🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ: إِذَا اسْتَشَارَ رَجُلٌ رَجُلاً فِي الْمَرْأَةِ هَلْ يُخْبِرُهُ بِمَا يَعْلَمُ
باب: شادی کی غرض سے مشورہ طلب کرنے والے کو عورت کے متعلق بتا دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3248
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ , أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَ، وَالصَّوَابُ أَبُو هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ (دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے (بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو) ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ» کے بجائے «عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث» کے ساتھ ملی۔ لیکن صحیح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3248]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں نے انصار کی ایک عورت کو شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے دیکھا نہیں؟ انصار کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک اور جگہ یہ حدیث اس طرح پائی ہے کہ یزید بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، جبکہ صحیح یہ ہے کہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3236 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں انہوں نے اپنی شادی کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ لیکن آپ نے اس عورت کے تعلق سے ایک بات انہیں بے پوچھے بتائی تو جب کسی عورت کے متعلق نکاح کی غرض سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو اس شخص کو اس عورت کے متعلق جو کچھ جانے بدرجہ اولیٰ بتا دینا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3249
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک (انصاری) عورت سے شادی کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پہلے) اسے دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ (نقص) ہوتا ہے“ (شادی بعد تم نے دیکھا اور وہ تیرے لیے قابل قبول نہ ہوئی تو ازدواجی زندگی تباہ ہو جائے گی)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3249]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک (انصاری) عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق بیان کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھ لینا، کیونکہ انصار کی آنکھوں میں خرابی ہوتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3236 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: عَرْضِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ عَلَى مَنْ يَرْضَى
باب: پسندیدہ شخص سے شادی کے لیے اپنی بیٹی پیش کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ:" تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ حُذَافَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، فَقَالَ: سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِيتُهُ، فَقَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا , قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا، وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا نَكَحْتُهَا".
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، وہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں موجود تھے، اور انتقال مدینہ میں فرمایا تھا)۔ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان کے سامنے حفصہ کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دوں، انہوں نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔ چند راتیں گزرنے کے بعد میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا: میں ان دنوں شادی کرنا نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ کو آپ کے نکاح میں دے دوں تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے ان کے اس رویے سے عثمان رضی اللہ عنہ کے جواب سے بھی زیادہ غصہ آیا، پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے میرے پاس اپنا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ (اس نکاح کے بعد) ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا: جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، تو اس وقت آپ کو مجھ پر بڑا غصہ آیا ہو گا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب آپ نے مجھ پر حفصہ کا معاملہ پیش کیا تو میں نے آپ کو محض اس وجہ سے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا تذکرہ سن چکا تھا اور میں آپ کا راز افشاء کرنا نہیں چاہتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرور ان سے شادی کر لیتا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3250]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میری بیٹی) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے بیوہ ہوگئیں، یہ خنیس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوۂ بدر میں بھی حاضر ہوئے تھے، وہ مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے۔ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں حفصہ رضی اللہ عنہما سے نکاح کی پیش کش کی، میں نے کہا: اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکاح آپ سے کر دوں؟ وہ کہنے لگے: میں اس بارے میں غور و فکر کروں گا۔ چند دن گزرے تو میں پھر انہیں ملا تو وہ کہنے لگے: آج کل میرا نکاح کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: اگر آپ پسند فرمائیں تو میں حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکاح آپ سے کر دوں؟ انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، مجھے ان پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ غصہ آیا۔ چند دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے نکاح کا پیغام بھیج دیا، میں نے (بصد خوشی و خوبی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکاح کر دیا۔ بعد میں مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: شاید آپ اس وقت مجھ سے ناراض ہو گئے ہوں گے جب آپ نے مجھے حفصہ رضی اللہ عنہما کے نکاح کی پیش کش کی تھی اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ وہ کہنے لگے: جب آپ نے مجھے پیش کش کی تھی تو آپ کو جواب دینے سے مجھے کوئی چیز مانع نہیں تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان (حفصہ رضی اللہ عنہما) کا تذکرہ فرماتے سنا تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیغام نہ بھیجتے تو میں ان سے نکاح کر لیتا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 12 (4005)، والنکاح 33 (5122)، 36 (5129) مختصرا، 46 (5145) مختصرا، مسند احمد (1/12و2/27) (تحفة الأشراف: 10523)، ویأتی عند المؤلف برقم3261 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى مَنْ تَرْضَى
باب: پسندیدہ شخص سے نکاح کے لیے عورت اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3251
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟".
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3251]
حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جبکہ ان کی ایک بیٹی ان کے پاس موجود تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور اس نے آپ کو نکاح کی پیش کش کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے؟ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 32 (5120) مطولا، والأدب 79 (6123) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 57 (2001) (تحفة الأشراف: 468) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر آپ مجھے نکاح کے لیے قبول فرمائیں تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ امْرَأَةً عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَتْ ابْنَةُ أَنَسٍ، فَقَالَتْ: مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ: هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو (نکاح کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، تو (یہ سن کر) انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہنس پڑیں، اور کہا: کتنی کم حیاء عورت ہے! انس رضی اللہ عنہ نے کہا: (بیٹی!) یہ عورت تجھ سے اچھی ہے (ذرا اس کی طلب تو دیکھ) اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا ہے، (اور آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3252]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کی پیش کش کی۔ (یہ سن کر) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی ہنسنے لگی اور کہا: وہ عورت کس قدر کم حیا والی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: وہ تجھ سے زیادہ بہتر تھی کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کی پیش کش کی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3251 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: صَلاَةِ الْمَرْأَةِ إِذَا خُطِبَتْ وَاسْتِخَارَتِهَا رَبَّهَا
باب: پیغام نکاح ملنے پر عورت کا نماز استخارہ پڑھ کر رب سے بھلائی چاہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ:" اذْكُرْهَا عَلَيَّ" , قَالَ زَيْدٌ: فَانْطَلَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي أَرْسَلَنِي إِلَيْكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بِغَيْرِ أَمْرٍ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے کہا: زینب خوش ہو جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں (یہ کہہ کر) وہ اپنے مصلی پر (صلاۃ استخارہ پڑھنے) کھڑی ہو گئیں، (ادھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ان سے آسمان پر ہی کر دیا)، اور قرآن نازل ہو گیا: «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» (اس آیت کے نزول کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کسی حکم و اجازت (یعنی رسمی ایجاب و قبول کے بغیر تشریف لائے، اور) ان سے خلوت میں ملے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3253]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت زینب (بنت جحش رضی اللہ عنہا) کی عدت ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے سابق خاوند) حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے میری طرف سے نکاح کا پیغام دو۔“ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے جا کر کہا: زینب! خوش ہو جاؤ، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ وہ کہنے لگیں: میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گی حتیٰ کہ اپنے اللہ تعالیٰ سے مشورہ کر لوں۔ وہ اپنی نماز گاہ کی طرف اٹھیں اور (نماز استخارہ شروع کر لی۔) ادھر قرآن مجید (کا حکم) اتر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کی اجازت کے بغیر (ان کے حجرے میں) داخل ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 15 (1428)، (تحفة الأشراف: 410)، مسند احمد (3/195، 246) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ أَبُو بَكْرٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ:" كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْكَحَنِي مِنَ السَّمَاءِ" , وَفِيهَا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر اس بات کا فخر کرتی تھیں کہ اللہ عزوجل نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) میرا نکاح آسمان ہی پر فرما دیا۔ اور انہیں کے سلسلے سے پردے کی آیت نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3254]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمانوں پر فرمایا، نیز ان کے بارے میں پردے والی آیت اتری۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التوحید 22 (7421)، (تحفة الأشراف: 1124)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة الأحزاب34 (3213)، مسند احمد (3/226) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: كَيْفَ الاِسْتِخَارَةُ
باب: نماز استخارہ کس طرح پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3255
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَعِينُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي، وَآجِلِهِ، فَاقْدِرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي، وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ، قَالَ: وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور (و معاملات) میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے، جیسا کہ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے، فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی (اچھے) کام کا ارادہ کرے تو فرض (اور اس کے توابع) کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر (دعا کرتے ہوئے) کہے: «اللہم إني أستخيرك بعلمك وأستعينك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللہم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کی برکت سے تجھ سے بھلائی اور خیر کا طالب ہوں اور تیری قدرت کا واسطہ دے کر تیری مدد کا چاہتا ہوں اور تیرے عظیم فضل کا طالب ہوں کیونکہ تو قدرت والا ہے، میں قدرت والا نہیں، تو (اچھا و برا سب) جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو ہی غیب کی باتوں کو جانتا ہے، اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ، (پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے) میرے لیے میرے دین، دنیا اور کے اعتبار سے، یا یہ کہا: اس دار فانی اور اخروی زندگی کے اعتبار سے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے مقدر کر دے اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور اگر تو جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے، میرے دین، دنیا اور انجام کار کے لحاظ سے یا اس دار فانی اور اخروی زندگی کے لحاظ سے تو اس کام کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچا لے۔ اور بھلائی جہاں بھی ہو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور مجھے اس پر راضی و خوش رکھ“۔ آپ نے فرمایا: ”(دعا کرتے وقت) اپنی ضرورت کا نام لے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3255]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ (کی دعا) سکھاتے تھے جس طرح ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل ادا کرے، پھر یوں کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے سے تجھ سے خیر کا طالب ہوں اور تیری قدرت کے ذریعے سے تجھ سے قدرت کا طالب ہوں اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوالی ہوں (تیرے عظیم فضل کی وجہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں) کیونکہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، میں نہیں جانتا۔ تو تمام غیبوں کو بخوبی جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین و دنیا اور انجامِ کار کے لحاظ سے... یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا و آخرت کے لحاظ سے... بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان فرما دے، پھر میرے لیے اس میں برکت فرما۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین و دنیا اور انجامِ کار کے لحاظ سے، یا دنیا و آخرت کے لحاظ سے، برا (نقصان دہ) ہے تو اس کام کو مجھ سے دور فرما اور میرا رخ بھی اس سے پھیر دے اور جہاں بھی خیر ہو میرے لیے مقدر فرما۔ اور پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (دعا میں) اپنے کام کا بھی ذکر کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 25 (1162)، والدعوات 48 (6382)، والتوحید 10 (7390)، سنن ابی داود/الصلاة 366 (1538)، سنن الترمذی/الصلاة 237 (480)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 188 (1383)، مسند احمد 3/344 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: إِنْكَاحِ الاِبْنِ أُمَّهُ
باب: بیٹے کا اپنی ماں کی شادی کرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ، فَلَمْ تَزَوَّجْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى، وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَقُلْ لَهَا أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى، فَسَأَدْعُو اللَّهَ لَكِ فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ، وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ، فَسَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ، وَأَمَّا قَوْلُكِ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ"، فَقَالَتْ لِابْنِهَا: يَا عُمَرُ , قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَوَّجَهُ" , مُخْتَصَرٌ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی شادی کا پیغام بھیجا۔ جسے انہوں نے قبول نہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنی شادی کا پیغام دے کر ان کے پاس بھیجا، انہوں نے (عمر رضی اللہ عنہ سے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچا دو کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں (دوسری بیویوں کے ساتھ رہ نہ پاؤں گی) بچوں والی ہوں (ان کا کیا بنے گا) اور میرا کوئی ولی اور سر پرست بھی موجود نہیں ہے۔ (جب کہ نکاح کرنے کے لیے ولی بھی ہونا چاہیئے) عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کو یہ سب باتیں بتائیں، آپ نے ان سے کہا: (دوبارہ) ان کے پاس (لوٹ) جاؤ اور ان سے کہو: تمہاری یہ بات کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں (اس کا جواب یہ ہے کہ) میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا، اللہ تمہاری غیرت (اور سوکنوں کی جلن) دور کر دے گا، اور اب رہی تمہاری (دوسری) بات کہ میں بچوں والی عورت ہوں تو تم (شادی کے بعد) اپنے بچوں کی کفایت (و کفالت) کرتی رہو گی اور اب رہی تمہاری (تیسری) بات کہ میرا کوئی ولی موجود نہیں ہے (تو میری شادی کون کرائے گا) تو ایسا ہے کہ تمہارا کوئی ولی موجود ہو یا غیر موجود میرے ساتھ تمہارے رشتہ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا (جب عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب ان کے سامنے رکھا) تو انہوں نے اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ سے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (میرا) نکاح کر دو، تو انہوں نے (اپنی ماں کا) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3256]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب میری عدت ختم ہوگئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس اپنے نکاح کا پیغام بھیجا۔ میں نے قبول نہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ میں بہت غیرت والی عورت ہوں۔ (آپ کی دوسری بیویوں سے نباہ نہ ہوسکے گا۔) پھر میرے (سابقہ خاوند سے میرے) بچے بھی ہیں، نیز اس وقت میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے یہ باتیں ذکر کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوبارہ جاؤ اور اسے کہو: تمہارا یہ کہنا کہ ”میں غیرت والی عورت ہوں“ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ تیری (بے جا) غیرت کو ختم کر دے۔ اور تمہارا یہ کہنا کہ ”میرے بچے ہیں“ تو تجھے ان کی فکر نہیں کرنی چاہیے؛ انہیں خرچہ وغیرہ دیا جائے گا۔ باقی رہی تمہاری یہ بات کہ ”میرے اولیاء میں سے کوئی خاص نہیں“ تو سن لے کہ تیرے اولیاء میں سے کوئی شخص بھی خواہ وہ حاضر ہو یا غائب، اس کام کو ناپسند نہیں کرے گا۔“ میں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! اٹھو اور میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر دو۔ چنانچہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کر دیا۔ یہ حدیث مختصر بیان کی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18204)، مسند احمد (6/295، 313، 317، 320، 321) (ضعیف) یعنی بہذا السند والمتن وقد ورد بعضہ عندم فی الجنائز2 (918)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: إِنْكَاحِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ الصَّغِيرَةَ
باب: باپ اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3257
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا، وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ چھ سال کی بچی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب نو برس کی ہوئیں تو آپ نے ان سے خلوت کی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3257]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا تو وہ چھ سال کی تھیں اور انہیں اپنے گھر بسایا تو نو سال کی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 10 (1422)، (تحفة الأشراف: 17203) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 38 (5133)، 39 (5134)، 59 (5158)، سنن ابی داود/النکاح 34 (2121)، سنن ابن ماجہ/النکاح 13 (1876)، مسند احمد (6/118، 280)، سنن الدارمی/النکاح 56 (2307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں