سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: الْعَجْفَاءِ
باب: کمزور اور دبلے جانوروں کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4376
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , وَذَكَرَ آخَرَ، وَقَدَّمَهُ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ، وَأَصَابِعِي أَقْصَرُ مِنْ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُشِيرُ أُصْبُعِهِ، يَقُولُ:" لَا يَجُوزُ مِنَ الضَّحَايَا: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور میری انگلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں، انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے آپ فرما رہے تھے: ”قربانی کے جانوروں میں یہ جانور جائز نہیں ہیں: کانا جس کا کانا پن صاف معلوم ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، بیمار جس کی بیماری صاف ظاہر ہو رہی ہو اور دبلا اور کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4376]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ اپنی مبارک انگلیوں کے ساتھ اشارہ بھی فرما رہے تھے... اور میری انگلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس انگلیوں سے کوتاہ ہیں... ”چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، مریض جس کا مرض واضح ہو اور اتنا کمزور جانور کہ اس میں گودا تک نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4374 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
8. بَابُ: الْمُقَابَلَةِ وَهِيَ مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا
باب: سامنے سے کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4377
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا بَتْرَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم (جانوروں کے) آنکھ اور کان دیکھ لیں اور کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، اور نہ دم کٹے جانور کی، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4377]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم (قربانی والے جانور کی) آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں اور ہم کوئی ایسا جانور ذبح نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو، یا جس کا کان لمبائی میں پھٹا ہوا ہو، یا جس کے کان میں سوراخ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 6 (2804)، سنن الترمذی/الضحایا6(1498)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3142)، (تحفة الأشراف: 10125)، مسند احمد (1/80، 108، 128، 149)، سنن الدارمی/الأضاحی3(1995)، ویأتی فیما یلی: 4378-4380 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مختلط اور مدلس ہیں، نیز ’’شریح‘‘ سے ان کا سماع نہیں ہے، اس لیے سند میں انقطاع بھی ہے، مگر مطلق کان ناک دیکھ بھال کر لینے کا حکم صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر 4381، اور حاشیہ نمبر حدیث 4374)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن جملة الاستشراف صحيحة
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
9. بَابُ: الْمُدَابَرَةِ وَهِيَ مَا قُطِعَ مِنْ مُؤَخَّرِ أُذُنِهَا
باب: پیچھے سے کان کٹے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4378
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ، وَلَا مُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانوروں کے) آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا، اور یہ کہ ہم کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جو کانا ہو، جس کا کان سامنے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، اور نہ کسی ایسے جانور کی جس کے کان چرے ہوئے ہوں، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4378]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم (قربانی والے جانور کے) آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھیں۔ اور ہم کوئی ایسا جانور ذبح نہ کریں جو کانا ہو یا اس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو، یا وہ درمیان سے چرا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
10. بَابُ: الْخَرْقَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُخْرَقُ أُذُنُهَا
باب: کٹے پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4379
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ، أَوْ مُدَابَرَةٍ، أَوْ شَرْقَاءَ، أَوْ خَرْقَاءَ، أَوْ جَدْعَاءَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4379]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”ایسا جانور قربانی میں ذبح کیا جائے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا یا چرا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو، یا اس کا کوئی عضو کٹا ہوا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4377 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
11. بَابُ: الشَّرْقَاءِ وَهِيَ مَشْقُوقَةُ الأُذُنِ
باب: پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4380
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ، وَلَا عَوْرَاءَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سامنے سے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے، اور کان چرے ہوئے اور کان پھٹے ہوئے اور کانے جانوروں کی قربانی نہ کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4380]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا جانور قربانی میں ذبح نہ کیا جائے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا چرا ہوا ہو، یا اس میں سوراخ ہو یا وہ آنکھ سے کانا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4377 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
حدیث نمبر: 4381
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَنَّ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ، وَالْأُذُنَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4381]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ غور سے دیکھیں (کہ ان میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہ ہو)۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الضحایا 9 (1503)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3143)، (تحفة الأشراف: 1064)، مسند احمد (1/104) سنن الدارمی/الأضاحی 3 (1994) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
12. بَابُ: الْعَضْبَاءِ
باب: ٹوٹی سینگ والے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4382
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفَيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ". فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: نَعَمْ، إِلَّا عَضَبَ النِّصْفِ، وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (راوی قتادہ کہتے ہیں): میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا: ہاں، جس جانور کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4382]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔“ یہ بات سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ جانور ہے جس کا نصف یا نصف سے زیادہ سینگ ٹوٹا ہوا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا6(2805)، سنن الترمذی/الضحایا9(1504)، سنن ابن ماجہ/الضحایا8(3145)، (تحفة الأشراف: 10031)، مسند احمد (1/83، 101، 109، 127، 129، 137) (ضعیف) (اس کے راوی ’’جری‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن سعید بن المسیب کے قول کی سند صحیح ہے کیونکہ اس میں ’’جری‘‘ نہیں ہیں)»
وضاحت: ۱؎: سعید بن مسیب کا قول قتادہ نے نقل کیا ہے اور قتادہ مدلس ہیں لیکن انہوں نے سعید بن المسیب سے اپنی بات نقل کی ہے تو اس طرح حدیث بیان کرنے کی صراحت کر دی ہے، اس لیے سعید بن المسیب کے قول کی روایت صحیح ہے اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی جائز نہ ہونے کی بات اس جانور کے بارے میں ہے جس کا سینگ آدھے سے زیادہ ٹوٹا ہو، نیز دیکھئیے حاشیہ حدیث نمبر: ۴۳۷۴۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
13. بَابُ: الْمُسِنَّةِ وَالْجَذَعَةِ
باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4383
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ، وَأَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي النُّفَيْلِيَّ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ , فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف مسنہ ذبح کرو سوائے اس کے کہ اس کی قربانی تم پر گراں اور مشکل ہو تو تم بھیڑ میں سے جذعہ ذبح کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4383]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قربانی میں صرف «مُسِنَّة» جانور ہی ذبح کرو الا یہ کہ تمہیں «مُسِنَّة» ملنا مشکل ہو تو پھر تم بھیڑ کا «جَذَعَة» ذبح کر سکتے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 2 (1962)، سنن ابی داود/الضحایا 5 (2797)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 7 (3141)، (تحفة الأشراف: 2715)، مسند احمد (3/312، 327) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مُسِنّہ» : وہ جانور ہے جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، اور یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں داخل ہو گیا ہو، اور گائے اور بیل میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ دو سال پورے کر کے تیسرے میں داخل ہو گئے ہوں، اور بکری اور بھیڑ میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ ایک سال پورا کر کے دوسرے میں داخل ہو جائیں، اور جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہو چکا ہو، (محققین اہل لغت اور شارحین حدیث کا یہی صحیح قول ہے، دیکھئیے مرعاۃ شرح مشکاۃ المصابیح) لیکن یہاں «مسنہ» سے مراد «مسنۃ من المعز» (یعنی دانت والی بکری) مراد ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں «جذعۃ من الضان» (ایک سال کا دنبا) لایا گیا ہے، یعنی: دانت والی بکری ہی جائز ہے، جس کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ چکے ہوں ایک سال کی بکری جائز نہیں، ہاں اگر دانت والی بکری میسر نہ ہو تو ایک سال کا دنبہ جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4384
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بکریاں دیں، صرف ایک سال کی بکری بچ رہی۔ اس کا ذکر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کر لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4384]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں کہ صحابہ میں تقسیم کر دیں، آخر میں ایک «جَذَعَة» (بکری کا ایک سالہ بچہ، یعنی میمنا) بچ گیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو! تم اس کی قربانی کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، الشرکة 12 (2500)، الأضاحی 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (1500)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3138)، (تحفة الأشراف: 9955)، مسند احمد (4/149، 152)، سنن الدارمی/الأضاحی 4 (1997)، ویأتی فیما یلی: 4385، 4386 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «عتود» ایک سال کی بکری کو کہتے ہیں۔ «جذعہ» بھی اسی معنی میں ہے، پس اگلی دونوں روایتوں میں جو «جذعہ» کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے «جذعۃ من المعز» یعنی بکری کا ایک سالہ بچہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ یا ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو مجبوری کے تحت ایک سال کی بکری کی اجازت خصوصی طور سے دی تھی ورنہ قربانی میں اصل دانتا ہوا جانور ہی جائز ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ۴۲۸۳ میں گزرا۔ ۲؎: ”تم اسے ذبح کر لو“ یعنی صرف تمہارے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4385
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ؟ فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، میرے حصے میں ایک جذعہ آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے حصے میں تو ایک جذعہ آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسی کی قربانی کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4385]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم فرمائے۔ میرے لیے ایک جذعہ رہ گیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے جذعہ بچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہی قربان کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأضاحي 2 (5547)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (100م)، (تحفة الأشراف: 9910) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه