایک مسلمان قیدی سے طے کیا کہ میں تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا۔ مکہ میں ایک بدکار عورت رہتی تھی جس کا نام عناق تھا۔ وہ (دورِ جاہلیت میں) مجھ سے ”دوستانہ“ تعلقات رکھتی تھی۔ (اس دن) وہ نکلی تو اس نے ایک دیوار کے سائے میں مجھے کھڑا دیکھا۔ کہنے لگی: کون! مرثد ہے؟ خوش آمدید اور مرحبا ہو اے مرثد! آؤ گھر چلیں، رات ہمارے پاس ٹھہرنا۔ میں نے کہا: اے عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ اس نے شور مچا دیا: اے خیموں میں رہنے والو! یہ وہ خارپشت ہے جو تمہارے قیدی مکہ سے اٹھا کر مدینہ لے جاتا ہے۔ میں خندمہ پہاڑ کی طرف بھاگ نکلا (اور ایک غار میں جا چھپا)۔ آٹھ آدمی میرے پیچھے بھاگے۔ وہ آکر (عین اس غار کے اوپر) میرے سر کی سیدھ میں کھڑے ہو گئے اور پیشاب کرنے لگے۔ حتیٰ کہ ان کا پیشاب میرے اوپر گرتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مجھ سے اندھا کر دیا (اور وہ ناکام واپس چلے گئے)۔ میں پھر اپنے ساتھی کے پاس پہنچا اور اسے اٹھایا۔ جب میں اسے اٹھا کر پیلو کے درختوں کے جھنڈ میں سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے نکاح کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر یہ آیت اتری: ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی عورت سے زانی مرد یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، یہ آیت میرے سامنے تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ”تو اس سے نکاح مت کر۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح5 (2051) مختصراً، سنن الترمذی/تفسیرسورة النور (3177)، (تحفة الأشراف: 8753) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: دلدل سے تشبیہ اس لیے دی گئی کیونکہ یہ اکثر رات میں ظاہر ہوتا ہے، اور حتیٰ المقدور سر اپنے جسم میں چھپائے رکھتا ہے۔ ۲؎: زانی عورت سے نکاح اس وقت درست ہے جب وہ عمل زنا سے تائب ہو چکی ہو اور عدت بھی پوری ہو چکی ہو اور اگر وہ زنا سے حاملہ ہو چکی ہے تو اس کی مدت عدت وضع حمل ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3231
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , وَغَيْرُهُ , عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , وَعَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَبْدُ الْكَرِيمِ يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , وَهَارُونُ لَمْ يَرْفَعْهُ، قَالَا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي امْرَأَةً، هِيَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَهِيَ لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، قَالَ:" طَلِّقْهَا" , قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا، قَالَ:" اسْتَمْتِعْ بِهَا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ , وَعَبْدُ الْكَرِيمِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ أَثْبَتُ مِنْهُ , وَقَدْ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ وَهَارُونُ ثِقَةٌ، وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے جو مجھے سبھی لوگوں سے زیادہ محبوب ہے مگر خرابی یہ ہے کہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہ پاؤں گا۔ تو آپ نے کہا: پھر تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ (اور وہ جو دوسروں کو تیرا مال لے لینے دیتی ہے، اسے نظر انداز کر دے)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث (صحیح) ثابت نہیں ہے، عبدالکریم (راوی) زیادہ قوی نہیں ہے اور ہارون بن رئاب (راوی) عبدالکریم سے زیادہ قوی راوی ہیں۔ انہوں نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے ہارون ثقہ راوی ہیں اور ان کی حدیث عبدالکریم کی حدیث کے مقابل میں زیادہ صحیح اور درست لگتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3231]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے نکاح میں ایک عورت ہے جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ پیاری ہے مگر وہ کسی چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو نہیں روکتی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دے۔“ وہ کہنے لگا: میں اس سے صبر نہیں کر سکتا۔ آپ نے فرمایا: ”پھر اسی طرح فائدہ اٹھاتا رہ۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ عبدالکریم (راوی) قوی نہیں ہے، جبکہ ہارون بن رئاب اس سے زیادہ بہتر ہے اور اس نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے۔ چونکہ ہارون ثقہ ہے، لہٰذا عبدالکریم کے بجائے اس کی حدیث صحیح کہلانے کے زیادہ لائق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5807)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3495 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس کے دو مفہوم ہیں، ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتی ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کا مال ہر مانگنے والے کو اس کی اجازت کے بغیر دے دیتی ہے، یہ مفہوم مناسب اور بہتر ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کہنا ہے: یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی فاجرہ عورت کو روکے رکھنے کا مشورہ دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
13. بَابُ: كَرَاهِيَةِ تَزْوِيجِ الزُّنَاةِ
باب: زناکار عورت سے شادی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3232
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعَةٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے شادی چار چیزیں دیکھ کر کی جاتی ہے: اس کا مال دیکھ کر، اس کی خاندانی وجاہت (حسب) دیکھ کر، اس کی خوبصورتی دیکھ کر اور اس کا دین دیکھ کر، تو تم دیندار عورت کو پانے کی کوشش کرو ۱؎، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3232]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے چار وجوہات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے: مال کی بنا پر، حسب و نسب کی بنا پر، خوبصورتی کی بنا پر، تو دین والی کو حاصل کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 15 (5090)، صحیح مسلم/الرضاع 15 (1466)، سنن ابی داود/النکاح 2 (2047)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (1858)، (تحفة الأشراف: 14305)، مسند احمد (2/428)، سنن الدارمی/النکاح 4 (22116) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ دیندار عورت مالدار بھی ہو سکتی ہے، حسب والی بھی ہو سکتی ہے اور خوبصورت بھی ہو سکتی ہے لیکن بدکار نہیں ہو سکتی، ورنہ پھر اسے دیندار نہ کہیں گے۔ لیکن دیندار نہیں ہے تو مالدار عورت بھی بدکار ہو سکتی ہے، حسب والی بھی زانیہ ہو سکتی ہے اور جمال والی بھی بدکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے دیندار عورت کے مقابل میں گرچہ ان سے شادی جائز ہے مگر اس جواز کی حیثیت مکروہ کی ہو گی، اسی بنا پر صاحب کتاب نے «کراہیۃ تزویج الزناۃ» کا عنوان قائم کیا ہے۔ ۲؎: یعنی اگر ایسا نہ کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
14. بَابُ: أَىُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ
باب: زیادہ اچھی اور بہترین عورتیں کون سی ہیں؟
حدیث نمبر: 3233
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا، وَمَالِهَا، بِمَا يَكْرَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو (خوش اسلوبی سے) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی عورت بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور جب اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13058)، مسند احمد (2/251، 432) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اپنے صاف ستھرے لباس اور خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کرے۔ ۲؎: جب شوہر اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو فوراً تیار ہو جائے اور اپنے مال میں کھلے دل سے اسے تصرف کی اجازت دے رکھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
15. بَابُ: الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ
باب: نیک اور صالح عورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3234
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ آخَرَ، أَنْبَأَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا ساری کی ساری پونجی ہے (برتنے کی چیز ہے) ۱؎ لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین (قیمتی) چیز نیک و صالح عورت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3234]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سب کی سب وقتی فائدے کی چیز ہے اور دنیا کے سامان میں سے بہترین چیز نیک عورت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 17 (1467)، سنن ابن ماجہ/النکاح 5 (1855)، (تحفة الأشراف: 8849)، مسند احمد (2/168) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دنیا مطلوب بالذات نہیں ہے، صرف فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے، اس لیے اس سے صرف حسب ضرورت فائدہ اٹھایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
16. بَابُ: الْمَرْأَةِ الْغَيْرَاءِ
باب: غیرت مند عورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3235
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَتَزَوَّجُ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ؟ قَالَ:" إِنَّ فِيهِمْ لَغَيْرَةً شَدِيدَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں (یعنی مہاجرین) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انصار کی عورتوں سے شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: ”ان میں غیرت بہت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3235]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ انصاری عورتوں میں سے کسی کے ساتھ شادی نہیں فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں غیرت بہت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 171) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
17. بَابُ: إِبَاحَةِ النَّظَرِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ
باب: نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 3236
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ قَالَ: لَا، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے دیکھ لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3236]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے دیکھا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پہلے) اسے دیکھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 12 (1424)، (تحفة الأشراف: 13446)، مسند احمد (3/286، 299) ویأتي عند المؤلف برقم 3248، 3249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بغیر دیکھے نکاح کرنا اچھا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3237
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا".
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دیکھ لو، کیونکہ دیکھ لینا دونوں میں محبت کے اضافہ کا باعث ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3237]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت کو شادی کا پیغام بھیجا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھ لے، اس طریقے سے تمہارے درمیان محبت و الفت پیدا ہونا زیادہ ممکن ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 5 (1087)، سنن ابن ماجہ/النکاح 9 (1866)، (تحفة الأشراف: 11489)، مسند احمد (4/245، 246)، سنن الدارمی/النکاح 5 (2218) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا بغرض نکاح کسی اجنبیہ عورت کو دیکھنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح