🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ: ذِكْرِ الْمُنْفَلِتَةِ الَّتِي لاَ يُقْدَرُ عَلَى أَخْذِهَا
باب: بدک کر بھاگ جانے والے جانور جس کو پکڑنا ممکن نہ ہو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4416
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ إِذَا ذَبَحَ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور جب تم ذبح کرو تو اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو اور ذبیحہ کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4416]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسنِ سلوک فرض قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو (قصاص وغیرہ میں) قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ اور ذبح کرتے وقت اپنی چھری کو تیز کرو اور اپنے ذبیحہ کو جلدی نجات دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: حُسْنِ الذَّبْحِ
باب: ذبیحہ کو اچھی طرح ذبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4417
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو ہر چیز میں فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح کرو، اور تم اپنی چھریاں تیز کر لیا کرو اور جانور کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4417]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز سے حسنِ سلوک کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے، اس لیے جب تم کسی کو قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ ذبح کرنے والا شخص اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے مذبوح جانور کو راحت پہنچائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو اور تم اپنی چھریاں تیز کر لو تاکہ تم اپنے جانور کو آرام دے سکو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4418]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، ذبح کرنے والا شخص اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، لِيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو۔ تم اپنی چھریاں تیز کر لو اور جانور کو آرام دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4419]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دو باتیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھیں، (آپ نے فرمایا:) ”یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، ذبح کرنے والا اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبح ہونے والے جانور کو کم سے کم تکلیف پہنچائے (مطلب یہ کہ یکبارگی ذبح کرے، دیر نہ لگائے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: وَضْعِ الرِّجْلِ عَلَى صَفْحَةِ الضَّحِيَّةِ
باب: قربانی کے جانور کے پہلو پر (ذبح کے وقت) پاؤں رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4420
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ:" ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، يُكَبِّرُ، وَيُسَمِّي، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ". قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟، قَالَ: نَعَمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ «اللہ اکبر» اور «بسم اللہ» پڑھ رہے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں اور اپنا پاؤں ان (کی گردن) کے پہلو پر رکھے ہوئے ہیں۔ (شعبہ کہتے ہیں) میں قتادہ نے عرض کیا: کیا آپ نے اسے انس سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4420]
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے (سیاہ و سفید)، سینگوں والے مینڈھے قربانی فرمائے۔ ذبح فرماتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دست مبارک سے انہیں ذبح فرماتے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ (شعبہ نے کہا) میں نے (قتادہ سے) کہا: کیا آپ نے ان (حضرت انس رضی اللہ عنہ) سے سنا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأضاحي 9 (5558)، صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 1 (3120)، (تحفة الأشراف: 1250)، مسند احمد (3/99، 115، 118، 183، 222، 255، 272، 278، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1988)، ویأتي عند المؤلف 4421، 4422) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: تَسْمِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الضَّحِيَّةِ
باب: ذبح کے وقت «بسم اللہ» پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4421
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَكَانَ يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے ذبح کرتے اور آپ «بسم اللہ» پڑھتے اور تکبیر بلند کرتے ۱؎، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کر رہے ہیں اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4421]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سیاہ و سفید، سینگوں والے مینڈھے ذبح کرتے تھے، آپ «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دست مبارک سے انہیں ذبح کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4420 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہتے تھے، «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں کہتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: التَّكْبِيرِ عَلَيْهَا
باب: جانور ذبح کے وقت «اللہ اکبر» کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4422
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ" رَأَيْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ، يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ , كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے دو سینگ دار اور چتکبرے مینڈھے ذبح کر رہے ہیں، اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔ آپ (ذبح کرتے ہوئے) «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہہ رہے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4422]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو سیاہ و سفید، سینگوں والے مینڈھوں کو «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے ہوئے اپنے دست مبارک سے ذبح فرما رہے تھے اور اپنا قدم مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4420 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: ذَبْحِ الرَّجُلِ أُضْحِيَتَهُ بِيَدِهِ
باب: اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4423
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ:" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، يَطَؤُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی جو سینگ دار اور چتکبرے تھے۔ آپ ان (کی گردن) کے پہلو پر قدم رکھ کر انہیں ذبح کر رہے تھے اور «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4423]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سیاہ و سفید دو مینڈھے «بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے ہوئے قربان فرمائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو پر پاؤں مبارک رکھا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، (تحفة الأشراف: 1191) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، لیکن جائز یہ بھی ہے کہ دوسرے سے کروائے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: ذَبْحِ الرَّجُلِ غَيْرَ أُضْحِيَتِهِ
باب: دوسروں کی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4424
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ بُدْنِهِ بِيَدِهِ، وَنَحَرَ بَعْضَهَا غَيْرُهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4424]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے کچھ اونٹ خود نحر فرمائے اور کچھ اونٹ کسی اور نے نحر کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2626) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: نَحْرِ مَا يُذْبَحُ
باب: ذبح کیے جانے والے جانور کو نحر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4425
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ:" نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ"، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ. خَالَفَهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ قتیبہ نے ( «فاکلناہ» کے بجائے) «فاکلنا لحمہ» ”پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا“ کہا۔ عبدہ بن سلیمان نے سفیان کی مخالفت کی ہے اور اسے یوں روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4425]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں گھوڑا نحر کیا اور پھر اس کا گوشت کھایا۔ قتیبہ (استاد) نے کہا: «فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ» ”پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا۔“ عبدہ بن سلیمان نے اس کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4411 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں