🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ: مَا تُجْزِئُ عَنْهُ الْبَدَنَةُ فِي الضَّحَايَا
باب: اونٹ کی قربانی کتنے لوگوں کی طرف سے کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4396
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ". قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَحَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ عَنْهُ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کی تقسیم کے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے غالب یقین یہی ہے کہ میں نے اسے سعید بن مسروق (سفیان ثوری کے والد) سے سنا ہے اور اسے مجھ سے سفیان نے ان سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4396]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت تقسیم فرماتے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا کرتے تھے۔ (راویِ حدیث امام) شعبہ نے یہ حدیث کی سند سے بیان کی ہے، یعنی شعبہ یہ حدیث سفیان ثوری سے اور وہ اپنے باپ (سعید بن مسروق) سے بیان کرتے ہیں، تاہم امام شعبہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ میں نے یہ حدیث (سفیان ثوری کے واسطے کے بغیر) اس (سفیان) کے والد محترم سعید بن مسروق سے بھی سنی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ قربانی کا دن آ گیا، ہم ایک اونٹ میں دس دس لوگ اور ایک گائے میں سات سات لوگ شریک ہوئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4397]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، قربانیوں کا وقت آ گیا تو ہم اونٹ میں دس اور گائے میں سات افراد شریک ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج66(905)، والأضاحی8(1501)، سنن ابن ماجہ/الأضاحی5(3131)، مسند احمد 1/275 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کچھ علماء قربانی میں اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز قرار دیتے ہیں، جب کہ جمہور علماء صحیح مسلم میں مروی جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث (حج ۶۱، ۶۲) کی بنیاد پر اونٹ میں بھی صرف سات آدمیوں کی شرکت کے قائل ہیں، حالانکہ دونوں (جابر و ابن عباس رضی اللہ عنہم کی) حدیثوں کا محمل اور مصداق الگ الگ ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث قربانی میں شرکت کے سلسلے میں ہے جب کہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہدی (حج کی قربانی) سے متعلق ہے، دونوں (قربانی و ہدی) کو ایک دوسرے پر قیاس کرنے کی وجہ سے علماء میں مذکورہ اختلاف واقع ہوا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے کہ دونوں کا محل الگ الگ ہے، (یعنی قربانی میں اونٹ دس کی طرف سے کافی ہے اور ہدی میں صرف سات کی طرف سے) علامہ شوکانی نے یہی بات لکھی ہے (کمافی نیل الا ٔوطار)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: مَا تُجْزِئُ عَنْهُ الْبَقَرَةُ فِي الضَّحَايَا
باب: ایک گائے میں کتنے لوگوں کی طرف سے قربانی کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4398
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَنَشْتَرِكُ فِيهَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج) تمتع کر رہے تھے تو ہم سات لوگوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کرتے اور اس میں شریک ہوتے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4398]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا تو گائے سات افراد کی طرف سے ذبح کرتے تھے اور اس میں شریک ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 62(1318)، سنن ابی داود/الأضاحی7(2807)، (تحفة الأشراف: 2435)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 66 (904)، موطا امام مالک/الضحایا 5 (9)، مسند احمد (3/318)، سنن الدارمی/الأضاحی 5 1998) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: ذَبْحِ الضَّحِيَّةِ قَبْلَ الإِمَامِ
باب: امام سے پہلے قربانی کے جانور کے ذبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4399
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. ح وَأَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الْآخَرُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَالَ:" مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ"، فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي، وَأَهْلَ دَارِي، أَوْ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ:" اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن کھڑے ہو کر فرمایا: ”جس نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا، ہماری جیسی نماز پڑھی اور قربانی کی تو وہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے۔ یہ سن کر میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے قربانی میں جلدی کر دی تاکہ میں اپنے بال بچوں اور گھر والوں - یا اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں - کو کھلا سکوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوبارہ قربانی کرو“، انہوں نے عرض کیا: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ۲؎ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اسی کو ذبح کرو، یہ ان دو کی قربانی سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد جذعے کی قربانی کسی کی طرف سے کافی نہیں ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4399]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ کے دن (خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جو شخص ہمارے قبلے کی طرف منہ کرتا ہے، ہماری طرح نماز پڑھتا ہے اور ہماری طرح قربانی کرتا ہے تو وہ اپنی قربانی ذبح نہ کرے حتیٰ کہ نماز عید پڑھ لے۔“ میرے ماموں کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے تو اپنی قربانی جلدی ذبح کرلی تاکہ میں اپنے گھر والوں اور محلے دار پڑوسیوں کو (جلدی) گوشت کھلاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور قربانی ذبح کر۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک مادہ بچہ ہے جو مجھے گوشت کے لحاظ سے دو بکریوں سے بھی اچھا لگتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہی ذبح کر دے۔ وہ تیری دو قربانیوں میں سے اچھی قربانی ہو گی۔ لیکن تیرے علاوہ کسی کی طرف سے «جَذَعَةٌ» قربانی میں کفایت نہیں کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: امام سے پہلے یعنی عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا کیا حکم ہے؟ ۲؎: «عناق لبن» سے مراد وہ بکری جو ابھی ایک سال کی نہیں ہوئی ہو، اور حدیث نمبر ۴۳۸۴ میں اسی تناظر میں «عتود» کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں بکری کا وہ بچہ جو ایک سال ہو چکا ہو مگر دانتا ہوا نہ ہو، اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کی اجازت صرف مذکورہ دونوں صحابہ کے لیے دی گئی، اور عام حالات میں عام مسلمانوں کے لیے صرف دانتا جانور ہی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4400
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ، وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً، خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے ہماری جیسی نماز پڑھی اور ہماری جیسی قربانی کی تو اس نے قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ یہ سن کر ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کر چکا ہوں، دراصل میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی اور کھایا اور اپنے بال بچوں نیز پڑوسیوں کو کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کی بکری ہے“۔ وہ بولے: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو گوشت کی ان دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میرے لیے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4400]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن نمازِ عید کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہم جیسی نماز پڑھتا ہے اور ہم جیسی قربانی کرتا ہے، اس نے تو صحیح قربانی کی اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی کر دی تو وہ گوشت والی بکری ہے (وہ صرف گوشت کے لیے ذبح کیا گیا جانور متصور ہو گا، قربانی نہیں ہو گی)۔“ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی ذبح کر دی تھی۔ میں نے سمجھا کہ یہ سارا دن ہی کھانے پینے کے لیے ہے، اس لیے میں نے جلد بازی کی۔ خود بھی گوشت کھایا اور گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت والی بکری ہو گئی (قربانی نہیں ہوئی)۔“ انہوں نے عرض کی: میرے پاس ایک «جَذَعَة» بکری ہے جو گوشت کے لحاظ سے دو بکریوں سے بھی بہتر ہے تو کیا وہ مجھ سے کفایت کر جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن وہ تیرے علاوہ کسی اور سے کفایت نہیں کرے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کے لیے قربانی کا ثواب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4401
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، فَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہے، اسے چاہیئے کہ پھر سے قربانی کرے“، ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں ہر ایک کی گوشت کی خواہش ہوتی ہے، اور پھر انہوں نے پڑوسیوں کا حال بیان کیا، گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق فرمائی۔ انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ ہے، تو انہیں اس کی رخصت دی گئی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے ہے یا نہیں؟ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4401]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں کے دن فرمایا: ”جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کرلی ہے وہ دوبارہ ذبح کرے۔“ ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ دن ایسا ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش ہوتی ہے، پھر اس نے اپنے پڑوسیوں کی حالت شاقہ (محتاجی اور فقر و فاقے) کا ذکر کیا۔ ایسے لگتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تصدیق فرما رہے ہیں۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ (بکری کا چھوٹی عمر کا بچہ) ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ نے اسے وہی جذعہ ذبح کرنے کی رخصت دی۔ میں نہیں جانتا کہ یہ رخصت اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی پہنچی یا نہیں، پھر آپ دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1589 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4402
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ"، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ , هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ:" اذْبَحْهَا". فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.
ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ذبح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا: ”اسی کو ذبح کر دو“۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4402]
حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنی قربانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ذبح کر دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ بکری ہے جو میرے نزدیک (گوشت کے لحاظ سے) دو مسنوں سے بھی بہتر ہے، اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11722)، موطا امام مالک/الضحایا 3 (4)، مسند احمد (3/466 و4/45)، سنن الدارمی/الأضاحی7 (2006) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں 1564 اور 4400 پر گزری ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4403
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْحًى ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا النَّاسُ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن کچھ قربانیاں کیں، تو ہم نے دیکھا کہ لوگ نماز عید سے پہلے ہی اپنے جانور ذبح کر چکے ہیں، جب آپ فارغ ہو کر لوٹے تو انہیں دیکھا کہ وہ نماز عید سے پہلے ہی ذبح کر چکے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا یہاں تک کہ ہم نے نماز عید پڑھ لی تو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4403]
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانیاں ذبح کیں تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز سے پہلے ہی اپنی قربانیاں ذبح کر چکے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ کو پتہ چلا کہ وہ نماز سے پہلے ہی ذبح کر چکے ہیں تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے قربانی نماز سے پہلے ذبح کی ہے، وہ اس کی جگہ اور قربانی ذبح کرے اور جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح نہیں کی، وہ اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4373 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: إِبَاحَةِ الذَّبْحِ بِالْمَرْوَةِ
باب: دھاردار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4404
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّهُ أَصَابَ أَرْنَبَيْنِ، وَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهِ، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اصْطَدْتُ أَرْنَبَيْنِ , فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ , أَفَآكُلُ؟، قَالَ:" كُلْ".
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4404]
حضرت محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دو خرگوش پکڑے لیکن ان کو ذبح کرنے کے لیے انہیں کوئی چھری وغیرہ نہ ملی تو انہوں نے ان کو ایک تیز دھار پتھر سے ذبح کر دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کیے تھے لیکن مجھے کوئی چھری وغیرہ نہیں ملی جس سے ذبح کرتا، تو میں نے ایک تیز دھار پتھر سے ان کو ذبح کر دیا، کیا میں ان کو کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کھا لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4318 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاضِرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِالْمَرْوَةِ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بھیڑیئے نے ایک بکری کے جسم میں دانت گاڑ دیے لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4405]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیے، لوگوں نے (اس کو چھڑانے کے بعد) اسے ایک تیز دھار پتھر سے ذبح کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الذبائح 5 (3176)، (تحفة الأشراف: 3718)، مسند احمد (5/183) ویأتی عند المؤلف برقم 4412(صحیح) (اس کے راوی ’’حاضر‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں