سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: إِبَاحَةِ الذَّبْحِ بِالْعُودِ
باب: لکڑی سے ذبح کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأَذْبَحُهُ بِالْمَرْوَةِ، وَبِالْعَصَا؟، قَالَ:" أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنا کتا چھوڑتا، اور شکار کو پا لیتا ہوں، میں پھر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے میں ذبح کروں تو کیا میں دھاردار پتھر اور لکڑی سے ذبح کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4406]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور شکار کو پکڑ لیتا ہوں لیکن مجھے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے ذبح کر سکوں تو کیا میں اسے تیز دھار پتھر یا لکڑی سے ذبح کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے بھی ہو سکے، خون بہا دے، البتہ اللہ عزوجل کا نام ضرور لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4309 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4407
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ، فَعُرِضَ لَهَا , فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ، أَوْ حَدِيدٍ؟، قَالَ: لَا، بَلْ خَشَبٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ , فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی، اسے عارضہ لاحق ہو گیا، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کر دیا۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا: لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی؟ کہا: لوہا نہیں، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے، پھر اس انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4407]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کی اونٹنی احد کی طرف چر رہی تھی کہ وہ قریب المرگ ہو گئی، اس انصاری نے اسے ایک نوک دار کھونٹے کے ساتھ نحر (ذبح) کر دیا، (راویِ حدیث ایوب یا جریر نے کہا) میں نے پوچھا کہ وہ کھونٹا لکڑی کا تھا یا لوہے کا؟ استاد نے کہا: نہیں، وہ لکڑی کا تھا، پھر وہ انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4184) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
20. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الذَّبْحِ، بِالظُّفْرِ
باب: ناخن سے ذبح کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4408
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ، فَكُلْ إِلَّا بِسِنٍّ، أَوْ ظُفُرٍ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، سوائے اس کے جو دانت اور ناخن سے ذبح کیا گیا ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4408]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو تو (وہ ذبیحہ) کھا لے مگر دانت اور ناخن کا ذبح نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
21. بَابُ: فِي الذَّبْحِ بِالسِّنِّ
باب: دانت سے ذبح کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4409
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا، أَوْ ظُفُرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو) تو اسے کھاؤ، جب تک کہ وہ آلہ دانت یا ناخن نہ ہو، اور جلد ہی تمہیں اس سلسلے میں بتاؤں گا، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4409]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے(اور وہاں جانور بھی بطورِ غنیمت ملیں گے) اور ہمارے پاس چھریاں وغیرہ نہ ہوں تو(ہم جانور کیسے ذبح کریں)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے تو(ذبیحہ حلال ہے) کھا سکتے ہو بشرطیکہ وہ چیز ناخن یا دانت نہ ہو۔ اور میں تمہیں اس کی وجہ بھی بیان کرتا ہوں کہ دانت تو ایک ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
22. بَابُ: الأَمْرِ بِإِحْدَادِ الشَّفْرَةِ
باب: چھری تیز کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 4410
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: اثْنَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4410]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو باتیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب یاد رکھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے کہ ہر چیز پر احسان کیا جائے، لہٰذا جب تم (کسی انسان کو قصاص میں یا کسی موذی جانور اور درندے وغیرہ کو) قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو۔ اور جب تم ذبح کرنے لگو (کسی پرندے یا حلال جانور کو) تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ اور ذبح کرتے وقت چھری تیز کر لیا کرو اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 11 (1955)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2815)، سنن الترمذی/الدیات 14(1409)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 3 (3170)، (تحفة الأشراف: 4817)، مسند احمد (4/123، 124، 125)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4416- 4419 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اسلام میں کسی بھی جاندار کے ساتھ احسان (اچھا برتاؤ کرنے) کا ثبوت ملتا ہے، پس جو مذہب جانوروں کے ساتھ ذبح کی حالت میں بھی احسان کا داعی ہے وہ انسانی جانوں کے ساتھ کیسے سلوک کا حکم دے گا واضح ہے۔ سبق لیں اسلام پر تشدد کا الزام لگانے والے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
23. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي نَحْرِ مَا يُذْبَحُ وَذَبْحِ مَا يُنْحَرُ
باب: ذبح والے جانور کو نحر کرنے اور نحر والے جانور کو ذبح کرنے کی اجازت۔
حدیث نمبر: 4411
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ الْعَسْقَلَانِيُّ عَسْقَلَانُ بَلْخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ:" نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا پھر ہم نے اسے کھایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4411]
حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں گھوڑا نحر کیا، پھر اسے کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 24(5510)، 27(5519)، صحیح مسلم/الصید6(1942)، سنن ابن ماجہ/الذبائح12(3190)، (تحفة الأشراف: 15746)، مسند احمد (6/345، 346، 353)، سنن الدارمی/الأضاحی22 (2035)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4425، 4426 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گھوڑا نحر کیے جانے والے جانوروں میں سے نہیں ہے پھر بھی آپ کے سامنے نحر کیا گیا، اس سے ذبح کیے جانے والے جانورں کو نحر کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، تو اس کے برعکس سے جائز ہو گا یعنی ذبح کئے جانے والے جانورں کو نحر بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ صرف جواز کی صورت ہے، زیادہ اچھا یہی ہے کہ نحر کئے جانے والے جانورں کو پہلے نحر ہی کیا جائے، اور پھر ذبح کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانوروں کو ذبح کرنا ہی افضل ہے، (ذبح کئے جانے والے جانور جیسے: بکری، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا، مرغی، اور نحر کئے جانے والے جانور جیسے: گائے، بیل، گھوڑا اور اونٹ) نحر میں پہلے دھاردار ہتھیار سے جانور کے سینے کے اوپری حصہ کے سوراخ میں مارا جاتا ہے، جب سارا خون نکل کر جانور ساکت ہو جاتا ہے تب گرا کر ذبح کیا جاتا ہے، نحر کے ذریعہ بڑے جانور پر آسانی سے قابو پا لیا جاتا ہے اس لیے ان کے حق میں نحر مشروع ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
24. بَابُ: ذَكَاةِ الَّتِي قَدْ نَيَّبَ فِيهَا السَّبُعُ
باب: جس جانور میں درندہ دانت گاڑ دے ہو اسے ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ:" أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دئیے، لوگوں نے اسے دھاردار پتھر سے ذبح کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4412]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیے، لوگوں نے (اس سے چھڑا کر) اس کو ایک تیز دھار پتھر سے ذبح کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4405 (صحیح) (اس کے راوی ”حاضر بن مہاجر“ لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
25. بَابُ: ذِكْرِ الْمُتَرَدِّيَةِ فِي الْبِئْرِ الَّتِي لاَ يُوصَلُ إِلَى حَلْقِهَا
باب: گڈھے میں گر جانے والی بکری جس کی گردن نہیں پکڑی جا سکتی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4413
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ، وَاللَّبَّةِ؟، قَالَ:" لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ".
ابو العشراء کے والد (مالک دارمی رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح «ذکاۃ» صرف حلق اور سینے میں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4413]
حضرت ابو العشراء کے والد محترم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ذبح صرف حلق اور سینے کے گڑھے ہی میں ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس کی ران میں نیزہ یا برچھی وغیرہ مار دے تو بھی کفایت کر جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحی16(2825)، سنن الترمذی/الصید13(1481)، سنن ابن ماجہ/الذبائح9(3813)، (تحفة الأشراف: 15694)، مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/الأضاحی12 (2015) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابوالعشراء“ مجہول ہیں، لیکن حدیث نمبر 4302 سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2825) ترمذي (1481) ابن ماجه (3184) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
26. بَابُ: ذِكْرِ الْمُنْفَلِتَةِ الَّتِي لاَ يُقْدَرُ عَلَى أَخْذِهَا
باب: بدک کر بھاگ جانے والے جانور جس کو پکڑنا ممکن نہ ہو کا بیان۔
حدیث نمبر: 4414
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ"، قَالَ: فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ، أَوْ قَالَ: الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا , فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں، یا یوں فرمایا: ان اونٹوں میں، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی (پکڑنے میں) تھکا دے، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4414]
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو گا، ہمارے پاس چھری قسم کی کوئی چیز نہیں (تو ذبح کیسے کریں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کر دیا جائے تو (ایسا ذبیحہ) کھایا جا سکتا ہے، علاوہ دانت اور ناخن کے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت میں اونٹ حاصل ہوئے، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا، ایک آدمی نے اس کو (پیچھے سے) تیر مارا جس سے وہ رک گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گھریلو جانور یا اونٹ بھی کبھی جنگلی جانوروں کی طرح بے قابو ہو جاتے ہیں، لہٰذا جو جانور تم سے بے قابو ہو جائے، اس سے یہی سلوک کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4415
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ"، وَأَصَبْنَا نَهْبَةَ إِبِلٍ، أَوْ غَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کل دشمن سے ملیں گے، اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”جس آلہ سے خون بہہ جائے اور وہ دانت ناخن نہ ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، اور جلد ہی میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے“، پھر مال غنیمت میں ہمیں کچھ بکریاں یا اونٹ ملے، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے ایک تیر اسے مارا جس سے وہ رک گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں کچھ جنگلی وحشیوں کی طرح بدکنے والے ہیں، لہٰذا جب تم کو ان میں سے کوئی تھکا دے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4415]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل دشمن سے ہماری ملاقات ہو گی اور ہمارے پاس چھری (وغیرہ کچھ) نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے بشرطیکہ اللہ کا نام لیا گیا ہو، اسے کھا سکتے ہو۔ علاوہ دانت اور ناخن کے۔ اور اس کی وجہ بھی میں تمہیں بیان کرتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“ ہمیں اس جنگ میں اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں حاصل ہوئیں، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا تو ایک آدمی نے تیر مار کر اسے روک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ بھی کبھی جنگلی جانوروں کی طرح بھاگ اٹھتے ہیں۔ جب وہ تم سے بے قابو ہو جائیں تو تم ان سے یہی سلوک کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن