🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ
باب: محرم کے نکاح کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3278
حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ , عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ".
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ کسی کا کرائے، اور نہ ہی کہیں نکاح کا پیغام دے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3278]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم اپنا نکاح کرے نہ کسی کا کرائے اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2845 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَلاَمِ عِنْدَ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے وقت کون سا کلام (خطبہ) پڑھنا مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3279
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، قَالَ:" التَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حاجت و ضرورت میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور «تشہد فی الحاجۃ» یہ ہے کہ ہم (پہلے) پڑھیں: «أن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» (اور پھر) تین آیات پڑھے (اور ایجاب و قبول کرائے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3279]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز میں تشہد اور دوسری حاجات (خطبہ نکاح وغیرہ) میں تشہد سکھلایا۔ حاجت نکاح وغیرہ والا تشہد یہ ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور ہم اس سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفوس کی شرارتوں سے (بچنے کے لیے) اس کی پناہ میں آتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین آیات پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 33 (2118)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1105) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1892)، (تحفة الأشراف: 9506)، مسند احمد (1/393، 432) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وہ تینوں آیات یہ ہیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا الله الذي تسائلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ”لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو کہ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کر کے ان دونوں سے مرد اور عورت کثرت سے پھیلا دیے، لوگو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“۔ (النساء: ۱) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو“۔ (آل عمران: ۱۰۲) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گااس نے بڑی مراد پالی“۔ (الاحزاب: ۷۰، ۷۱)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2118) تقدم (1405) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 346

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3280
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق کچھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ خطبہ) ارشاد فرمایا: «إن الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد» ۱؎“ (اور بات آگے بڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3280]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی مسئلے میں بات چیت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں خطبہ ارشاد فرمایا: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ... أَمَّا بَعْدُ» ”تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ حمد و صلاۃ کے بعد...“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعہ 13 (868) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1893)، (تحفة الأشراف: 5586)، مسند احمد (1/302، 350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اسی کے ہم ثناء خواں اور اسی کی مدد کے طلبگار ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت بخشے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تنہا حقیقی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گوائی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْخُطْبَةِ
باب: کس طرح کا خطبہ مکروہ ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3281
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: تَشَهَّدَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ".
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (خطبہ) تشہد پڑھا، ان میں سے ایک نے کہا: «من يطع اللہ ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فقد غوى» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بہت برے خطیب ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3281]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں خطبہ دیا، ان میں سے ایک نے کہا: جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا، وہ گمراہ ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو برا خطیب ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعہ 13 (870)، سنن ابی داود/الصلاة 229 (1099)، والأدب 85 (4981)، مسند احمد (4/256، 379) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ تم نے «من يعصهما» کہہ کر اللہ و رسول کو ایک ہی درجہ میں کر دیا۔ بہتر تھا کہ جس طرح «من يطع الله و رسوله» کہا ایسے ہی «من يعص الله و رسوله» کہتے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت یاب ہوا اور جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔ بعض احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود «ومن یعصہما» کہا ہے تو اس سلسلہ میں صحیح اور درست بات یہ ہے کہ ایسا کرنا آپ کے علاوہ کے لیے منع ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ و رسول کو ایک ہی ضمیر میں جمع کرنا اس سے دونوں کو برابری کا درجہ دینے کا وہم نہیں ہو سکتا اس لیے کہ آپ جس منصب و مقام پر فائز ہیں وہاں اس طرح کے وہم کی گنجائش ہی نہیں۔ جب کہ دوسرے اس وہم سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ: الْكَلاَمِ الَّذِي يَنْعَقِدُ بِهِ النِّكَاحُ
باب: نکاح جن کلمات سے منعقد ہوتا ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3282
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالتَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" هَلْ مَعَكَ شَيْءٌ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" فَذَهَبَ فَطَلَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ" قَالَ: نَعَمْ، مَعِي سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ:" قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! اس (بندی) نے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دیا، آپ جیسا چاہیں کریں۔ آپ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے اپنے آپ کو آپ کی سپردگی میں دے دیا ہے۔ تو اس کے بارے میں آپ کی جو رائے ہو ویسا کریں۔ (اتنے میں) ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری اس (عورت) سے شادی کرا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں“، آپ نے فرمایا: ”جا کچھ ڈھونڈ کر لا اگر لوہے کی انگوٹھی ہی ملے تو وہی لے آؤ“، وہ گیا، اس نے تلاش کیا پھر آ کر کہا: مجھے تو کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہ ملی۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس قرآن کے عوض جو تمہیں یاد ہے تمہارا نکاح اس عورت سے کر دیا“ (تم اسے بھی انہیں یاد کرا دو)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3282]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کچھ لوگوں میں بیٹھا تھا کہ ایک عورت آکر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کے نکاح کے لیے پیش کرتی ہوں، آپ میرے بارے میں جو مناسب سمجھیں فیصلہ فرمائیں۔ آپ چپ ہو گئے اور اسے کچھ جواب نہ دیا۔ وہ دوبارہ کھڑی ہو کر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کرتی ہوں، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں۔ (آپ چپ رہے تو) ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! (اگر آپ کو ضرورت نہیں تو) اس عورت کا نکاح مجھ سے فرما دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”تیرے پاس (مہر وغیرہ کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ، تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، تلاش کے بعد واپس آگیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی چیز نہیں ملی، لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! مجھے فلاں فلاں سورتیں حفظ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے قرآن مجید کی سورتوں (کی تعلیم) کے عوض تیرا اس سے نکاح کر دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2202 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ: الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ
باب: نکاح کی شرطوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3283
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نکاح کی) شرطوں میں سب سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو (یعنی مہر کی ادائیگی)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3283]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شرط پوری کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ ہے جس کے ساتھ تم عورتوں کو اپنے لیے حلال کرتے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشروط 6 (2721)، النکاح 53 (5151)، صحیح مسلم/النکاح 8 (1418)، سنن ابی داود/النکاح 40 (2139)، سنن الترمذی/النکاح 22 (1127)، سنن ابن ماجہ/النکاح41 (1954)، (تحفة الأشراف: 9953)، مسند احمد (4/114، 150، 151، 152)، سنن الدارمی/النکاح 21 (2249) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3284
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نکاح کی) شرطوں میں سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو“ (یعنی مہر کی ادائیگی)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3284]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شرط کو پورا کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ ہے جس کے ساتھ تم عورتوں کو اپنے لیے حلال کرتے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3283 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ: النِّكَاحِ الَّذِي تَحِلُّ بِهِ الْمُطَلَّقَةُ ثَلاَثًا لِمُطَلِّقِهَا
باب: وہ نکاح جس سے تین طلاق دی ہوئی عورت طلاق دینے والے کے لیے حلال ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3285
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ رفاعہ نے مجھے طلاق بتہ (یعنی بالکل قطع تعلق کر دینے والی آخری طلاق) دے دی ہے، اور میں نے ان کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی جن کے پاس بس کپڑے کی جھالر جیسا ہے، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شاید تم رفاعہ کے پاس دوبارہ واپس جانا چاہتی ہو (تو سن لو) یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمہارا شہد اور تم اس کا شہد نہ چکھ لو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3285]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ کی (سابقہ) بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: رفاعہ نے مجھے طلاق دی اور طلاقِ بتہ (تیسری طلاق) دی۔ میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لیا مگر اس کے پاس تو کپڑے کے پلو (کنارے، یعنی مردانہ کمزوری) کا سا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کی اس تمثیل پر) مسکرائے اور فرمایا: ”شاید تو دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے؟ تو نہیں جا سکتی حتیٰ کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے لطف اندوز ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 3 (2639)، الطلاق 4 (5260)، 7 (5265)، 37 (5317)، اللباس 6 (5792)، الأدب 68 (6084)، صحیح مسلم/النکاح 17 (1433)، سنن الترمذی/النکاح27 (1118)، سنن ابن ماجہ/النکاح32 (1932)، (تحفة الأشراف: 16436)، مسند احمد (6/34، 37، 192، 226، 229)، سنن الدارمی/الطلاق 4 (2313)، ویأتی عند المؤلف 3440 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مقصد یہ ہے کہ جب عورت اور مرد ہمبستری کر لیں اور پھر شوہر اس عورت کو طلاق دیدے تو یہ مطلقہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس جس نے اس کو تین طلاق دے کر اپنے سے جدا کر دیا تھا، نئے نکاح سے واپس ہو سکتی ہے، یہاں پر ہمبستری کی لذت کو ایک دوسرے کے شہد چکھنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ: تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ الَّتِي فِي حَجْرِهِ
باب: شوہر کی زیر پرورش لڑکی سے شادی کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3286
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ , وَأُمُّهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ" , فَقُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أُخْتَكِ لَا تَحِلُّ لِي" فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ:" بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّهَا رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میری بہن بنت ابی سفیان سے شادی کر لیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے پسند کر لو گی؟“ میں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ بھلائی اور اچھائی میں میری جو ساجھی دار بنے وہ میری بہن ہو۔ آپ نے فرمایا: ”تمہاری بہن (تمہاری موجودگی میں) میرے لیے حلال نہیں ہے“، میں نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ام سلمہ کی بیٹی کی بات کر رہی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی اور میری گود میں نہ پلی ہوتی تو بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے (اور رضاعت سے ہر وہ چیز حرام ہو جاتی ہے جو قرابت داری (رحم) سے حرام ہوتی ہے) مجھے اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ تو تم (آئندہ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو (رشتہ کے لیے) مجھ پر پیش نہ کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3286]
حضرت زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہما، جن کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں، نے بتایا کہ مجھے حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ میری بہن بنت ابوسفیان سے نکاح کر لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اسے پسند کرتی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں کون سا آپ کے گھر میں اکیلی ہوں؟ اور میری بہن میرے ساتھ اس خیر (آپ کی زوجیت) میں شریک ہو جائے تو مجھے اس سے بڑھ کر کون سی چیز پسندیدہ ہو گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری بہن میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم تو آپس میں یہ تبصرہ کرتی رہتی ہیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی سے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری بیوی کے پچھ لگ بیٹی (میرے گھر میں) نہ بھی (رہ رہی) ہوتی، پھر بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، لہٰذا تم مجھ سے نکاح کے لیے اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 20 (5101)، 25 (5106)، 26 (5107)، 33 (5123)، النفقات 16 (5372)، صحیح مسلم/الرضاع 4 (1449)، سنن ابن ماجہ/النکاح 34 (1939)، (تحفة الأشراف: 15875)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 7 (2056)، مسند احمد (6/291، 309، 428) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ: تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الأُمِّ وَالْبِنْتِ
باب: ماں اور بیٹی کو نکاح میں اکٹھا کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3287
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْ بِنْتَ أَبِي، تَعْنِي أُخْتَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَتْنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ" , قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ تَنْكِحُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ:" بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ" , قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میرے باپ کی بیٹی یعنی میری بہن سے نکاح کر لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم (واقعی) اسے پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی تو ہوں نہیں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو عورت میری شریک بنے وہ میری بہن ہو، (اس بات چیت کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حلال نہیں ہے“، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم نے تو سنا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟ آپ نے (استفہامیہ انداز میں) کہا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں (ام سلمہ کی بیٹی)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی اگر وہ میری آغوش کی پروردہ (ربیبہ) نہ بھی ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو تو ثویبہ (نامی عورت) نے دودھ پلایا ہے۔ تو (سنو! آئندہ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش نہ کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3287]
حضرت زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن سے نکاح کر لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ بات پسند کرتی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں کون سا آپ کے گھر میں اکیلی ہوں؟ اور میری بہن اس فضیلت میں میرے ساتھ شریک ہو جائے، اس سے زیادہ پسندیدہ بات کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حلال نہیں۔“ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہ تبصرے کرتی رہتی ہیں کہ آپ درہ بنت ابوسلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری پچھلگ بیٹی نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، لہٰذا تم مجھ پر نکاح کے لیے اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3286 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں