سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ التَّبَتُّلِ
باب: مجرد (عورتوں سے الگ تھلگ) رہنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3218
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ؟ قَالَتْ:" فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38 , فَلَا تَتَبَتَّلْ".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: میں مجرد (غیر شادی شدہ) رہنے کے سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا: ایسا ہرگز نہ کرنا، کیا تم نے نہیں سنا ہے؟ اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ”ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا“ (الرعد: ۳۸) تو (اے سعد!) تم «تبتل» (اور رہبانیت) اختیار نہ کرو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3218]
حضرت سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: میں آپ سے ترکِ نکاح کا مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ فرمانے لگیں: ایسے نہ کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا: ﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً﴾ [سورة الرعد: 38] ”(اے نبی!) ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے۔ ان سب کی بیویاں اور اولاد تھیں۔“ لہٰذا ترکِ نکاح نہ کر۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3215 (صحیح) (اگر حسن بصری نے اس کو سعدبن ہشام سے سنا ہے تو یہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: آیت میں «أَزْوَاجًا» سے رہبانیت اور «ذُرِّيَّةًً» سے خاندانی منصوبہ بندی کی تر دید ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إن كان الحسن سمعه من سعد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3219
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَصُومُ فَلَا أُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا؟ لَكِنِّي أُصَلِّي، وَأَنَامُ، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا: میں نکاح (شادی بیاہ) نہیں کروں گا، بعض نے کہا: میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہا: میں بستر پر نہ سوؤں گا، بعض نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے (لوگوں کے سامنے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ (مجھے دیکھو) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ (سن لو) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے (میرے طریقے پر نہ چلے) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3219]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ چند اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اکٹھے ہوئے ان) میں سے ایک نے کہا: میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا۔ تیسرے نے کہا: میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ چوتھے نے کہا: میں روزے رکھوں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا: ”کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں، حالانکہ میں (نفل) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، (نفل) روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغے بھی کرتا ہوں اور میں نے (ایک سے زائد) عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے، لہٰذا جو شخص میری سنت اور طریق کار کو ناپسند کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 1 (5063)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1401)، (تحفة الأشراف: 334)، مسند احمد (3/241، 259، 285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
5. بَابُ: مَعُونَةِ اللَّهِ النَّاكِحَ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ
باب: عفت و پاکدامنی کے ارادہ سے شادی کرنے والے کا اللہ تعالیٰ معاون و مددگار ہے۔
حدیث نمبر: 3220
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمْ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین (طرح کے لوگ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے: (ایک) وہ مکاتب ۱؎ جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو۔ (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3220]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے: وہ غلام جو اپنی آزادی کا معاہدہ کرے اور اس کی نیت رقم ادا کرنے کی ہو، اور وہ شخص جو گناہ سے بچنے (پاکبازی) کی نیت سے نکاح کرے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3122 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
6. بَابُ: نِكَاحِ الأَبْكَارِ
باب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3221
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ" , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟" فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا، تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نکاح کیا، اور (اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”جابر! کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ نے کہا: ”کنواری سے (شادی کی ہے) یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے“، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3221]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شادی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”جابر! شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ شادی کی۔ تو اس سے دل لگی کرتا، وہ تجھ سے دل لگی کرتی۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 43 (2097)، الوکالة 8 (2309)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، (تحفة الأشراف: 2512)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 3 (2048)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، مسند احمد (3/294، 302، 314، 362، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3222
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ , هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي؟" قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا؟" قُلْتُ: أَيِّمًا؟ قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی؟“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3222]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور کہنے لگے: ”جابر! تو نے میرے بعد (میری عدم موجودگی میں) شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ شادی کی؟ وہ تجھ سے جی بھر کر پیار کرتی۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2465) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
7. بَابُ: تَزَوُّجِ الْمَرْأَةِ مِثْلَهَا فِي السِّنِّ
باب: عورت کا ہم عمر مرد سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3223
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَاطِمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا صَغِيرَةٌ، فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ، فَزَوَّجَهَا مِنْهُ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے لیے پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چھوٹی ہے“، پھر علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے ان کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3223]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (تمہارے مقابلے میں) چھوٹی ہے۔“ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1972) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب العمر تھے جب کہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کی عمر فاطمہ رضی الله عنہا کی بنسبت کہیں زیادہ تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
8. بَابُ: تَزَوُّجِ الْمَوْلَى الْعَرَبِيَّةَ
باب: غلام کی آزاد عورت سے شادی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3224
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ طَلَّقَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ فِي إِمَارَةِ مَرْوَانَ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ قَيْسٍ الْبَتَّةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ تَأْمُرُهَا بِالِانْتِقَالِ مِنْ بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمِعَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنَةِ سَعِيدٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى مَسْكَنِهَا وَسَأَلَهَا مَا حَمَلَهَا عَلَى الِانْتِقَالِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَعْتَدَّ فِي مَسْكَنِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؟ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُخْبِرُهُ أَنَّ خَالَتَهَا أَمَرَتْهَا بِذَلِكَ، فَزَعَمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، فَلَمَّا أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى الْيَمَنِ، خَرَجَ مَعَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ هِيَ بَقِيَّةُ طَلَاقِهَا، وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَتِهَا، فَأَرْسَلَتْ زَعَمَتْ إِلَى الْحَارِثِ، وَعَيَّاشٍ تَسْأَلُهُمَا الَّذِي أَمَرَ لَهَا بِهِ زَوْجُهَا، فَقَالَا: وَاللَّهِ مَا لَهَا عِنْدَنَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا، وَمَا لَهَا أَنْ تَكُونَ فِي مَسْكَنِنَا إِلَّا بِإِذْنِنَا، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَصَدَّقَهُمَا، قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَأَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" انْتَقِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، الَّذِي سَمَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ"، قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَاعْتَدَدْتُ عِنْدَهُ، وَكَانَ رَجُلًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَكُنْتُ أَضَعُ ثِيَابِي عِنْدَهُ حَتَّى أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا مَرْوَانُ، وَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَحَدٍ قَبْلَكِ وَسَآخُذُ بِالْقَضِيَّةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا" , مُخْتَصَرٌ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ مروان کے دور حکومت میں ایک نوجوان شخص عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی (جن کی ماں بنت قیس ہیں) کو طلاق بتہ دے دی ۱؎، تو اس کی خالہ فاطمہ بنت قیس نے اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہو جاؤ، یہ بات مروان نے سنی (کہ سعید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو کے گھر سے چلی گئی ہے)۔ تو اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم اپنے اس گھر کو واپس چلی جاؤ (جہاں سے نکل کر آئی ہو) اور اس سے وجہ بھی پوچھی کہ تم اپنے گھر میں عدت کے ایام پورا کئے بغیر وہاں سے نکل کیسے آئی؟ تو اس نے انہیں (یعنی مروان کو) کہلا بھیجا کہ میں اپنی خالہ کے کہنے سے نکل آئی تھی۔ تو (اس کی خالہ) فاطمہ بنت قیس نے (اپنا پیش آمدہ واقعہ) بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص کے نکاح میں تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا، تو وہ بھی ان کے ساتھ گئے اور (وہاں سے) انہوں نے ان کو (تین طلاقوں میں سے) باقی بچی ہوئی طلاق دے کر کہلا بھیجا کہ حارث بن ہشام اور عیاش بن ربیعہ سے اپنا نفقہ لے لیں۔ کہتی ہیں: تو انہوں نے حارث اور عیاش سے پچھوا بھیجا کہ ان کے لیے ان کے شوہر نے ان دونوں کو کیا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے کہا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے پاس کوئی نفقہ (خرچ) نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے گھر میں ہماری اجازت کے بغیر ان کا رہنا درست ہے۔ ہاں اگر وہ حاملہ ہوں (تو انہیں وضع حمل تک نفقہ و سکنی ملے گا) وہ (یعنی فاطمہ بنت قیس) کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان سب باتوں کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں سچ کہتے ہیں“، فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! پھر میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ جو ایک نابینا شخص ہیں اور جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن پاک) میں کیا ہے“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے ان کے یہاں جا کر عدت پوری کی۔ وہ ایسے آدمی تھے جن کی آنکھیں چلی گئی تھیں، میں ان کے یہاں اپنے کپڑے اتار دیتی تھی، پھر (وہ وقت آیا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کرا دی ۲؎، ان کی اس بات کو مروان نے قبول نہیں کیا اور کہا: میں نے تم سے پہلے ایسی بات کسی سے نہیں سنی ہے۔ میں تو وہی فیصلہ نافذ رکھوں گا جس پر لوگوں کو عمل کرتا ہوا پایا ہے۔ (یہ حدیث) مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3224]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے مروان کے دور حکومت میں، جب کہ وہ نوجوان تھے، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی، جس کی والدہ بنت قیس تھیں، کو بتہ طلاق دے دی۔ اس لڑکی کی خالہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اسے پیغام بھیجا کہ وہ عبداللہ بن عمرو (خاوند) کے گھر سے منتقل ہو جائے۔ مروان نے یہ سنا تو سعید کی بیٹی کو پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ وہ اپنے خاوند کے گھر واپس جائے اور اس سے پوچھا کہ وہ اپنے اصل گھر میں عدت مکمل کرنے سے پہلے کیوں منتقل ہوئی؟ تو اس نے واپسی پیغام بھیجا اور بتایا کہ میری خالہ (صحابیہ) نے مجھے حکم دیا تھا۔ (مروان نے انہیں پیغام بھیجا تو) حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر فرمایا تو میرا خاوند بھی ان کے ساتھ گیا اور وہاں سے مجھے آخری طلاق جو (تین طلاقوں میں سے) باقی تھی، بھیج دی اور میرا خرچ دینے کے لیے حضرت حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو کہہ دیا۔ میں نے حارث اور عیاش کو پیغام بھیجا کہ مجھے میرا خرچ بھیجیں جس کا میرے خاوند نے حکم دیا ہے۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! تیرا ہمارے ذمے کوئی خرچ نہیں مگر یہ کہ تو حاملہ ہو، اور تو ہماری اجازت کے بغیر ہماری رہائش میں بھی نہیں رہ سکتی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے پورا معاملہ ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کے موقف) کی تصدیق فرمائی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو میں کہاں رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو عبداللہ بن ام مکتوم نابینا کے گھر منتقل ہو جا، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب [سورة عبس: 1] میں تذکرہ فرمایا ہے۔“ میں نے ان کے ہاں عدت گزاری، ان کی نظر ختم ہو چکی تھی، میں وہاں (بلا کھٹکے) اپنے کپڑے اتار سکتی تھی، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نکاح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے فرما دیا۔ مروان نے ان کی اس بات کو تسلیم نہ کیا اور کہا: میں نے یہ بات تجھ سے پہلے کسی سے نہیں سنی، میں تو اسی طریق پر عمل کروں گا جس پر میں نے پہلے لوگوں کو پایا ہے۔ یہ روایت (اس جگہ) مختصر (بیان ہوئی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن ابی داود/الطلاق 39 (2290)، (تحفة الأشراف: 18031)، مسند احمد (6/414- 415، سنن الدارمی/النکاح ویأتي عند المؤلف برقم: 3582 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طلاق بتہ ایسی طلاق ہے جس میں عورت کا شوہر سے کوئی علاقہ و تعلق باقی نہ رہ جائے۔ ۲؎: حدیث کا مقصود یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس کا نکاح اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے کر دیا، باوجودیکہ وہ غلام زادے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3225
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ فَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ:ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 , فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ" , مُخْتَصَرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا، اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دی۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے لیا تھا، اور زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ متبنی کرنے والے کو اس لڑکے کا باپ کہا کرتے تھے اور وہ لڑکا اس کی میراث پاتا تھا اور یہ دستور اس وقت تک چلتا رہا جب تک اللہ پاک نے یہ آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے، پھر اگر تمہیں ان کے حقیقی باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“ (الاحزاب: ۵) نازل نہ کی، پس جس کا باپ معلوم نہ ہو وہ دینی بھائی اور دوست ہے، (یہ حدیث) مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3225]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ، جو غزوۂ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے تھے، انہوں نے حضرت سالم رضی اللہ عنہ کو متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا اور ان کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دیا تھا، حالانکہ حضرت سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا۔ اور جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی شخص کسی کو بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کا بیٹا کہتے، وہ اس کا وارث بھی بنتا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت اتاری: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”ان (متبناؤں) کو ان کے اصلی باپوں کی طرف منسوب کرو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات زیادہ قرینِ انصاف ہے۔ البتہ اگر تم ان کے اصلی باپوں کو نہ جانتے ہو تو انہیں اپنا بھائی یا مولیٰ کہو۔“ لہٰذا جس (متبنیٰ) کا باپ معلوم نہ ہو، وہ (بیٹا بنانے والے کا) مولیٰ یا دینی بھائی ہو گا۔ (یہ حدیث اس جگہ) مختصر (بیان ہوئی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 15 (5088)، (تحفة الأشراف: 16467)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 10 (2061)، موطا امام مالک/الرضاع 2 (12)، مسند احمد (6/201، 271)، سنن الدارمی/النکاح 52 (2303) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3226
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن ربيعة , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ سَالِمًا ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ ابْنَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَتْ هِنْدُ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 , رُدَّ كُلُّ أَحَدٍ يَنْتَمِي مِنْ أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُعْلَمُ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوَالِيهِ.
امہات المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان لوگوں میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا لے پالک بنا لیا تھا۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا تھا۔ ابوحذیفہ بن عتبہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا تھا اور یہ ہند بنت ولید بن عتبہ شروع شروع کی مہاجرہ عورتوں میں سے تھیں، وہ قریش کی بیوہ عورتوں میں اس وقت سب سے افضل و برتر عورت تھیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے زید بن حارثہ (غلام) کے تعلق سے آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ» ”لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے“ نازل فرمائی تو ہر ایک لے پالک اپنے اصل باپ کے نام سے پکارا جانے لگا، اور جن کے باپ نہ جانے جاتے انہیں ان کے آقاؤں کی طرف منسوب کر کے پکارتے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3226]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ازواج مطہرات حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ، جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے تھے، حضرت سالم رضی اللہ عنہ، جو انصار کی ایک عورت کے آزاد کردہ غلام تھے، کو بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بیٹا بنا لیا تھا، نیز حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سالم رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی سگی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا تھا۔ اور حضرت ہند بنت ولید بن عتبہ رضی اللہ عنہا اولین مہاجرین میں سے تھیں اور وہ ان دنوں قریش کی بیوہ خواتین میں سے افضل خاتون تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیت اتاری: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”متبناؤں کو ان کے اصلی باپوں کی طرف منسوب کرو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات زیادہ قرین انصاف ہے۔“ تو متبناؤں میں سے ہر ایک کو اس کے اصلی باپ کی طرف منسوب کیا گیا۔ اگر اس کے باپ کا پتا نہ چل سکا تو اسے متبنیٰ بنانے والوں کا مولیٰ کہا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16686) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
9. بَابُ: الْحَسَبِ
باب: حسب (خاندانی عزت و وجاہت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3227
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ الْمَالُ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا داروں کا حسب ۱؎ جس کی طرف وہ دوڑتے (اور لپکتے) ہیں مال ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3227]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا والوں کے نزدیک حسب صرف مال کا نام ہے جس کا وہ خیال رکھتے ہیں۔ (رشتہ داری وغیرہ کے وقت)۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1970)، مسند احمد (5/353) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حسب ایک خاندانی عزت و وجاہت اور اعلیٰ اخلاق و کردار ہے جو گھر اور خاندان میں نسلا بعد نسل چلا آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح